نکتہ
بڑے شہروں جیسے کراچی یا لکھنو یا حید رآباد میں(شادی کے موقعہ پر) ایک کھانے کی دعوت پر کم سے کم چھ سات لاکھ روپئے کا خرچ آتا ہے جو صاحبِ استطاعت لوگوں کے لئے کوئی بار نہیں لیکن متوسط اور غریب طبقے کیلئے ایک مصیبت ہے جس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جو اس مشکل سے گزرے ہیں۔ انہیں بھی کم سے کم دو تین لاکھ تو خرچ کرنا ہی پڑتا ہے۔ وہ اس سے فرار اس لئے بھی نہیں حاصل کرسکتے کہ خوشحال لوگ جو ماڈل پیش کردیتے ہیں وہی سوسائٹی کا چلن تصور کیا جاتا ہے۔ اگر دوسرے لوگ اس کی تقلید نہ کریں تو لڑکی کو سسرال میں بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ صاحبِ استطاعت حضرات کو اس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا کہ شریعت کا حکم ٹوٹتا ہے۔ وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ دو چار عمرے یا حج کرلینے سے اور کچھ انفاق و خیرات میں اضافہ کردینے سے ہر گناہ دُھل جائے گا۔مشکل میں تو وہ لوگ پڑجاتے ہیں جو زمانے کے دستور کو باقی رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں اور بیٹی کی عزت کی خاطر شریعت کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے اوپر ہر مشکل لاد لیتے ہیں۔
- علیم خان فلکی
مرد بھی بِکتے ہیں۔۔۔جہیز کیلئے( مسودہ زیر طبع) 2009 ، ص 106
گفتہ
تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات ہے۔
شمالی ہندستان کے ایک چھوٹے سے قصبہ میں محمد قاسم ایک دوپہر گھر میں وارد ہوئے اور صحن میں بچھے ہوئے پلنگ پر آکر بیٹھ گئے۔ ان کے لئے دوپہر کا کھانا رکابیوں میں نکالتے ہوئے بیوی نے کہا :
اجی، بچی کی شادی بیاہ کی بھی کچھ فکر کیجئے۔
بچی ذرا فاصلہ پر باورچی خانہ کے چبوترے پر بیٹھی دال دھو رہی تھی۔ محمد قاسم نے ایک نظر بچی کو دیکھا۔ کچھ سوچا۔ وہ اور ان کی بیوی دونوں ہی اس قصبہ کے اصل باشندے نہ تھے۔ ایک بڑے مقصد کی لگن ایک پڑوسی قصبہ سے اٹھا کر انہیں وہاں لے آئی تھی۔ مقامی خاندانوں کے بارے میں کچھ زیادہ واقفیت نہیں تھی۔ اسی لئے کوئی صورت سامنے نہیں آرہی تھی۔محمد قاسم کی بیوی نے ابھی پلنگ پر دسترخوان بچھایا ہی تھا کہ محمد قاسم اترے، پیر میں جوتا ڈالا اور باہر چلے گئے۔بیوی کہتی ہی رہ گئیں کہ کھانا تو کھا لیتے۔
بیٹھک میں آکر محمد قاسم نے کسی سے کہا ذرا مولوی عبداللہ کو بلا لاؤ۔ عبداللہ ان کے بھانجے تھے اور ابھی مدرسہ میں پڑھ رہے تھے۔قریب ہی کرائے کے ایک کمرہ میں رہتے تھے۔ماموں کا پیغام ملا تو وہ فوراًً پہنچے۔کپڑے صاف ستھرے تھے مگر پاجامے کے ایک پائینچے میں کھونچا لگا ہوا تھا اور کچھ لکھنے کے دوران دوات الٹ گئی تھی تو قمیص کے دامن پر روشنائی کا ایک چھوٹا سا نشان تھا۔
میاں، تم نے شادی کی بابت بھی کچھ سوچا؟
ماموں کے سوال پر مولوی عبداللہ کچھ سٹپٹا سے گئے۔وہ ڈیڑھ سو برس پہلے کے نوجوان تھے جن کو اپنے بزرگوں پر بڑا اعتماد ہوتا تھا۔
ماموں جی، بڑوں بزرگوں کی موجودگی میں بھلا میں کیا سوچوں گا۔
تو اِکرامَن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تمہاری مرضی ہو تم دونوں کا نکاح پڑھا دیا جائے۔
عبداللہ نے لمحہ بھر سوچا۔
ماموں جی، آپ اور اباجی جو بھی فیصلہ کریں گے اس سے انکار کی مجال نہیں۔
محمد قاسم کے بہنوئی انصار علی اپنی ملازمت کے سلسلہ میں وطن سے بہت دور وسطی ہندستان کی ریاست گوالیارمیں رہتے تھے۔ انہوں نے کہہ دیا تھا کہ کوئی مناسب صورت سامنے ہو تو عبداللہ کی شادی کر دی جائے۔شادی توایک فریضہ کی ادائیگی تھی، دعوتوں کے مزے اڑانے کا بہانہ تو اب ہوگئی ہے۔
بھلا کوئی سوچے تو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی شادیاں کیں۔ مدینہ منورہ ہی میں ان کے دو خسر، حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) اور حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اور دو داماد،حضرت عثمان(رضی اللہ عنہ) اور حضرت علی(رضی اللہ عنہ) بھی رہتے تھے۔ کبھی سیرت کی کسی کتاب میں پڑھا ہے کہ رسول اللہ نے اپنی کتنی شادیوں میں ان چاروں میں سے کسے اور کتنی بارنکاح ولیمہ چوتھی میں رقعہ بھیج کر کھانے پر بلایا تھا؟ مدینہ منورہ میں تو روز ہی صحابہ کی شادیاں ہوتی تھیں۔تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اکثر شادیوں کے بعد ہی خبر ہوتی تھی۔
حضرت عبدالرحمٰن(رضی اللہ عنہ) ابن عوف تو مہاجر اور رسول اللہ کے قریشی قرابت دار تھے۔صحیح بخاری شریف کی کتاب النکاح میں روایت ہے کہ ایک دن ان کے لباس پر زعفران کا نشان دیکھ کر رسول اللہ نے پوچھا تھا کہ کیا شادی کرلی؟ ان کے اقرار کرنے پر نہ شکوہ نہ شکایت کہ شادی بھی کرلی مگر برات اورنکاح میں بلایا نہ ولیمے کی دعوت دی۔ بس یہ پوچھا کہ مہر کیا دیا اور ولیمہ کرنے کا حکم دیا۔
مگر ایسی کوئی روایت نہیں ملتی کہ اس ولیمہ میں رسول اللہ کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ حضرت جابر ابن عبداللہ(رضی اللہ عنہ) ایک ممتاز انصاری صحابی تھے۔ ان کی شادی کی خبر ملی تو رسول اللہ نے پوچھا کس سے شادی کی ہے۔حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) نوجوان تھے۔انہوں عرض کیا کہ ایک ادھیڑ عمر خاتون سے کی ہے۔تو کہاکسی نوجوان لڑکی سے کیوں نہ کی؟ اس میں دونوں کی دلبستگی ہوتی۔ حضرت جابر(رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا کہ کئی کمسن بہنوں کی ذمہ داری ہے۔ان کی شادیاں کرنی ہیں اسی لئے ایک تجربہ کار خاتون سے شادی کی ہے تاکہ ان بچیوں کی ماں بن کر ان کا شرعی فرض ادا کردے۔یہ روایت بھی بخاری شریف کی کتاب النکاح میں موجود ہے۔ حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ پوچھا کہ بھئی شادی کی تھی تو کسی ایک تقریب میں تو بلایا ہوتا۔
ہم لوگ مسلمان تو بے شک ہیں مگر پتہ نہیں کیوں رسول اللہ اورصحابہ (رضی اللہ عنہم) کی شادیوں کی یہ سب باتیں نہیں جانتے۔البتہ ڈیڑھ سو سال پہلے محمد قاسم اور عبداللہ اور ان کے والد انصار علی خوش قسمت تھے کہ انہیں یہ باتیں معلوم تھیں۔
اپنے بھانجے عبداللہ کا جواب سن کر محمد قاسم نے انہیں وہیں ٹھہرنے کو کہا اور اندر گھر میں چلے گئے۔وہاں بیوی کو مخاطب کیا۔
اکرامن کے لئے مولوی عبداللہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ گھر کا بچہ ہے۔ کچھ دیکھنا بھالنا تو ہے نہیں۔تمہاری مرضی ہو تو نکاح پڑھ دیا جائے۔محمد قاسم کی بیوی کو بھی تجویز مناسب لگی۔دونوں میں اتفاق رائے ہو گیا تو محمد قاسم بیٹی کے پاس آئے۔ وہ ابھی دال دھونے میں مشغول تھی۔ محمد قاسم وہیں بیٹی کے پاس اکڑوں بیٹھ گئے۔
بیٹی ہم نے سوچا ہے کہ مولوی عبداللہ سے تمہارا نکاح پڑھا دیں۔مگر پہلے تم بتاؤ، تمہاری مرضی کیا ہے؟
اِکرامن شرم کے مارے دہری ہوگئی۔ گھٹنوں میں منہ چھپا لیا۔محمد قاسم کی بیوی نے کہا، اجی توبہ ہے، بچیوں سے بھلا یوں شادی بیاہ کی بات کیا کرتے ہیں کیا؟
کیوں اس میں کیا عیب ہے؟شرع کامعاملہ ہے۔بچی کی رائے پوچھنی لازم ہے۔شرع میں کیا شرم۔ اگر اکرامن کی رائے نہ ہو تو کوئی اور صورت دیکھیں گے۔مگر جس طرح مولوی عبداللہ کی مرضی معلوم کی ہے اسی طرح ضروری ہے کہ اکرامن کی رائے بھی معلوم ہو۔
محمد قاسم کی بیوی نے کہا باحیا بچیاں منہ پھاڑ کے ہاں نہیں کیا کرتیں۔انکار ہوتا تو میری طرف دیکھتی، یا اٹھ کر کمرہ میں چلی جاتی۔ میں اس کا عندیہ سمجھ لیتی۔ ان معاملات میں بچیوں کی خاموشی ہی ان کی رضامندی ہوتی ہے۔اسے بھی مولوی عبداللہ کی طرح بھلا کیا اعتراض ہوگا۔
سچ یہ ہے کہ شرم و حیا کی یہ روائت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے چلی آرہی ہے۔ جبھی تو بخاری شریف ہی میں حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ کنواری لڑکی کی مرضی نہ ہو تو نکاح نہ کیا جائے اور اس کی خاموشی ہی رضامندی ہے۔
بیوی کی بات سن کر محمد قاسم اٹھے اور پھر باہر چلے گئے۔ بیٹھک میں مولوی عبداللہ ماموں کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ دوچار لوگ اور بھی موجود تھے۔ محمد قاسم نے ان کو بلایا اور کہا کہ وہ مولوی عبداللہ کا نکاح اپنی بیٹی امت الاکرام سے کر رہے ہیں ۔ کسی کو دو پیسے دے کر کہا نکڑ کی دکان سے تھوڑے سے چھوہارے لے آؤ۔انہی حاضرین میں سے دو گواہ بن گئے۔ذرا کی ذرا میں نکاح پڑھا دیا گیا۔پھر محمد قاسم نے دولہا میاں ہی سے کہا کہ باہر جاکر ایک ڈولی تولے آؤ اور اپنی بیوی کو لے کر اپنے گھر سدھارو۔ڈولی آگئی تو محمد قاسم پھر گھر میں آئے اور بیٹی کے پاس گئے جو ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد ابھی جانماز ہی پر بیٹھی تھی۔
بیٹی ، اللہ کا شکر ہے میں تمہارے فرض سے سبکدوش ہوا۔ مولوی عبداللہ ڈولی لئے باہر منتظر ہیں۔ اب تم ان کے ساتھ اپنے گھر جاؤ۔
محمد قاسم کی بیوی نے کہا :
ارے ایسا چٹ پٹ شادی بیاہ کردیا۔ مجھے کچھ تو مہلت دی ہوتی۔ بچی کے دوچار جوڑے کپڑے بنا دیتی۔کم از کم اس وقت تو اچھے کپڑے بدلوا دیتی۔
کیوں ان کپڑوں میں کیا عیب ہے۔ کیا ان میں نماز نہیں پڑھ سکتی؟
بھلا نماز کیوں نہیں پڑھ سکتی۔ابھی تو ظہر کی نماز پڑھی ہے انہی کپڑوں میں۔
تو بس ، نماز کے کپڑوں سے اچھا جوڑا اور کون سا ہوگا۔ رہی بات بچی کو کچھ دینے دلانے کی تو کوئی ضروری کہ آج ہی دو۔ تمہاری بیٹی ہے، اور مولوی عبداللہ بھی تمہارا ہی بیٹا ہے۔ان کے لئے کیا تکلف کرنا ہے۔ہاں گھر کی ضرورت کا سامان جب چاہے بھجوا دو۔
اس اثنا میں ماں نے اکرامن کو برقعہ اڑھایا، دعا دی، باپ نے سر پر ہاتھ رکھا اور خود ڈولی میں بٹھانے کولائے۔بیٹی کو زندگی، شوہر کے حقوق،گھریلو ذمہ داریوں کے بارے میں نصیحتیں کرتے رہے۔ ادھر ڈولی روانہ ہوئی ادھر ماں نے نائن کے ہاتھ بیٹی کے روز کے کپڑوں کی پوٹلی اور کھانا پکانے اور کھانے کے چند برتن بھیج دئے۔بس یہی جہیز تھا۔تو بچی کی رخصتی بھی ہوگئی۔
نہ جوڑا گھوڑا۔نہ ڈھول تاشہ۔ نہ ناچ گانا۔دولہا ہے کہ پاک صاف ستھرے کپڑے۔ پاجامے میں ذرا کھونچا لگا ہو اہے اور کرتے کے دامن پر روشنائی کا نشان ہے۔ دلہن گھر کے روز کے کپڑوں میں۔کوئی شاہانہ جوڑا نہ زیورنہ جہیز نہ بری۔
اگلے دن محمد قاسم نے بیٹی داماد کو گھر پر بلوایا۔ گھر میں جو سالن روٹی پکا تھا، باہر مردانے میں لے کر آئے اور جو لوگ بیٹھک میں موجود تھے ان سب کو دسترخوان پر بلایا۔
بھائی، یہ مولوی عبداللہ کا ولیمہ ہے۔ ان کے ابا تو گوالیار میں ہیں۔ وہ تو گرمی کے موسم ہی میں آئیں گے۔ ہاں مدرسہ کی چھٹی ہوگی تومولوی عبداللہ بیوی کو لے کر اپنی ماں سے مل آئیں گے۔مولوی عبداللہ کی والدہ محمد قاسم کی سگی بہن تھیں اور قریب کے دوسرے قصبہ میں اپنے شوہر کے خاندان میں رہتی تھیں۔
تویوں نکاح کے دوسرے دن محمد قاسم نے ماموں کی حیثیت سے بھانجے کے ولیمہ کی سنت بھی پوری کر دی۔
کچھ اندازہ ہوا یہ سب کون لوگ تھے اور یہ واقعہ کہاں کا ہے؟
یہ واقعہ ہے دیوبند کا۔
محمد قاسم تو بہت مشہور آدمی ہوئے ہیں۔ایک دنیا انہیں مولانا محمد قاسم نانوتوی (رحمۃ اللہ علیہ) کے نام سے جانتی ہے۔انہوں نے 1867 میں دارالعلوم دیوبند قائم کیا تھا۔اسلام پر بے شمار کتابیں لکھیں۔ برطانوی پادریوں اور دیگر منکران حق سے کئی معرکة الآرا مناظرے کئے ۔ اصل میں رہنے والے تھے قصبہ نانوتہ کے جو ضلع سہارنپور میں دیوبند سے چند گھنٹہ پیدل کی مسافت پر ہے۔مولانا محمد قاسم نانوتوی(رحمۃ اللہ علیہ) اکثر رات میں وہاں پیدل جاتے اور صبح سویرے دیوبند واپس آجاتے۔
مولانا محمد قاسم نانوتوی(رحمۃ اللہ علیہ) کے بھانجے مولوی عبداللہ اسی دارالعلوم دیوبند میں پڑھتے تھے۔ ان کے والد مولانا انصار علی(رحمۃ اللہ علیہ) گوالیار میں سندھیا کی ریاست کے دیوان (وزیر اعظم) کے عہدے پر فائز تھے۔ دارالعلوم دیوبند میں تعلیم سے فارغ ہوکر مولاناعبداللہ انصاری (رحمۃ اللہ علیہ) علی گڑھ آگئے تھے۔ سر سید احمد خان کے قریبی رفقاء میں شمار ہوئے۔ اورعلی گڑھ کالج کے پہلے ناظم دینیات ہوئے۔مسلم یونیورسٹی کی جامع مسجد انہی کی نگرانی میں بنی تھی۔
مولانا عبداللہ انصاری (رحمۃ اللہ علیہ) کے بڑے بیٹے، مولانا محمد میاں منصور انصاری(رحمۃ اللہ علیہ)، شیخ الہند مولانا محمود الحسن (رحمۃ اللہ علیہ) کی قیادت میں شروع ہونے والی ہندستان کی مکمل آزادی کی سب سے پہلی تحریک کے رکن رکین تھے۔ ان کی کتاب "فلسفہٴ انقلاب" نماز کی عمرانی حقیقت پر بڑا نادر نقطہٴ نظر پیش کرتی ہے۔ان کی دوسری معروف کتاب "انواع الدول" فلسفہ سیاسیات اور نظریہ حکومت پر ہے۔جدیدانداز میں اسلامی طرز حکومت پر یہ سب سے پہلی کتاب ہے۔
مولانا عبداللہ انصاری کے دوسرے بیٹے مولانا احمد میاں انصاری(رحمۃ اللہ علیہ) خود علی گڑھ کالج میں دوسرے ناظم دینیات مقرر ہوئے۔مولانا عبداللہ انصاری (رحمۃ اللہ علیہ) کے بڑے پوتے، مولانا حامد الانصاری غازی(رحمۃ اللہ علیہ) اپنے وقت کے بڑے عالم دین ، ممتاز صحافی، تحریک آزادئ ہند کے ایک رہنما اور سیرة مبارکہ پر "خلق عظیم" نیز "اسلام کا نظام حکومت" جیسی کتابوں کے مصنف ہوئے۔
یہ تھی ایک سادہ اسلامی طرز کی شادی سے ظاہر ہونے والی خیر اور برکت جس سے تین نسلوں تک امت مسلمہ فیضیاب ہوتی رہی۔
مولانا عبداللہ انصاری(رحمۃ اللہ علیہ) میرے پڑدادا تھے۔اس اعتبار سے ان کی شادی کا یہ واقعہ جو میں نے یہاں درج کیا ہے ہمارے خاندان کی ان روایات میں سے ایک ہے جو نسلاً بعد نسل منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ مجھے یہ واقعہ مولانا محمد قاسم نانوتوی کے پوتے، حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد طیب (رحمۃ اللہ علیہ) اور میری والدہ محترمہ ہاجرہ نازلی مرحومہ نے مختلف اوقات میں سنایا تھا ۔ میری والدہ مولانا محمد قاسم نانوتوی (رحمۃ اللہ علیہ) کی پڑ پوتی تھیں۔ان دو کے علاوہ بھی خاندان میں اور اس کے باہر اس واقعہ کے کئی راوی ہوئے ہیں۔یعنی اس واقعہ کے مستند ہونے میں کلام نہیں۔
یہاں یہ تفصیلات بیان کرنے کا مقصدخود ستائی نہیں بلکہ فقط یہ عرض کرنا ہے کہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) اور حضرت فاطمہ(رضی اللہ عنہا) کی شادی کی سنت کے عین مطابق ہونے والی ایک شادی سے کس قدر خیر کثیر پیدا ہوئی۔قرآن حکیم کی سورہٴ کہف آیت 74 میں ایک لڑکے کے مارے جانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں بتایا جاتا ہے کہ مقتول لڑکے کے والدین کے ہاں بعد میں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کی شادی ایک نبی سے ہوئی اور وہ لڑکی ایک مسلم امت کی ماں بنی۔اس سے سبق یہ ملتا ہے کہ نیک اور سعادت مند لوگ اس زندگی میں اچھے عمل سے آنے والی نسلوں کے واسطے خیر اور بھلائی اور صلاح و فلاح کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور دنیا میں نیک نام ہوتے ہیں۔ اس کے بر عکس کسی برائی کی بنا ڈالنے والے معاشرہ میں برائیاں پھیلانے اور گناہوں میں اضافہ کا سبب بن جاتے ہیں اور دنیا اور آخرت کی بدنامی اور شرم مول لیتے ہیں۔
مولوی عبداللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1925) اوربی بی امت الاکرام کی شادی وہ تھی جو اسلام میں مطلوب اور مرغوب ہے۔ باوجودیکہ مسلمانوں میں اب ایسی شادیوں کا ذوق مفقود ہوگیا ہے۔ پھر بھی کچھ لوگ مل جائیں گے جو شادیوں میں سادگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک اسلامی روایت ہے کہ شادی کو اتنا آسان کردو کہ زنا دشوار ہو جائے۔ اب یہ بات تو صاف ہے کہ ہم لوگ اسلامی روایات کے خلاف شادی میں مشکلات پیدا کریں گے تو نتیجہ میں زنا ہی آسان ہوگا ۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ مشکل کے مقابلہ میں سہولت کی طرف جھکتا ہے۔سادہ لفظوں میں بات یہ ہے کہ جب شادی بیاہ کو بوجھل رسموں اور فضول و ناروا اخراجات سے گراں بار بلکہ بعض حالات میں تقریباً ناممکن بنا دیا جائے گا تو نوجوان لڑکے لڑکیاں کیوں نہ گناہ کی جانب مائل ہوں گے؟
اور خدانخواستہ ایک بھی گناہ کی طرف راغب ہوگیا تواس کا الزام سب سے پہلے تو اس گناہ آلودہ کے والدین کے سر پڑے گا، پھر محلہ، برادری، اور پورے معاشرہ پر۔اسلامی اصولوں کی رو سے الزام کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت میں پولس نے مقدمہ دائر کردیا اور وکیل دفاع کی ہنر کاری کے سبب ملزم صاف بچ گیا۔ جی نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بغیر وکیل دفاع کے قیامت کے دن میزان عمل کے سامنے اللہ تعالیٰ کے روبرو ملزم کو تنہا اپنے غلط عمل کی جواب دہی کرنی ہوگی۔اور اس سلسلہ کے دیگرتمام ملزموں کو اس غلط کام میں حصہ لینے یا اس پر خاموش رہنے کی سزا الگ دی جائے گی۔
علیم خان فلکی دراصل اسی دن کی سزا سے سب کو بچانا چاہتے ہیں۔ یہ بجائے خود ایک نیک کام ہے۔ اور معاشرہ کی اصلاح ان خطوط پر ہوجائے جو شادی کو آسان تر کردے تو اس کا فائدہ امت اٹھائے گی اور ثواب علیم خان فلکی صاحب کو بھی ملے گا اور انہیں بھی جو اس کام میں ان کا ہاتھ بٹا رہے ہیں یا شادیوں کو مضر رسومات سے پاک کر رہے ہیں۔ایک عرصہ سے یہ کام علیم خان کی زندگی کا مقصد ہے۔ اس مسئلہ کو عوام کے سامنے رکھنے کے لئے انہوں نے کم و بیش بیس سال پہلے چھوٹے چھوٹے جلسوں سے یہ مہم شروع کی تھی۔ انہوں نے اس موضوع پر جدہ میں جو پہلا جلسہ منعقد کیا تھا مجھے بھی اس میں کچھ گفتگو کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔علیم خان فلکی صاحب تب سے دن رات اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بڑی محنت اور جاں فشانی سے قرآن و حدیث کی سندوں، عقلی دلائل، معاشرتی قدروں اور مشہور و معروف علماء و مفکرین کے اقوال، بیانات اور فتاویٰ کو اس کتاب میں یکجا کردیا ہے۔یہ کتاب ہم سب کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔
بظاہر تو کام پورا ہوگیا۔ لیکن سچ یہ ہے یہ کتاب اصل کام شروع کرنے کا نقارہ ہے۔نہ محض کتاب لکھنا کوئی مقصد تھا اور نہ بات کہہ دینا خواہ کوئی سنے نہ سنے۔یہ تو ایک اہم معاشرتی معاملہ میں امت کو صحیح اسلامی نہج پر واپس بلانے کی مسلسل کوشش کا ایک حصہ ہے۔اور ایک امتحان بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن حکیم اور احادیث مبارکہ کی سند کے بعد کیا کوئی دلیل شادی بیاہ کی فضول رسموں، جوڑے جہیز کے ظالمانہ مطالبات، اور شادی بیاہ کی سنت کی ادائیگی کے لئے سود پر حرام قرضے لینے کے جرم کے حق میں باقی رہ جاتی ہے؟ اس کے بعد بھی کوئی ان رسومات اور اصراف بے جا پر اصرار کرے تو وہ توبہ کب کرے گا؟اورجب ان دلائل کے بعد جوڑے گھوڑے، تلک جہیزوغیرہ جیسی سماجی لعنتوں کے حق میں کوئی دلیل باقی نہیں تو علیم خان فلکی کی درخواست سن کر بہرا بن جانا توخود اپنی جان پر اور بھی بڑا ظلم ہوا۔ہاں فلاح و فوز ان کا حصہ ہوگی جو اس بات سے متفق ہو کر اول تو اپنے گھر میں ایسی رسومات کے خاتمہ کا عزم اور اعلان کریں، اور پھر معاشرے میں اپنے اپنے طور پراپنے حلقوں میں اصلاح کا کام شروع کر دیں۔ تو حالات تبدیل ہونے میں کتنی دیر لگے گی۔
کام ہمیشہ ایک شخص شروع کرتا ہے، اور اس کو بڑھاتے اور پھیلاتے ہیں وہ تمام لوگ جو اس کام اوراس آوازسے متفق ہوتے ہیں۔ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تبلیغ دین شروع کی تھی تو جہاں آپ خود جگہ جگہ دنیا اور آخرت کی فوز و فلاح کا وہ پیغام لے کر جاتے تھے وہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی کتنے ہی قریشی نوجوانوں کو مسلمان بنا یاتھا۔ سچ پوچھئے تو عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے تقریبا سارے بزرگ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہی کی مساعی سے اسلام کے نقیب بنے تھے۔ یعنی اسلامی تاریخ اور روایات میں ہمارے بزرگوں کی ہر طرح کی اچھی سنتیں موجودہیں۔ ان میں سے جس کی سنت پر عمل کی توفیق ہوجائے اس کے بانی صحابی یا تابعی سے کبھی نہ ٹوٹنے والی قلبی ارادت اور ذہنی مناسبت پیداہوجانا فطری بات ہے اورخود اس عمل کی خیر کے اثرات زندگی میں ظاہر ہونا بھی ضروری ہیں۔
امید بلکہ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ عزیز محترم علیم خان فلکی کی اس کتاب کوبرصغیر کے مسلمانوں میں ایک معاشرتی انقلاب کا ذریعہ بنا دے، ان کی مسلسل کوشش کو بار آور کرے، ہمارے معاشرہ میں شادی کے قابل بچوں کے والدین اور دیگر بڑوں کوتباہ کن سماجی برائیوں سے محفوظ رکھے، ہماری نئی نسلوں کو اسلامی تعلیمات کی روح کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
# محمد طارق غازی
# آٹوا ، کینڈا
# سہ شنبہ 13 رجب 1430 / 7 جولائی 2009

