"المعروف" کی بنیاد پر لیے ہوئے جہیز کا لوٹانا واجب ہے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
جدہ میں ایک اور کامیاب سیمینار۔ مولانا جعفر پاشاحسامی، مولانا محمد بانعیم اور علیم خان فلکی نے خطاب کیا۔

سوشیو ریفارم سوسائٹی۔جدہ کی جانب سے ایک اور اہم سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا جس میں ہندوستان کے معروف عالمِ دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے خالصتاً شرعی بنیادوں پر جہیز اور وداعی کے دن کا کھانا جو لڑکی والوں سے لیا جاتا ہے ان امور پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ایشین ڈیلائٹ ریسٹورنٹ میںبتاریخ 13 اگست 2011ء کو منعقدہ اس اجتماع میں ہندوپاک کے مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔سعدسید اقبال احمد کی خوبصورت قرات کلام پاک کے بعد جناب امین انصاری صاحب نے مولانا حمیدالدین عاقل مرحوم کی ایک نعت مبارک پیش کی ۔ علیم خان فلکی نے سیمینار کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور علماء کرام نے مخاطب فرمایا۔
اہم نکات: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
٭ جہیز یا کھانا شرعاً حرام نہیں کہا جاسکتا لیکن ان سے حرام کے ارتکاب کے راستے کھلتے ہیں جیسے رشوت، اسراف اور دل آزاری وغیرہ۔ اسلئے یہ کسی طرح بھی جائز نہیں۔
٭ مسواک جیسی معمولی چیزوں کا ذکر شریعت میں ہے لیکن جہیز اور بارات کا کوئی لفظ شریعت میں مذکور نہیں یہ مکمل غیراسلامی ایجادیں ہیں۔
٭ حدیث "النکاح من سنتی و فمن رغب عن سنتی فلیس منّی" میں اسلامی نکاح کا فلسفہ اور طریقہ موجود ہے۔ جسطرح رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے طریقے پر اگر نماز یا روزہ نہ ہوتو وہ قبول نہیں اسیطرح نکاح بھی اگر رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے طریقے پر نہ ہوتو وہ خارج از اسلام ہے۔
٭جہیز یا دعوتِ طعام صراحتاً مانگے جائیں یا بالواسطہ، جائز نہیں کیونکہ رسم و رواج کی بنیاد "المعروف کالمشروط" ہے۔ حتی کہ زبان سے نہ مانگنا لیکن دل میں آس رکھنا بھی رشوت کے دروازے کھولنا ہے اوررشوت حرام ہے۔
٭ ولیمہ نہ واجب ہے نہ فرض، یہ مسنون ہے۔ اسکو شرائط کا پاپند نہیں کیاجاسکتا۔ عرب معاشرہ کا طریقہ قابلِ ستائش بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی یعنی وداعی کے دن مرد کا اپنی طرف سے کھانا کھلانا اور دلہن کو اپنے گھر لے جانا۔
٭ بین مذہبی شادیوں یعنی مسلمان لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادیوں کے محرّکات میں جہیز سرِ فہرست ہے۔
٭لوگ کھانے اور جہیز کے معاملے میں رخصت اور جواز کے فتوے ڈھونڈھتے ہیںلیکن شریعت کے مزاج اور تقاضے کو سمجھنا نہیں چاہتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) خود تو طویل نمازیں پڑھتے تھے لیکن جب جماعت میں ہوتے تو مختصر کردیتے اس سے شریعت کا منشا یہ ہے کہ لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرو ، مشکلات نہ پیدا کرو۔ ایک بار معاذ بن جبلؓ نے طویل نماز پڑھادی تو آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے انہیں تنبیہہ فرمائی کہ "افتنّ انت یا معاذ؟"یعنی کیا تم فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہو یا معاذؓ؟ اسیطرح ایک صحابی ؓ نے پکّا مکان بنایا تو آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے ناراضگی کا اظہار فرمایا کیونکہ جس بستی میں سارے کچے مکان ہوں ایسی بستی میں پکا مکان بنواکر دوسروں کے دلوں میں حسرت اور آرزو پیدا کرنا دل آزاری کے مترادف ہے۔ بالکل اسیطرح چند ایک خوشحال لوگ اپنی خوشی کی خاطر "خوشی سے" دینے کے نام پر پورے معاشرے میں حسرتیں اور آرزوئیں پیدا کرتے ہیں۔ یہ شریعت میں سخت ناپسند کیا گیا ہے۔
٭ تازہ ترین مردم شماری کے مطابق عورتوں کی آبادی کا تناسب مردوں کے مقابلے میں گرتاجارہاہے کیونکہ لوگ لڑکیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کرڈالتے ہیں۔ انسانیت پر اس ظلم کی اصل وجہ جہیز ہے۔ لوگ لڑکیوں کو بوجھ سمجھنے پر مجبور ہیں۔
٭ نکاح مسجد میں کیاجائے اور جمعہ بعد عصر نکاح کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
٭ ایسی شادیوں میں شرکت سے اجتناب اسطرح کیا جائے کہ مبارکباد پیش کرکے رخصت ہوجائیں۔ ان میں کھانا کھانا ناجائز رسومات کی ہمت افزائی کرنا ہے۔ تعلقات کی خاطر اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ناپسندیدہ امور کو جائز کرنا ،ان میں شرکت کرناکسی طرح بھی درست نہیں۔
٭ جہیز کی وجہ سے چونکہ مانباپ کی کمائی کا ایک بڑا حصّہ لڑکیوں پر صرف ہوچکا ہوتا ہے اسلئے لڑکے اپنی بہنوں کو وراثت سے محروم کرڈالتے ہیں۔ جو کہ اللہ کے حدود توڑنے کے حکم میں ہے۔
٭ضرورت اس بات کی ہے کہ لڑکی والوں سے پہلے لڑکے والوں پر محنت کی جائے اور انہیں سنت کی خلاف ورزی سے روکا جائے کیونکہ اگر لڑکے والے چاہیں تو آج یہ ساری رسمیں ختم ہوسکتی ہیں۔
اہم نکات: مولانا جعفر پاشا حسامی صاحب
٭ جوڑے کی رقم لینے والے کا ولیمہ کھانا بھی جائز نہیں۔ کیونکہ جوڑے کی رقم لینا ناجائز ہے ۔
٭ اکثر لڑکے والدین کی وجہ سے لین دین اور کھانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ناجائز میں مانباپ کی اطاعت واجب نہیں۔
٭ اسلامی شادی یہ ہیکہ ش کے تینوں نقطے نکال دیئے جائیں یعنی "سادی"۔
٭ حضرت عمر ؓ کے عہد میں ایک شخص نے ناداری کی بنا مالی مدد کی درخواست کی۔ آپ ؓ نے فرمایا کہ "میں تجھے بیس ہزار درہم دوں گا اپنے دونوں ہاتھ دے دو"۔ وہ گھبراگیا اور اس نے فطری بات ہے کہ انکار کردیا۔ آپؓ نے فرمایا کہ چالیس ہزار درہم لے لو اور اپنی آنکھیں دے دو"۔ اس نے انکار کیا ۔ پھر آپ ؓ نے ساٹھ ہزار درہم کی پیش کش کی اور کہا کہ اپنے پاوں دے دو۔ جب وہ تیار نہ ہوا تو آپ ؓ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تجھے پہلے ہی سے اتنی قیمتی چیزیں عطا فرمائی ہیں تو مانگتا کیوں ہے؟ یہ واقعہ آج تمام جہیز اور جوڑے یا تلک کی رقمیں لینے والوں کیلئے ایک درسِ عبرت ہے۔
٭ جب تک علما اور مشائخین اسراف سے معمور دعوتوں کا مقاطعہ نہیں کرینگے کوئی تبدیلی آنا مشکل ہے۔
اہم نکات : مولانا محمد بانعیم صاحب
٭ "الرجال" (مرد) کی تعریف جو قرآن نے بیان کی جہیز یا رقم کا لین دین اور کھانے کی فرمائش اس تعریف کے مغائر ہے۔
٭ ایسی دعوتوں کے بائیکاٹ کا جواز یہ ہیکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جب تم برائی کو دیکھو تو ہاتھ سے روکو، یا زبان سے یا کم سے دل سے نفرت کرو ۔
٭عالیشان دعوتوں کا جب لوگوں کو چسکا لگ جاتا ہے تو وہ سادہ اور سنت پر مبنی دعوت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اسلئے معاشرہ میں برابری کرنے یا عزت کا پاس رکھنے کیلئے مجبوراً استطاعت نہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کرنے کا چلن شروع ہوجاتا ہے اور کئی طرح کی منکرات خود بخود شامل ہوجاتی ہیں۔
٭ لوگ سانچق مایوں اور ویڈیو پر تو ناجائز ہونے کی بحث کرتے ہیں لیکن جوڑے اور جہیز جیسے صریح حرام کو "عورتوں کا معاملہ" کہہ کر حیلہ بازی سے کام لیتے ہیں جو مردانگی کے خلاف ہے۔
اہم نکات : علیم خان فلکی صاحب
٭ آج مسلمان معاشرے میں جتنی اخلاقی برائیاں پیدا ہوچکی ہیں ان کی جڑ "جوڑا جہیزاور دعوتیں " ہیں۔کیونکہ ان اخراجات کی پابجائی کیلئے لوگ حلال و حرام کی پروا کئے بغیر کمائی پر مجبور ہیں۔
٭ خوشی سے خرچ کرنے والوں اور جواز ڈھونڈھنے والوں کا معاشرے میں تناسب صرف پانچ فیصد ہے۔ ان کی وجہ سے پچانوے فیصد معاشرے کو ناجائز طور پر کماکر ، مانگ کر یا پھر جائز کمائی کو ناجائز رسومات پر خرچ کرنے پر مجبور ہونا پڑرہاہے۔
٭ اگر ہم نے فوری اس پر توجہ نہ کی تو یہ قوم بہت جلد ہریجنوں سے بدتر اخلاقی اور مالی حالت پر پہنچنے والی ہے۔
٭ بائیکاٹ کا تعلق حلال و حرام یا جائز ناجائز سے چاہے نہ ہو لیکن اسکا تعلق ہماری خودداری، حمیت، عزیمت اور ایک تبدیلی اور انقلاب کی آرزو سے ہے۔ لوگ کیسے گوارا کرتے ہیں جن ناجائز ہندووانہ رسم و رواج کی وجہ سے لاکھوں لڑکیاں فواحش، بین مذہب شادی اور غیر قوموں کے پاس نوکریوں پر مجبور ہورہی ہیں۔ ہر تیسرا گھر سود ادا کرنے پر مجبور ہے، پوری قوم کی اکثریت انتہائی پست پیشے اختیار کرنے پر مجبور ہورہی ہے یہ سب دیکھتے ہوئے بھی لوگ رشتہ داریوں اور تعلقات کی خاطر کیسے شریعت کے اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال سکتے ہیں؟
٭ اگر آج امام ابو حنیفہؒ زندہ ہوتے تو اپنے شاگردوں کو گلی گلی بھیجتے اور تحقیق کرواتے کہ کیونکر لڑکیاں شادی کے بغیر عمروں سے تجاوز کررہی ہیں، کیوں بے حیائی اور غلط کاریوں پر مجبور ہورہی ہیں، کیوں قوم ساری کی ساری ہریجنوں سے بدتر پیشوں کو اپنانے پر مجبور ہے۔ جب پتہ چلتا کہ ان سب کے پیچھے جہیز کی کارفرمائی ہے تو فقہ کی نئی تدوین ہوتی ۔ لیکن آج ہمارے علما نے اجتہاد کے دروازے بند کردیئے اور صدیوں پہلے جو فقہ مرتب ہوچکی اسی کو قطعی دین قرار دے کر موجودہ مسائل اور ان پر قرآن و حدیث کے انطباق سے گریز کررہے ہیں۔ صاحبِ اختیار وقت اور حالات کے مطابق جو فیصلے کرتے ہیں ان کی مثالیں موجود ہیں۔ زکوۃ نہ دینے والے کے خلاف کسی تعزیری سزا کا قرآن یا حدیث میں کوئی تذکرہ نہیں اسکے باوجود ابو بکر صدیق ؓ نے زکوۃ دینے سے انکار کرنے والوں کے خلاف تلوار اٹھانے کا فیصلہ دیا، قرآن اور حدیث میں چور کی سزا قطع ید ہونے کے باوجود قحط کے زمانے میں اس سزا کو منسوخ کیا۔ آج علماء میں یہ ہمت اور حکمت پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ جہیز کے بدترین نقصانات کا جائز ہ لیں اوراسکے خلاف موثّر اقدام اٹھائیں۔
٭ جہیز کے جہاں بے شمار نقصانات ہیں ان میں سب سے بدترین یہ ہیکہ مسلمان نوجوان مانباپ کی وراثت سے محروم ہوجاتے ہیں اور انتہائی معمولی نوکریوں پر مجبور ہیں کیونکہ ماں باپ اپنی اصل کمائی شادیوں میں بیٹی اور دامادوں پر صرف کرنے پر مجبور ہیں۔ اسطرح پوری قوم ایک دوسرے کو غلامانہ پیشوں پر ہی رہنے پر مجبور کررہی ہے۔
سامعین کی ایک بڑی تعداد بشمول خواتین نے بہ دستخط یہ عہد کیا کہ وہ جہیز اور لڑکی والوں کی طرف سے دی جانے والی دعوتوں کا بائیکاٹ کرینگے۔ آخر میں ڈاکٹر ہارون سعید نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بائیکاٹ کی مہم آج وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے بلکہ یہ پہلا قدم ہے۔ اگر لوگ ہمت کے ساتھ اس مہم کا ساتھ دینگے تو مستقبل میں طلاقوں کی روک تھام ، کونسلنگ، مسلم عدالتوں کا قیام جیسے اہم امور پر کام کرینگے۔ جدہ میں بغیر جوڑے جہیز کی شادیوں میں مدد اور میاں بیوی کے درمیان کشیدہ تعلقات کو ہموار کرنے کیلئے میریج بیورو کا تعارف بھی پیش کیا۔

رپورٹ: سلیم فاروقی۔ جدہ

