17 / جنوری / 2012 | خبر نامہ | 2 comments || از طرف: علیم خان فلکی

پچھلے ماہ "جہیز مٹاؤ" مہم کے تحت مجھے کلکتہ اور اطراف و اکناف کے علاقوں کا دورہ کرنے اور مسلمانوں کے حالات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اور اس سے پہلے مہاراشٹرا اور کرناٹک کے مختلف علاقوں جیسے احمدنگر، ہنگولی، اورنگ آباد، پربھنی، ناندیڑ، ممبرا اور گلبرگہ وغیرہ میں بھی اسی مہم کے تحت کئی طرح کے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ اور اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی کہ اب ہر ریاست میں ایک "مجلس اتحادالمسلمین" کی موجودگی ناگزیر ہے۔
بنگال میں مسلمانوں کا فیصد تناسب 25% ہے اور کلکتہ میں 20%۔ ممبرا میں مسلمان 75%ہیں اور باقی مذکورہ علاقوں میں 30تا 35فیصد ہیں۔ اس کے باوجود ان تمام علاقوں سے مسلم دشمن پارٹیاں ہی جیت کر اسمبلی اور پارلیمنٹ میں جاتی ہیں۔ جن مسلمانوں کو محض سیاسی مصلحت کی وجہ سے پارٹیاں اگر ٹکٹ دے بھی دیتی ہیں اور وہ اگر جیت کراسمبلی یا پارلیمنٹ میں آبھی جاتے ہیں تو ان کی سوچ اور ان کی حرکتیں یہ واضح کرتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس کامپلکس سے باہر نہیں نکال سکتے کہ وہ خود اپنی پارٹی میں دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پارٹی کے ایجنڈے سے ہٹ کر اگر انہوں نے کبھی آواز اٹھائی تو ان کا دوبارہ اسمبلی یا پارلیمنٹ میں داخلہ ممکن نہیں ہے۔ پارٹی صدر اوردوسرے بااثر اشخاص کی ماتحتی اور ذہنی غلامی ان کے عمل سے اور تقریروں سے صاف ظاہر ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ خود مولانا ابوالکلام آزاد جیسے عظیم قائد کو بھی بجائے ان کے اپنے حلقے سے کھڑے ہونے کے جا کر کسی مسلمان اکثریت والے علاقے سے کھڑا ہونے کیلئے کہا گیا تھا۔ جس ملک میں ہر جگہ ریڈی راؤ کمّہا لِنگا یادو جادو جاٹ ٹھاکر ہریجن شیڈول کاسٹ شیڈول ٹرائب جیسی ہزاروں ذاتیں اپنی اپنی سیٹ کیلئے ایک دوسرے سے نبردآزما ہیں وہاں مسلمانوں کو کون داخل ہونے دے گا؟ اور تھوڑی بہت آبادی مسلمانوں کی جہاں ہوتی ہے وہاں سے چھوٹی چھوٹی جماعتیں یا آزاد امیدوار کے طور پر مسلمان جیت تو نہیں سکتے لیکن ووٹ کاٹنے کے کام ضرور آتے ہیں۔ جس سے خود مسلمانوں میں تفریق اور تقسیم، آپسی رقابتیں اور بڑھ جاتی ہیں۔
سید شہاب الدین جیسے مدبر اور دانشور سیاستداں بھی مسلمانوں کے سیاسی مسائل پر جب گفتگو کرتے تھے تو چندر شیکھر جی اور وی پی سنگھ جی ہی کے مرہون منت رہا کرتے تھے۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کے مسلم ورکر سے ملئے، اس کی باتوں سے یہی جھلکتا ہے کہ اگر لالوجی، ملائم جی، ممتا جی چاہیں گی تو یہ ہو جائے گا۔
اپنے حقوق اور مطالبات منوانے کا ان کا اپناعزم اور حوصلہ بھی اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ پارٹی لیڈر اگر اس ہمت کی اجازت دیں۔ کلکتہ کی اہم شخصیتوں سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی۔ حاصل یہ تھا کہ جب تک دلت طبقات یا پھر کانگریس یا کموینسٹ ساتھ نہ دیں کوئی نئی جماعت نہیں چل سکتی۔ حال ہی میں انصاف پارٹی اور ایسی ہی کچھ اور تحریکوں کے نام اور قیام سننے میں آیا اور ان کے کچھ جلسوں کے بارے میں بھی پڑھا۔ وہاں بھی یہی احساس کمتری ہے کہ مسلمان اپنے بل بوتے پر کچھ نہیں کرسکتے انہیں جب تک دلت اور ہندو عوام بیساکھیاں فراہم نہ کریں ان کا چلنا مشکل ہے۔ یہ محض احساس کمتری ہے۔ ایسی اگر کوئی نئی پارٹی وجود میں آتی بھی ہے تو پھر وہی نمبروں کے کھیل میں مسلمانوں کی پوزیشن وہی ہوگی جو کانگریس وغیرہ میں ہے۔ اکثریت جس فرقے کی ہوگی لازماً وہی فرقہ اختیارات کا حامل ہوگا اور ا قلیت میں رہنے والے نہ کبھی اختیار رکھتے ہیں نہ زیادہ دن ان کا ساتھ چل سکتا ہے۔ جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دوسری ذاتوں کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ اس غلط فہمی سے باہر آئیں کہ ان کو اقتدار میں برابر کا حصہ بھی مل سکتا ہے۔ اقتدار کا نشہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بار اقتدار میں آنے کے بعد اپنے باپ سے بھی مصلحت برتنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

یہ ہے تو ایک لطیفہ لیکن حقیقت واقعہ ہے، غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک بار گدھوں نے سوچا کہ ہم سب کو مل کر ایک پارٹی بنانا چاہئے اور شیر سے الائنس کرنی چاہئے۔ اس سے ایک طرف تو ہم شیر کے ہاتھوں شکار ہونے سے بچ جائیں گے اور دوسری طرف شکار میں سے ہم کو برابر کا حق بھی ملے گا۔ چنانچہ انہوں نے ایک پارٹی کی تشکیل کی اور شیر کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ہم شکار کو گھیرنے میں آپ کی مل کر مدد کریں گے اور جو بھی شکار ہوگا آپس میں تقسیم کریں گے۔ شیر نے کہا ٹھیک ہے۔ بیٹھی جگہ پر اس کو خود جب شکار پیش کیا جا رہا ہے تو وہ انکار کیسے کر سکتا تھا۔ گدھوں نے خوب محنت کی اور لومڑیوں اور بکریوں کو گھیر کر شکار کیا اور شیر کے سامنے پیش کیا۔ شیر بہت خوش ہوا۔ اس نے شکار کے تین حصے کئے اور کہا :
"اس میں سے ایک حصہ تو جنگل کے راجہ کا ہے جو کہ میں ہوں۔ دوسرا حصہ میرا ہے کیونکہ میں آپ لوگوں کا سیاسی پارٹنر ہوں۔ اب رہا تیسرا حصہ تو اگر کسی میں ہمت ہو تو ہاتھ لگا کر بتائے"۔
اقلیت میں رہ کر جب آپ اکثریت کے ساتھ اس قسم کے معاہدے کرتے ہیں تو یہی حشر ہوتا ہے۔ اور عربوں کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ پرویز مشرف، حسنی مبارک، زین العابدین، عبداللہ صالح کل تک تو اسی امریکی الائنس کا حصہ تھے جو افغانستان اور عراق میں اپنا شکار کررہا تھا۔ قذافی نے آخری وقتوں میں تو امریکی و یوروپی ملکوں سے تعلقات بحال کرکے انہیں رام کرنے کی کوشش بھی شروع کردی تھیں۔ آج جو عرب قومیں ملکِ شام میں ناٹو اور امریکی مداخلت پر خاموش ہیں اور میڈیا میں ایران، شام اور فلسطینی حکومتوں کی کردار کشی میں امریکہ کا ساتھ دے رہی ہیں کل یہ تمام بھی ایک ایک کر کے ان گدھوں کی طرح کھڑی ہونے والی ہیں جو آخر میں شیر کے صرف اس بات پر مشکور رہیں گے کہ اس نے ان کی جان بخش دی۔
اردو کی ایک کہاوت ہے "بل میں بل اپنا بل" اپنی جماعت بھی اپنے خاندان ہی کی طرح ہوتی ہے۔ غیروں کے ساتھ چاہے جتنی اچھی گزرے لیکن اپنا خاندان اپنا ہی ہوتا ہے۔ اپنی جماعت ہو تو اس سے صرف سیاسی فائدے نہیں ہوتے بلکہ یہ کسی نہ کسی طرح دین، قوم، زبان اور سماج کے لیے بھی آواز اٹھاتی ہیں۔ مسلم تاریخ کا کبھی کوئی ورق یاد دلاتی ہیں تو کبھی سیرت کا پیغام پہنچانے میں مددگار ہوتی ہیں۔ کانگریس کو ہم نے دیکھ لیا کہ ہمیشہ عین الکشن سے پہلے اسے کبھی مسلمانوں کیلئے کوٹہ یاد آتا ہے تو کبھی اردو۔ بی جے پی کو بھی عین الکشن سے پہلے درگاہیں یاد آتی ہیں تو انہیں ایسے چاپلوس مرشد بھی مل جاتے ہیں جو انہیں دستار اور تلوار پیش کرتے ہیں۔ انّا ہزارے کے پیچھے کھڑے تصویریں کھنچوانے والے ٹوپی اور شیروانیوں میں کھڑے نادان چمچے یہ بھول جاتے ہیں کہ انّا ہزارے گاندھی سمادھی پر سجدے کر کے جب اٹھتا ہے تو سب سے پہلے "بندے ماترم" کہتا ہے جو کہ ایک دہشت گردانہ ترانہ ہے۔
کمیونسٹوں نے بنگال میں کہا تھا کہ ہم نے کبھی بنگال میں کوئی گجرات ہونے نہیں دیا۔ لیکن تیس سالوں میں جسطرح انہوں نے مسلمانوں کو تعلیم، روزگار اور اوقافی جائدادوں سے محروم کیا اسکے سامنے گجرات بھی بہت چھوٹا لگتا ہے۔ یوپی ہو کہ ایم پی، بنگال ہو کہ کرناٹک، مسلمانوں کو اپنے ذاتی یا ملّی مسائل کے حل کیلئے بھیک مانگنی پڑتی ہے یا پھر رشوت۔ اور مسلمانوں سے رشوت لینا اور انہیں ہراساں کرنا آج ہندوتا ذہنیت کے افسروں کیلئے نہ صرف ثواب بلکہ قوم پرستی کی اعلیٰ خدمت کے برابر ہے۔

میں نے حیدرآباد میں مجلس کے صدر دفتر دارالسلام پر دیکھا کہ بے شمار مرد و خواتین قطار میں اسد اویسی اور اکبر اویسی کے پاس آتے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ کوئی نہ کوئی عرضی ہوتی ہے۔ کسی کا غیر ضروری طور پر تبادلہ کردیا گیا ہے تو کسی کا پاسپورٹ روک دیا گیا ہے، کسی کو پولیس غیر ضروری طور پر تنگ کر رہی ہے تو کسی کی زمین پر قبضہ ہو گیا ہے۔ اور میں نے دیکھا کہ دونوں بھائی بشمول دیگر ایم ایل ایز جس مستعدی اور دلیری سے کبھی راست کمشنر یا متعلقہ آفیسر سے بات کرتے ہیں تو کسی کیلئے فوری لیٹر لکھتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ ہر ایک کی مدد ہو۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر ان کی جگہ کوئی ریڈی یا راؤ، یادو یا چٹرجی ہوتے تو کیا اتنے بے شمار لوگوں کی مدد ممکن تھی۔ اگر ممکن بھی ہو تب بھی مسلمانوں کو ان کے سامنے حق مانگنے والی کی حیثیت سے نہیں بلکہ احسان یا بھیک مانگنے والوں کی طرح جا کر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
اسی طرح ہم نے دیکھا کہ جناب عابد علی خان صاحب کے دفتر پر نہ صرف بے شمار پریشان حال لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے بلکہ اس مرکز سے وہ بے شمار علمی، تعلیمی، زبان، کیریئر گائیڈنس وغیرہ کے ناقابل فراموش خدمات انجام دیئے جاتے ہیں کہ کبھی اساتذہ کو جمع کر رہے ہیں تو کبھی پورے ہند و پاک کے تمام اردو ایڈیٹروں کو کبھی علماء کو تو کبھی دانشوروں کو۔ اس طرح حمیتِ قوم کے فروغ کیلئے جناب زاہد علی خان صاحب، ظہیرالدین علی خان صاحب نے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے۔ سماجی اصلاح بالخصوص جہیز کے محاذ پر زاہد علی خان کی تحریریں اور مہمات نے اہم رول ادا کیا ہے۔ یہ اس وقت تک ناممکن تھا جب تک ان کے اپنے ذاتی اثر و رسوخ سیاست پر نہ ہوں۔

آج چند مفاد پرست حضرات بیچ میں لگائی بجھائی کر کے دونوں گروہوں میں اختلافات کو اور ہوا دے کر تماشہ ضرور کر رہے ہیں۔ لیکن ان شاء اللہ یہ اختلافات ایک نہ ایک دن ختم ہو جائیں گے تب آپ اندازہ لگایئے جب یہ حضرات انفرادی طور پر مسلمانوں کو اس قدر فائدہ پہنچارہے ہیں تو مل کر کتنا فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ حیدرآباد کی جیلوں سے معصوم نوجوانوں کو آزاد کروانے میں عابد علی خان صاحب، اویسی برادران، میجر قادری صاحب، سیول رائٹس کے لطیف صاحب وغیرہ کی مشترکہ کوششوں سے ہندوستان میں ایک عظیم مثال قائم ہوئی اور مسلمانوں کا وقار بلند ہوا۔ یہ سب مسلمانوں کی اپنی جماعت اور اپنی سوچ لے کر اٹھنے سے ممکن ہے ورنہ ہر ریاست میں آج بھی سینکڑوں بے گناہ مسلمان نوجوان بدترین ظلم کا شکار ہیں جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔

یہ ایک پیغام ہے یو۔پی، ایم۔پی، راجستھان، کرناٹک اور بنگال وغیرہ کے تمام مسلمانوں کیلئے کہ وہ پہلے اپنی "انفرادیت" کو اپنی ایک جماعت کے ذریعے مضبوط کریں۔
ہم ہندو برادری کے ساتھ ہیں ایک سیکولر ملک میں رہتے ہوئے ہم ان سے کہیں زیادہ سیکولر ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اپنی طاقت کو ختم کرکے ان کی طاقت بن جائیں۔
آپ کی اپنی انفرادیت ہوگی تو آپ کنگ میکر کا رول بھی ادا کرسکیں گے۔ کیا آپ نے یوٹیوب پر دیکھا نہیں کہ ایک اسد اویسی کی تقریر پوری اپوزیشن پر بھاری پڑجاتی ہے اور اکبر اویسی کی گونج سے ارکان اسمبلی ہی نہیں ایوان اسمبلی بھی لرزہ بر اندام ہوجاتے ہیں۔ اویسی صاحبان سے کانگریس سیاسی مفاہمت کرنے پرخود مجبور ہے کیونکہ مجلس کی اپنی طاقت ہے۔ زاہد علی خان صاحب سے تلگو دیشم اور کمیونسٹ خود مفاہمت پر مجبور ہیں کیوکہ ان کا اپنا ایک رعب اور طاقت ہے۔ اگر دوسری ریاستوں میں بھی مسلمان پہلے اپنی طاقت کو یکجا کریں اور مضبوط کریں تو کوئی عجب نہیں کہ ممتا ہو کہ نتیش، لالو یا پاسوان، مایاوتی ہو کہ کانگریس یا کمیونسٹ ، مسلمان اپنے بل بوتے ان کو نہ صرف مفاہمت پر مجبور کر سکتے ہیں بلکہ اسی طریقے سے آر ایس ایس اور بی جے پی اور ان کے ہمنوا تمام فرقہ پرست بلکہ دہشت گرد طاقتوں کا مقابلہ ممکن ہے۔
آج دوسری ریاستوں میں کہیں بھگوت گیتا تو کہیں وندے ماترم اور سرسوتی وندنا کو اسکولوں میں لازم کیا جا رہا ہے۔ تو کہیں سوریا نمسکار یا سورج کی پوجا کروائی جارہی ہے تو کہیں گائے کاٹنے پر سات سال کی سزا مقر ر کی گئی ہے۔ لیکن آندھرا پردیش اور کیرالا میں یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ یہاں مجلس اور مسلم لیگ کی طاقت اتنی تو ہے کہ بی جے پی اور آر یس یس سر نہیں اٹھا سکتے۔
مجلس اتحادالمسلمین کے قائدین یا طریقہ کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور نہ ان کے تمام ارکان اور ایم اہل ایز کو کلین چٹ دی جا سکتی ہے۔ لیکن مجلس کی نظریاتی بنیاد اور اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مجلس جیسی جماعت ہر ریاست کے مسلمانوں کی پہلی ضرورت ہے بالخصوص مہاراشٹرا اور بنگال و یو۔پی میں۔ مہاراشٹرا میں کانگریس ہمیشہ شیوسینا کی پس پردہ مددگار رہی ہے اسی لئے وہ دن دہاڑے غیر مرہٹیوں کے خلاف توڑ پھوڑ اور مارپیٹ کرتے پھرتے ہیں حکومت ان کا بال بیکا نہیں کر سکتی۔ یہ دہشت گردی اور غیرجمہوری طریقہ کار ہے لیکن جب مسلمانوں کے پاس جمہوری ہتھیار موجود ہے اور وہ اپنے ووٹ کا استعمال کسی کیلئے بھی کرسکتے ہیں تو بجائے غیروں پر اندھا بھروسہ کرنے کے اپنی جماعت پر بھروسہ کریں۔ پچاس ساٹھ سال میں کبھی کانگریس پر اور کبھی کمیونسٹوں پر کبھی جنتا پارٹی پر توکبھی کسی اور پر بھروسے کر کے دیکھ لیا۔ مسلمانوں کی حالت بد سے بدتر کو جا پہنچی۔ آج وہ دلتوں سے بھی بدتر حالات میں ہیں۔ دلتوں کیلئے پچاس فیصد کوٹہ ہے لیکن مسلمانوں کے پاس کچھ نہیں۔ کل تک جو کام رذیل تصور کئے جاتے تھے اور دلتوں کیلئے مخصوص سمجھتے جاتے تھے آج مختلف گاؤں اور دیہاتوں میں وہ کام مسلمان کرنے پر مجبور ہیں ان کی آواز اٹھانے والا کوئی اس لئے نہیں کہ غیر مسلم خود آپس میں بے شمار ذاتوں میں منقسم ہیں۔ ہر ذات کا آدمی پہلے اپنی ذات کے آدمی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کی آئندہ سیٹ محفوظ رہے۔ ایسے وقت میں مسلمان صرف رحم و کرم کی بھیک کے علاوہ کچھ نہیں مان سکتے۔

آج ضرورت ہے کہ زاہد علی خان، اویسی برادران دوسری ریاستوں میں پیش قدمی کریں اور مسلمانوں کی اپنی سوئی ہوئی طاقت کو جگائیں۔ بے حد خوشی ہوتی ہے جب اخبار میں اکبراویسی مہاراشٹرا ، آندھرا اور تلنگانہ کے اضلاع میں ہزاروں کے مجمع کو للکارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خود آندھراپردیش میں جہاں مجلس کی آٹھ کی جگہ پچیس سیٹیں ہونے کے پورے پورے امکانات موجود ہیں۔ کانگریس سے ان کی کیا سیاسی مفاہمت ہے اور اس کے کیا فائدے ہیں وہ حیدرآباد سے باہر نکل کر کئی ان اضلاع میں الکشن کیوں نہیں لڑسکتے جہاں سے جیت یقینی ہے۔یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن اتنا جانتے ہیں کہ نظام آباد، عادل آباد، کڑپہ، گنٹور، محبوب نگر، میدک وغیرہ جیسے کئی مقامات ہیں جہاں سے مسلمان بہ آسانی جیت کر آ سکتے ہیں اور مجلس کی طاقت دگنی اور تگنی ہو سکتی ہے۔

ہمارے خیال میں ایک مجلس اتحادالمسلمین کی شدید ضرورت مغربی بنگال، بہار اور یوپی اور مہاراشٹرا میں ہے جہاں مسلمان 20-25%ہیں۔ کئی جگہ تو پچاس فیصد تک بھی ہیں۔ لیکن ہر جگہ کہیں کمیونسٹوں نے کہیں لالو اور نتیش نے تو کہیں ملائم اور مایاوتی نے مسلمانوں کا جو حشر کیا ہے وہ خون کے آنسو رلانے والا ہے۔ اگر آپ مسلمان بستیوں میں جاکر دیکھیں تو حیدرآباد کے پرانے شہر کی گلیوں کو بھول جائیں۔ مسلمانوں میں بے روزگاری، ناخواندگی، فحاشی اور پست پیشوں کو اپنانے کی مجبوری یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اب دوسروں پر مزید اعتبار کرنے کے بجائے خود اپنے اندر اعتماد پیدا کریں، سہارے ڈھونڈنے کے بجائے اپنی طاقت کے سہارے اٹھیں اور ایک جماعت بنیں۔ آسام کی مثال بھی سامنے ہے جہاں تیرہ مسلم ایم پی اپنی جماعت کی طاقت پر آگے آئے ہیں۔

{ نوٹ } آبادی کے فیصد تناسب اس ویب سائٹ سے لئے گئے ہیں :
http://www.aicmeu.org/Muslim Population Distribution in India.htm