<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مسلم سوشیو ریفارمز سوسائیٹی</title>
	<atom:link href="http://socioreforms.com/ur/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://socioreforms.com/ur</link>
	<description></description>
	<lastBuildDate>Mon, 23 Jan 2012 07:34:40 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.8.2</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>ہر ریاست میں۔۔۔ ایک مجلس اتحاد المسلمین کی ضرورت ہے۔۔۔</title>
		<link>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/mim-in-every-state-in-india/</link>
		<comments>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/mim-in-every-state-in-india/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 17 Jan 2012 13:12:35 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[خبر نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[mim]]></category>
		<category><![CDATA[اسد الدین اویسی]]></category>
		<category><![CDATA[اکبر الدین اویسی]]></category>
		<category><![CDATA[زاہد علی خان]]></category>
		<category><![CDATA[مجلس]]></category>
		<category><![CDATA[مجلس اتحاد المسلمین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://socioreforms.com/ur/?p=195</guid>
		<description><![CDATA[پچھلے ماہ "جہیز مٹاؤ" مہم کے تحت مجھے کلکتہ اور اطراف و اکناف کے علاقوں کا دورہ کرنے اور مسلمانوں کے حالات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اور اس سے پہلے مہاراشٹرا  اور کرناٹک کے مختلف علاقوں جیسے احمدنگر، ہنگولی، اورنگ آباد، پربھنی، ناندیڑ، ممبرا  اور گلبرگہ  وغیرہ میں بھی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پچھلے ماہ "جہیز مٹاؤ" مہم کے تحت مجھے کلکتہ اور اطراف و اکناف کے علاقوں کا دورہ کرنے اور مسلمانوں کے حالات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اور اس سے پہلے مہاراشٹرا  اور کرناٹک کے مختلف علاقوں جیسے احمدنگر، ہنگولی، اورنگ آباد، پربھنی، ناندیڑ، ممبرا  اور گلبرگہ  وغیرہ میں بھی اسی مہم کے تحت کئی طرح کے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ اور اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی کہ اب ہر ریاست میں ایک "مجلس اتحادالمسلمین" کی موجودگی ناگزیر ہے۔<br />
بنگال میں مسلمانوں کا فیصد تناسب 25% ہے اور کلکتہ میں 20%۔ ممبرا میں مسلمان 75%ہیں اور باقی مذکورہ علاقوں میں 30تا 35فیصد ہیں۔ اس کے باوجود ان تمام علاقوں سے مسلم دشمن پارٹیاں ہی جیت کر اسمبلی اور پارلیمنٹ میں جاتی ہیں۔ جن مسلمانوں کو محض سیاسی مصلحت کی وجہ سے پارٹیاں اگر ٹکٹ دے بھی دیتی ہیں اور وہ اگر جیت کراسمبلی یا پارلیمنٹ میں آبھی جاتے ہیں تو ان کی سوچ اور ان کی حرکتیں یہ واضح کرتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس کامپلکس سے باہر نہیں نکال  سکتے کہ وہ خود اپنی پارٹی میں دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پارٹی کے ایجنڈے سے ہٹ کر اگر انہوں نے کبھی آواز اٹھائی تو ان کا دوبارہ اسمبلی یا پارلیمنٹ میں داخلہ ممکن نہیں ہے۔ پارٹی صدر اوردوسرے بااثر اشخاص کی ماتحتی اور ذہنی غلامی ان کے عمل سے اور تقریروں سے صاف ظاہر ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ خود مولانا ابوالکلام آزاد جیسے عظیم قائد کو بھی بجائے ان کے اپنے حلقے سے کھڑے ہونے کے جا کر کسی مسلمان اکثریت والے علاقے سے کھڑا ہونے کیلئے کہا گیا تھا۔ جس ملک میں ہر جگہ ریڈی راؤ کمّہا لِنگا یادو جادو جاٹ ٹھاکر ہریجن شیڈول کاسٹ شیڈول ٹرائب جیسی ہزاروں ذاتیں اپنی اپنی سیٹ کیلئے ایک دوسرے سے نبردآزما ہیں وہاں مسلمانوں کو کون داخل ہونے دے گا؟ اور تھوڑی بہت آبادی مسلمانوں کی جہاں ہوتی ہے وہاں سے چھوٹی چھوٹی جماعتیں یا آزاد امیدوار کے طور پر مسلمان جیت تو نہیں سکتے لیکن ووٹ کاٹنے کے کام ضرور آتے ہیں۔ جس سے خود مسلمانوں میں تفریق اور تقسیم، آپسی رقابتیں اور بڑھ جاتی ہیں۔<br />
سید شہاب الدین جیسے مدبر اور دانشور سیاستداں بھی مسلمانوں کے سیاسی مسائل پر جب گفتگو کرتے تھے تو چندر شیکھر جی اور وی پی سنگھ جی ہی کے مرہون منت رہا کرتے تھے۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کے مسلم ورکر سے ملئے، اس کی باتوں سے یہی جھلکتا ہے کہ اگر لالوجی، ملائم جی، ممتا جی چاہیں گی تو یہ ہو جائے گا۔<br />
اپنے حقوق اور مطالبات منوانے کا ان کا اپناعزم اور حوصلہ بھی اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ پارٹی لیڈر اگر اس ہمت کی اجازت دیں۔ کلکتہ کی اہم شخصیتوں سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی۔ حاصل یہ تھا کہ جب تک دلت طبقات یا پھر کانگریس یا کموینسٹ ساتھ نہ دیں کوئی نئی جماعت نہیں چل سکتی۔ حال ہی میں انصاف پارٹی اور ایسی ہی کچھ اور تحریکوں کے نام اور قیام سننے میں آیا اور ان کے کچھ جلسوں کے بارے میں بھی پڑھا۔ وہاں بھی یہی احساس کمتری ہے کہ مسلمان اپنے بل بوتے پر کچھ نہیں کرسکتے انہیں جب تک دلت اور ہندو عوام بیساکھیاں فراہم نہ کریں ان کا چلنا مشکل ہے۔  یہ محض احساس کمتری ہے۔ ایسی اگر کوئی نئی پارٹی وجود میں آتی بھی ہے تو پھر وہی نمبروں کے کھیل میں مسلمانوں کی پوزیشن وہی ہوگی جو کانگریس وغیرہ میں ہے۔ اکثریت جس فرقے کی ہوگی لازماً وہی فرقہ اختیارات کا حامل ہوگا اور ا قلیت میں رہنے والے نہ کبھی اختیار رکھتے ہیں نہ زیادہ دن ان کا ساتھ چل سکتا ہے۔ جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دوسری ذاتوں کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ اس غلط فہمی سے باہر آئیں کہ ان کو اقتدار میں برابر کا حصہ بھی مل سکتا ہے۔ اقتدار کا نشہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بار اقتدار میں آنے کے بعد اپنے باپ سے بھی مصلحت برتنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ </p>
<p>یہ ہے تو ایک لطیفہ لیکن حقیقت واقعہ ہے، غور کرنے کی ضرورت ہے۔<br />
ایک بار گدھوں نے سوچا کہ ہم سب کو مل کر ایک پارٹی بنانا چاہئے اور شیر سے الائنس کرنی چاہئے۔ اس سے ایک طرف تو ہم شیر کے ہاتھوں شکار ہونے سے بچ جائیں گے اور دوسری طرف شکار میں سے ہم کو برابر کا حق بھی ملے گا۔ چنانچہ انہوں نے ایک پارٹی کی تشکیل کی اور شیر کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ہم شکار کو گھیرنے میں آپ کی مل کر مدد کریں گے اور جو بھی شکار ہوگا آپس میں تقسیم کریں گے۔ شیر نے کہا ٹھیک ہے۔ بیٹھی جگہ پر اس کو خود جب شکار پیش کیا جا رہا ہے تو وہ انکار کیسے کر سکتا تھا۔ گدھوں نے خوب محنت کی اور لومڑیوں اور بکریوں کو گھیر کر شکار کیا اور شیر کے سامنے پیش کیا۔ شیر بہت خوش ہوا۔ اس نے شکار کے تین حصے کئے اور کہا :<br />
"اس میں سے ایک حصہ تو جنگل کے راجہ کا ہے جو کہ میں ہوں۔ دوسرا حصہ میرا ہے کیونکہ میں آپ لوگوں کا سیاسی پارٹنر ہوں۔ اب رہا تیسرا حصہ تو اگر کسی میں ہمت ہو تو ہاتھ لگا کر بتائے"۔<br />
اقلیت میں رہ کر جب آپ  اکثریت کے ساتھ اس قسم کے معاہدے کرتے ہیں تو یہی حشر ہوتا ہے۔ اور عربوں کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ پرویز مشرف، حسنی مبارک، زین العابدین، عبداللہ صالح کل تک تو اسی امریکی الائنس کا حصہ تھے جو افغانستان اور عراق میں اپنا شکار کررہا تھا۔ قذافی نے آخری وقتوں میں تو امریکی و یوروپی ملکوں سے تعلقات بحال کرکے انہیں رام کرنے کی کوشش بھی شروع کردی تھیں۔ آج جو عرب قومیں ملکِ شام میں ناٹو اور امریکی مداخلت پر خاموش ہیں اور میڈیا میں ایران، شام اور فلسطینی حکومتوں کی کردار کشی میں امریکہ کا ساتھ دے رہی ہیں کل یہ تمام بھی ایک ایک کر کے ان گدھوں کی طرح کھڑی ہونے والی ہیں جو آخر میں شیر کے صرف اس بات پر مشکور رہیں گے کہ اس نے ان کی جان بخش دی۔<br />
اردو کی ایک کہاوت ہے "بل میں بل اپنا بل" اپنی جماعت بھی اپنے خاندان ہی کی طرح ہوتی ہے۔ غیروں کے ساتھ چاہے جتنی اچھی گزرے لیکن اپنا خاندان اپنا ہی ہوتا ہے۔ اپنی جماعت ہو تو اس سے صرف سیاسی فائدے نہیں ہوتے بلکہ یہ کسی نہ کسی طرح دین، قوم، زبان اور سماج کے لیے بھی آواز اٹھاتی ہیں۔ مسلم تاریخ کا کبھی کوئی ورق یاد دلاتی ہیں تو کبھی سیرت کا پیغام پہنچانے میں مددگار ہوتی ہیں۔ کانگریس کو ہم نے دیکھ لیا کہ ہمیشہ عین الکشن سے پہلے اسے کبھی مسلمانوں کیلئے کوٹہ یاد آتا ہے تو کبھی اردو۔ بی جے پی کو بھی عین الکشن سے پہلے درگاہیں یاد آتی ہیں تو انہیں ایسے چاپلوس مرشد بھی مل جاتے ہیں جو انہیں دستار اور تلوار پیش کرتے ہیں۔ انّا ہزارے کے پیچھے کھڑے تصویریں کھنچوانے والے ٹوپی اور شیروانیوں میں کھڑے نادان چمچے یہ بھول جاتے ہیں کہ انّا ہزارے گاندھی سمادھی پر سجدے کر کے جب اٹھتا ہے تو سب سے پہلے "بندے ماترم" کہتا ہے جو کہ ایک دہشت گردانہ ترانہ ہے۔<br />
کمیونسٹوں نے بنگال میں کہا تھا کہ ہم نے کبھی بنگال میں کوئی گجرات ہونے نہیں دیا۔ لیکن تیس سالوں میں جسطرح  انہوں نے مسلمانوں کو تعلیم، روزگار اور اوقافی جائدادوں سے محروم کیا اسکے سامنے گجرات بھی بہت چھوٹا لگتا ہے۔ یوپی ہو کہ ایم پی، بنگال ہو کہ کرناٹک، مسلمانوں کو اپنے ذاتی یا ملّی مسائل کے حل کیلئے بھیک مانگنی پڑتی ہے یا پھر رشوت۔ اور مسلمانوں سے رشوت لینا اور انہیں ہراساں کرنا آج ہندوتا ذہنیت کے افسروں کیلئے نہ صرف ثواب بلکہ قوم پرستی کی اعلیٰ خدمت کے برابر ہے۔</p>
<p>میں نے حیدرآباد میں مجلس کے صدر دفتر دارالسلام پر دیکھا کہ بے شمار مرد و خواتین قطار میں اسد اویسی اور اکبر اویسی کے پاس آتے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ کوئی نہ کوئی عرضی ہوتی ہے۔ کسی کا غیر ضروری طور پر تبادلہ کردیا گیا ہے تو کسی کا پاسپورٹ روک دیا گیا ہے، کسی کو پولیس غیر ضروری طور پر تنگ کر رہی ہے تو کسی کی زمین پر قبضہ ہو گیا ہے۔ اور میں نے دیکھا کہ دونوں بھائی بشمول دیگر ایم ایل ایز جس مستعدی اور دلیری سے کبھی راست کمشنر یا متعلقہ آفیسر سے بات کرتے ہیں تو کسی کیلئے فوری لیٹر لکھتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ ہر ایک کی مدد ہو۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر ان کی جگہ کوئی ریڈی یا راؤ، یادو یا چٹرجی ہوتے تو کیا اتنے بے شمار لوگوں کی مدد ممکن تھی۔ اگر ممکن بھی ہو تب بھی مسلمانوں کو ان کے سامنے حق مانگنے والی کی حیثیت سے نہیں بلکہ احسان یا بھیک مانگنے والوں کی طرح جا کر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔<br />
اسی طرح ہم نے دیکھا کہ جناب عابد علی خان صاحب کے دفتر پر نہ صرف بے شمار پریشان حال لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے بلکہ اس مرکز سے وہ بے شمار علمی، تعلیمی، زبان، کیریئر گائیڈنس وغیرہ کے ناقابل فراموش خدمات انجام دیئے جاتے ہیں کہ کبھی اساتذہ کو جمع کر رہے ہیں تو کبھی پورے ہند و پاک کے تمام اردو ایڈیٹروں کو کبھی علماء کو تو کبھی دانشوروں کو۔ اس طرح حمیتِ قوم کے فروغ کیلئے جناب زاہد علی خان صاحب، ظہیرالدین علی خان صاحب نے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے۔ سماجی اصلاح بالخصوص جہیز کے محاذ پر زاہد علی خان کی تحریریں اور مہمات نے اہم رول ادا کیا ہے۔ یہ اس وقت تک ناممکن تھا جب تک ان کے اپنے ذاتی اثر و رسوخ سیاست پر نہ ہوں۔</p>
<p>آج چند مفاد پرست حضرات بیچ میں لگائی بجھائی کر کے دونوں گروہوں میں اختلافات کو اور ہوا دے کر تماشہ ضرور کر رہے ہیں۔ لیکن ان شاء اللہ یہ اختلافات ایک نہ ایک دن ختم ہو جائیں گے تب آپ اندازہ لگایئے جب یہ حضرات انفرادی طور پر مسلمانوں کو اس قدر فائدہ پہنچارہے ہیں تو مل کر کتنا فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ حیدرآباد کی جیلوں سے معصوم نوجوانوں کو آزاد کروانے میں عابد علی خان صاحب، اویسی برادران، میجر قادری صاحب، سیول رائٹس کے لطیف صاحب وغیرہ کی مشترکہ کوششوں سے ہندوستان میں ایک عظیم مثال قائم ہوئی اور مسلمانوں کا وقار بلند ہوا۔ یہ سب مسلمانوں کی اپنی جماعت اور اپنی سوچ لے کر اٹھنے سے ممکن ہے ورنہ ہر ریاست میں آج بھی سینکڑوں بے گناہ مسلمان نوجوان بدترین ظلم کا شکار ہیں جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ </p>
<p>یہ ایک پیغام ہے یو۔پی، ایم۔پی، راجستھان، کرناٹک اور بنگال وغیرہ کے تمام مسلمانوں کیلئے کہ وہ پہلے اپنی "انفرادیت" کو اپنی ایک جماعت کے ذریعے مضبوط کریں۔<br />
ہم ہندو برادری کے ساتھ ہیں ایک سیکولر ملک میں رہتے ہوئے ہم ان سے کہیں زیادہ سیکولر ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اپنی طاقت کو ختم کرکے ان کی طاقت بن جائیں۔<br />
آپ کی اپنی انفرادیت ہوگی تو آپ کنگ میکر کا رول بھی ادا کرسکیں گے۔ کیا  آپ نے یوٹیوب پر دیکھا نہیں کہ ایک اسد اویسی کی تقریر پوری اپوزیشن پر بھاری پڑجاتی ہے اور اکبر اویسی کی گونج سے ارکان اسمبلی ہی نہیں ایوان اسمبلی  بھی لرزہ بر اندام ہوجاتے ہیں۔ اویسی صاحبان سے کانگریس سیاسی مفاہمت کرنے پرخود مجبور ہے کیونکہ مجلس کی اپنی طاقت ہے۔ زاہد علی خان صاحب سے تلگو دیشم اور کمیونسٹ خود مفاہمت پر مجبور ہیں کیوکہ ان کا اپنا ایک رعب اور طاقت ہے۔ اگر دوسری ریاستوں میں بھی مسلمان پہلے اپنی طاقت کو یکجا کریں اور مضبوط کریں تو کوئی عجب نہیں کہ ممتا ہو کہ نتیش، لالو یا پاسوان، مایاوتی ہو کہ کانگریس یا کمیونسٹ ،  مسلمان اپنے بل بوتے ان کو نہ صرف مفاہمت پر مجبور کر سکتے ہیں بلکہ اسی طریقے سے آر ایس ایس اور بی جے پی اور ان کے ہمنوا  تمام فرقہ پرست بلکہ دہشت گرد طاقتوں کا مقابلہ ممکن ہے۔<br />
آج دوسری ریاستوں میں کہیں بھگوت گیتا تو کہیں وندے ماترم اور سرسوتی وندنا کو اسکولوں میں لازم کیا جا رہا ہے۔ تو کہیں سوریا نمسکار یا سورج کی پوجا کروائی جارہی ہے تو کہیں گائے کاٹنے پر سات سال کی سزا مقر ر کی گئی ہے۔ لیکن آندھرا پردیش اور کیرالا میں یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ یہاں مجلس اور مسلم لیگ کی طاقت اتنی تو ہے کہ بی جے پی اور آر یس یس سر نہیں اٹھا سکتے۔<br />
مجلس اتحادالمسلمین کے قائدین یا طریقہ کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور نہ ان کے تمام ارکان اور ایم اہل ایز کو کلین چٹ دی جا سکتی ہے۔ لیکن مجلس کی نظریاتی بنیاد اور اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مجلس جیسی جماعت ہر ریاست کے مسلمانوں کی پہلی ضرورت ہے بالخصوص مہاراشٹرا اور بنگال و یو۔پی میں۔ مہاراشٹرا میں کانگریس ہمیشہ شیوسینا کی پس پردہ مددگار رہی ہے اسی لئے وہ دن دہاڑے غیر مرہٹیوں کے خلاف  توڑ پھوڑ اور مارپیٹ کرتے پھرتے ہیں حکومت ان کا بال بیکا نہیں کر سکتی۔ یہ دہشت گردی اور غیرجمہوری طریقہ کار ہے لیکن جب مسلمانوں کے پاس جمہوری ہتھیار موجود ہے اور وہ اپنے ووٹ کا استعمال کسی کیلئے بھی کرسکتے ہیں تو بجائے غیروں پر اندھا بھروسہ کرنے کے اپنی جماعت پر بھروسہ کریں۔ پچاس ساٹھ سال میں کبھی کانگریس پر اور کبھی کمیونسٹوں پر کبھی جنتا پارٹی پر توکبھی کسی اور پر بھروسے کر کے دیکھ لیا۔ مسلمانوں کی حالت بد سے بدتر کو جا پہنچی۔ آج وہ دلتوں سے بھی بدتر حالات میں ہیں۔ دلتوں کیلئے پچاس فیصد کوٹہ ہے لیکن مسلمانوں کے پاس کچھ نہیں۔ کل تک جو کام رذیل تصور کئے جاتے تھے اور دلتوں کیلئے مخصوص سمجھتے جاتے تھے آج مختلف گاؤں اور دیہاتوں میں وہ کام مسلمان کرنے پر مجبور ہیں ان کی آواز اٹھانے والا کوئی اس لئے نہیں کہ غیر مسلم خود آپس میں بے شمار ذاتوں میں منقسم ہیں۔ ہر ذات کا آدمی پہلے اپنی ذات کے آدمی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کی آئندہ سیٹ محفوظ رہے۔ ایسے وقت میں مسلمان صرف رحم و کرم کی بھیک کے علاوہ کچھ نہیں مان سکتے۔</p>
<p>آج ضرورت ہے کہ زاہد علی خان، اویسی برادران دوسری ریاستوں میں پیش قدمی کریں اور مسلمانوں کی اپنی سوئی ہوئی طاقت کو جگائیں۔ بے حد خوشی ہوتی ہے جب اخبار میں اکبراویسی مہاراشٹرا ، آندھرا اور تلنگانہ کے اضلاع میں  ہزاروں کے مجمع کو للکارتے  ہوئے نظر آتے ہیں۔ خود آندھراپردیش میں جہاں مجلس کی آٹھ کی جگہ پچیس سیٹیں ہونے کے پورے پورے امکانات موجود ہیں۔ کانگریس سے ان کی کیا سیاسی مفاہمت ہے اور اس کے کیا فائدے ہیں  وہ حیدرآباد سے باہر نکل کر کئی ان اضلاع میں الکشن کیوں نہیں لڑسکتے جہاں سے جیت یقینی ہے۔یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن اتنا جانتے ہیں کہ  نظام آباد، عادل آباد، کڑپہ، گنٹور، محبوب نگر، میدک وغیرہ جیسے کئی مقامات ہیں جہاں سے مسلمان بہ آسانی جیت کر آ سکتے ہیں اور مجلس کی طاقت دگنی اور تگنی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ہمارے خیال میں ایک مجلس اتحادالمسلمین کی شدید ضرورت مغربی بنگال، بہار اور یوپی اور مہاراشٹرا میں ہے جہاں مسلمان 20-25%ہیں۔ کئی جگہ تو پچاس فیصد تک بھی ہیں۔ لیکن ہر جگہ کہیں کمیونسٹوں نے کہیں لالو اور نتیش نے تو کہیں ملائم اور مایاوتی نے مسلمانوں کا جو حشر کیا ہے وہ خون کے آنسو رلانے والا ہے۔ اگر آپ مسلمان بستیوں میں جاکر دیکھیں تو حیدرآباد کے پرانے شہر کی گلیوں کو بھول جائیں۔ مسلمانوں میں بے روزگاری، ناخواندگی، فحاشی اور پست پیشوں کو اپنانے کی مجبوری یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اب دوسروں پر مزید اعتبار کرنے کے بجائے خود اپنے اندر اعتماد پیدا کریں، سہارے ڈھونڈنے کے بجائے اپنی طاقت کے سہارے اٹھیں اور ایک جماعت بنیں۔ آسام کی مثال بھی سامنے ہے جہاں تیرہ مسلم ایم پی اپنی جماعت کی طاقت پر آگے آئے ہیں۔</p>
<p>{ نوٹ } آبادی کے فیصد تناسب اس ویب سائٹ سے لئے گئے ہیں :<br />
<a href="http://www.aicmeu.org/Muslim Population Distribution in India.htm">http://www.aicmeu.org/Muslim Population Distribution in India.htm</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/mim-in-every-state-in-india/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بنگال کو جہیز میں ڈوبتا دیکھا</title>
		<link>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/saw-bengal-drowning-in-dowry/</link>
		<comments>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/saw-bengal-drowning-in-dowry/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 04 Dec 2011 09:32:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[خبر نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[بنگال]]></category>
		<category><![CDATA[کولکاتا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://socioreforms.com/ur/?p=192</guid>
		<description><![CDATA[سيروا في الأرض فانظروا ... المجرمين {1}
کلکتہ میں "جہیز روکو" مہم  ـ  16/ تا 21/ نومبر 2011ء
بنگال کے قحط کے بارے میں ہم نے صرف تاریخ میں پڑھا تھا لیکن اب  اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ لیکن اس بار یہ زمینی قحط نہیں تھا جو انسانوں کو دانے دانے کا محتاج کر دیتا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h3>سيروا في الأرض فانظروا ... المجرمين {1}</h3>
<h2 style="text-align: center;">کلکتہ میں "جہیز روکو" مہم  ـ  16/ تا 21/ نومبر 2011ء</h2>
<p>بنگال کے قحط کے بارے میں ہم نے صرف تاریخ میں پڑھا تھا لیکن اب  اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ لیکن اس بار یہ زمینی قحط نہیں تھا جو انسانوں کو دانے دانے کا محتاج کر دیتا ہے۔ یہ اخلاقی اقدار کا قحط تھا جو دین و قرآن سے غفلت کی بنا پر دلوں اور دماغوں کو سوکھا کر جاتا ہے۔ مرد جہیز کی بھیک مانگنے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور غریب لڑکیوں کے والدین لڑکی کے ہاتھ پیلے کرنے کیلئے حلال و حرام کی پروا کئے بغیر ہر قسم کی کمائی کے ذریعے اپنے ہاتھ گناہ آلود کر لیتے ہیں۔ خوشحال لوگ اللہ کی دی ہوئی دولت کو اپنی ذات اور اپنے خاندان کی خوشیوں پر جائز یا ناجائز کی پروا کئے بغیر لٹانے کو جائز کر لیتے ہیں اور رسومات کے غلط ماڈل قائم کر کے پورے معاشرے میں حسرتیں ، آرزوئیں اور حرص و لالچ پیدا کرتے ہیں۔ ان کے آگے نہ قرآن کی وارننگ کوئی کام کرتی ہے نہ سنّت کی دہائی۔</p>
<p>مغربی بنگال کے مسلم علاقوں کو دیکھنے کے بعد یہ یقین اور پختہ ہو جاتا ہے کہ اگر ہمارے خوشحال طبقے اور علماء و مفتیانِ کرام نے جہیز کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو آئندہ دو تین دہوں میں یہ قوم معاشی طور پر ہریجنوں سے بھی بدتر حالت کو پہنچنے والی ہے۔ اور یہ بھی یقین پختہ ہو جاتا ہیکہ مسلمان چاہے تعلیمی، معاشی یا سیاسی طور پر لاکھ ترقی کرلیں اگر جہیز کی لعنت کو نہ ختم کیا گیا تو اخلاقی طور پر غیر قوموں سے بھی بدتر ہو جائیں گے ۔<br />
یہاں مرد شادی کیلئے لڑکی والوں سے کم از کم پچاس ہزار روپیئے، موٹر سائیکل، فرنیچر اور تمام باراتیوں کو کھانا کھلانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ سونا اور دیگر اشیاء الگ سے ہوتی ہیں جو بغیرمانگے بھی لازمی ہوتی ہیں۔ اس طرح ہندوستان کی دوسری ریاستوں کی طرح مغربی بنگال میں بھی مردوں میں بے غیرتی اور جہیز کی بھیک لینے کی وبا عام ہے۔ حیدرآباد اور دوسری ریاستوں کے بے شمار شریف اور خودداروں کی طرح یہاں بھی ایسی ہی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جو کبھی یہ نہیں کہتی کہ ہم نے جہیز یا دعوت مانگ کر لی ہے۔ ہر شخص یہی کہتا ہے کہ ہم نے کوئی شرط نہیں رکھی، لڑکی والوں نے اپنی خوشی سے دیا ہے۔جب کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دینے والا بھی انہی کی طرح کی حیثیت والا ہے۔ لیکن لڑکی پیدا کرنے اور اسے بڑا کرنے کے جرم میں بھیک ، چندہ یا قرض مانگ کر یا حلال و حرام کی پروا کئے بغیر کما کر یا پھر اپنے بیٹوں کا حق مار کر یا اپنے بڑھاپے کی مددگار آمدنی کو تج کر  وہ  جہیز اور دعوت کا انتظام کر رہا ہے۔</p>
<p>اہلیانِ  مغربی  بنگال  سے خصوصی  درخواست:<br />
کلکتہ والوں کو یاد رہے کہ شیر شاہ سوری  اور دیگر مسلم فرمانرواوں کی بنائی ہوئی سڑکیں، مدرسے اور عمارتیں جو اگرچہ کہ آج ہمارے کردار کی طرح بوسیدہ ہو چکی ہیں لیکن یہ یاد دلاتی ہیں کہ مسلمانوں نے اس ملک کو ایک تہذیب اور تاریخ دی ہے۔<br />
بنگال کی سرزمین وہ سرزمین ہے جہاں سے سراج الدولہ نے سب سے پہلے اس ملک کی حفاظت کیلئے انگریزوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا۔ وندے ماترم جیسی ناپاک، مسلم دشمن تحریکوں نے انگریزوں سے ہاتھ ملا کر نہ صرف دشمن کے ہاتھ مضبوط کئے بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی اتنی کردار کشی کی کہ آج بھی ایک مسلمان تاریخ کے آئینے میں اپنا مسخ کیا گیا چہرہ دیکھ کر گھبراتا ہے۔ ہمارے علما نے انگریزوں کا مقابلہ اسطرح کیا کہ ان کی لائی ہوئی ہر شئے کو حرام قرار دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ انگریزی تعلیم، تعلیمِ نسواں، فیملی پلاننگ، بنک ، انشورنس، سرکاری نوکریاں، انگریزی لباس وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان انگریزوں کا ساتھ دینے والی قوم کے طریقوں کو حرام نہیں کیا۔ جسکی وجہ سے آج جہیز جیسی لیںت   مسلمان معاشرے کو دیمک کی طرح ختم کر چکی ہیں۔ ا<br />
ٓج وقت آگیا ہے کہ جس قوم نے ان کی تاریخ ، تہذیب اور دین کو مسخ کیا ہے اس سے بدلہ لیا جائے۔ یہ ہر مسلمان پر ایک قرض ہے۔ لیکن یہ بدلہ ان فرقہ پرست پارٹیوں کی طرح نہیں لیا جا سکتا جو نہتے انسانوں پر وار کرتی ہیں اور بستیوں کی بستیاں جلا ڈالتی ہیں۔ اسکا طریقہ مکّی زندگی کے اس اسوہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)  کی روشنی میں سیکھا جا سکتا ہے جس میں ظلم کا مقابلہ صرف صبر اور دعوت اور تعمیرِ کردار کے ذریعے ممکن ہے۔ جہیز کو مٹا کر آج ہر مسلمان پوری مشرک ہم وطن قوم کو اتنا بڑا پیغام دے سکتا ہے کہ بغیر جنگ کے وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ جہیز کا مسئلہ پورے ہندوستان کا ہے۔ اسمیں ہر مذہب کے افراد بری طرح پس رہے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر ہم عورتوں کو انصاف مہیا کر سکیں تو ہزاروں بچیاں جو بطنِ مادر میں ہی مار ڈالی جاتی ہیں، ہزاروں دلہنیں جو جلا دی جاتی ہیں، ہزاروں عورتیں جو خودکشی پر مجبور ہوجاتی ہیں، لاکھوں باپ اور بھائی جو قرضوں، سود، یا پھر چوریوں اور دھوکے پر مجبور ہوتے ہیں ۔۔۔ ہم ان تمام کیلئے ایک مسیحا بن کر اٹھ سکتے ہیں اور کروڑہا افراد کیلئے ایک ایسی دعوت کا ذریعہ بن سکتے ہیں جس کے ذریعے انہیں چلتا پھرتا اسلام نظر آئیگا اور وہ اسلام کے قدموں میں ہونگے۔<br />
اب وقت آگیا ہے کہ ہر مسلمان اٹھے اور اپنی شادیوں کو مکمل آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)  کے طریقے پر کرے اور معاشرے میں زنا کو مشکل کر ڈالے۔  ہمارے امیر اور خوشحال لوگ دولت کے دکھاوے کی کم ظرفی سے باز آئیں اور اپنی اولادوں کی شادیاں علی(رضی اللہ عنہ) و فاطمہ(رضی اللہ عنہا) کے طریقے پر کریں۔ مرد اپنا مال خرچ کرے اور لڑکی والوں کی جانب سے چاہے خوشی سے دیا جائے یا سسٹم کے نام پر یا مطالبے و فرمائش کے ذریعے، ہر ایسے مال چاہے وہ بستر ہو کہ نقد رقم، موٹر ہو کہ سائیکل اسکو حرام جانیں۔ اگر مسلمان یہ خودداری پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو ان شاءاللہ ان کی نشاۃ ثانیہ کاآغاز ہوگا۔</p>
<p>محمد عمر خان صاحب جنرل سکرٹری "رحمہ فاونڈیشن" و "بنگال ایجوکیشن ٹرسٹ"کلکتہ کی ایک اہم، انتہائی متحرک اور انٹلکچول شخصیت کے مالک ہیں۔ قوم کی فکر سے صبح کرتے ہیں اور خدمت خلق میں پورا دن اپنے آپ کو تھکا کر یہی فکر ذہن پر لے کر سوتے ہیں۔ہر حلقہ فکر میں ان کی خوب رسائی ہے۔ انہی کی سرپرستی میں ہر جلسے یا اجتماع میں بے شمار افراد کا جمع ہو جانا اور بعض اوقات دو ، دو گھنٹے تک کھڑے ہوکر پورے انہماک سے سننا اور جہیز روکو مہم کی ہاتھ اٹھا اٹھا کر تائید کرنا اس بات کا ثبوت ہیکہ اس وقت جہیز کے خلاف ہر دل میں نفرت اور ہر ذہن میں احتجاج ابل رہا ہے۔ وہ ہر ایسی اجتماعی کوشش کا ساتھ دینے بے چین ہیں جو ان متاثرین کی مسیحائی کرے اور جہیز کے دلدل سے انہیں باہر نکالے۔ اگرچہ کہ ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں ریاستِ بنگال میں سب سے زیادہ مسلمان آباد ہیں لیکن ان کی معاشی، اخلاقی ، تعلیمی اور سیاسی حیثیت دوسری ریاستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پست ہے۔ یا سازشاً کر دی گئی ہے۔<br />
جسٹس ساچر نے غالباً یہیں سے اپنا سروے شروع کیا جسکی بنا انہیں یہ کہنا پڑا کہ پچاسی فیصد مسلمان سطحِ غربت سے بھی نیچے ہیں۔ اسی لئے شائد ان میں حیدرآباد کے مسلمانوں کی طرح اپنی ایک طاقتور مسلم پارٹی بنا کر "کنگ میکر" کا رول ادا کرنے کا شعور نہیں ہے۔ اور نہ اسکی ہمت ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بغیر ہریجنوں کے مدد کے وہ آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ دینی و اخلاقی پسماندگی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اگرچیکہ عام مسلمانوں میں اسلام سے محبت پائی جاتی ہے لیکن علم و عمل سے کورے ہیں۔ جو کچھ جذبہ دینی پایا جاتا ہے وہ محض ان مدرسوں کے جال سے ہے جو پورے بنگال میں پھیلا ہوا ہے۔ لیکن ان مدارس میں وہی نصابِ تعلیم رائج ہے جو دیڑھ دو سو سال قبل اُس وقت کی ضروریات کے پیشِ نظر مرتّب کیا گیا تھا لیکن اب آوٹ آف ڈیٹ ہو چکا ہے۔ اسلئے یہاں سے جو لوگ فراغت حاصل کر کے نکل رہے ہیں سوائے ایک دو فیصد کے باقی سارے فقط امامت، مؤذّنی یا تدریس کے کچھ اور قابلیت نہیں رکھتے۔حُفّاظ کی ایک فوج ہے جو قرآن کے معنی و مطالب سے بے بہرہ ہے۔ علما و مفتیوں کی ایک عظیم تعداد ہے جن کی پوری سوچ اور تگ و دو محض فقہی مسائل، علمی موشگافیوں یا صوفیانہ فلسفہ کے اطراف گھومتی ہے۔ ایسے علما و و خطباء کے زیرِ سایہ جو قوم آگے بڑھ رہی ہے اسکے نزدیک حقیقی اسلام کا شعور بیدار کرنے اور اسے نافذ کرنے اور اسکی دعوت کا ذریعہ بننے کے شعور کا فقدان ہے۔<br />
مثال کے طور پر جہیز ہی کو لے لیجئے۔ کون نہیں جانتا کہ یہ قرآن و حدیث کی روشنی میں نہ صرف حرام ہے بلکہ یہ دورِ حاضر کا ایک ایسا فتنہ ہے جو بے شمار بدترین برائیوں کی جڑ ہے جیسے غربت و افلاس کی وجہ سے ۔۔۔ اخلاقی اقدار سے فرار، قرآن و سنّتوں کی کھلی خلاف ورزی، مردانہ و زنانہ جسم فروشی، عورتوں میں بے راہ روی، خوشحال لوگوں میں دین بیزاری، لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادیاں، لڑکیوں کی شادی کے اخراجات کی پابجائی کیلئے لوگوں کا جھوٹ، چوری، دھوکہ، رشوت وغیرہ کو جائز کر لینا ۔۔۔ ایک طرف یہ بے دینی اور جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں تو دوسری طرف ہماری مذہبی اسٹابلشمنٹ کے پاس وہی گِھسے پِٹے مسائل ہیں جو فروعی ہیں۔ اصل اسلام جن سے معاشرے میں عدل و انصاف قائم ہو، جن سے دوسری قوموں میں دین کو سمجھنے کا داعیہ پیدا ہو، امانت داری، پاکی و صفائی، حلال کاروبار، جائز خرچ وغیرہ کا چلن پیداکرنے والا نصاب نہ مدرسوں میں ہے شامل ہے اور نہ اقامتِ دین کا مضمون ۔ اگر ہیں بھی تو تھیوری کی حد تک، پراکٹیکل نہیں۔ جماعتیں بھی اپنے مخصوص ایجنڈے لے کر چلتی ہیں۔ اصلاحِ معاشرہ ان کا اصل ہدف نہیں ہوتا بلکہ اصلاحِ معاشرہ پر تقریریں کروانا اور جلسے جلوسوں کے ذریعے اپنے کارکنوں کو تازہ دم رکھنا اور انہیں ہوم ورک میں مصروف رکھنا ان کا اہم مسئلہ ہوتا ہے۔ اسلئے بے شمار اصلاحِ معاشرہ کے جلسے ، سیمینار، رسائل و مدارس ہونے کے باوجود مسلمانوں کا دینی واخلاقی گراف مسلسل زوال پذیر ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں "رحمہ فاونڈیشن " نے بہت اچھا قدم اٹھایا ہے۔ وہ یہ کہ مدارس کے اخراجات کی ذمہ داری وہ اپنے سر لے کر علما و اساتذہ کو چندے کرنے کی ذمہ داری سے آزاد کر دیتے ہیں۔ البتہ نصاب اور انتظامیہ پر اپنی مانیٹرنگ باقی رکھتے ہیں۔ ورنہ علما و اساتذہ کیلئے چندے وصول کرنا نہ صرف ایک تکلیف دہ کام ہے بلکہ اس سے اکثر مدارس میں بدعنوانیاں اور رسوائیاں پیدا ہوئی ہیں۔ چونکہ اماموں اور اساتذہ کی تنخواہیں ایک ہزار تا دو ہزار روپئے ہی ہوتی ہیں۔جو کہ ہمارے پیٹ بھرے طبقے کے بچے ایک ہی مرتبہ کے کھانے کیلئے برگر یا آئس کریم میں اڑا ڈالتے ہیں۔ان اماموں یا اساتذہ کی تنخواہ کا تعین اس کسوٹی پر بھی ہے کہ وہ کتنی اعانتیں وصول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رحمہ فاوندیشن کے تحت ابھی تو پندرہ سولہ مدارس ہی ہیں لیکن چونکہ اسمیں شہر کے نامور تاجر، رہنما، اور علما و دانشور بشمول محمد قمرالدین ملک، ایوب کولیا، پروفیسر عبدالرحیم وغیرہ جیسی معزّز ہستیاں شامل ہیں، اسلئے ان کے ذریعے اعانتوں کا حصول علما یا اساتذہ کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ ان شاءاللہ رحمہ فاوندیشن کے تحت مدارس کی تعداد بڑھے گی، نصاب میں تبدیلی آئیگی۔ کم سے کم ایک دو ایسے مضامین ضرور شامل کئے جائینگے جن کے ذریعے طلبا میں روزگار کے حصول میں آسانی ہوگی۔ اور اسطرح دیوبند، ندوہ اور بریلی جیسے عظیم دینی مراکز کی طرح کلکتہ میں بھی ایک دینی مرکز وجود میں آجائیگا۔</p>
<p>زکوٰۃ خیرات و چندوں کے پروردہ ان مدرسوں میں جہاں یتیم، مسکین اور محتاج گھرانوں کے بچے محض تین وقت کی روٹی اور تن پر کپڑے کی خاطر ہی پڑھتے ہیں ، ان میں لاکھ برائیاں سہی، ان کے نصاب میں لاکھ کمزوریاں سہی لیکن ان کا ایک کارنامہ ہم فراموش نہیں کر سکتے کہ کل یہی بچے ہوں گے جن کی وجہ سے ہندوستان کی ہر گلی میں اذان کی آوازیں گونجیں گی اور جنکی تدریسی خدمات کی بنا ہی گھروں اور مسجدوں میں قرآن کی تلاوت بلند ہوگی۔ ورنہ لاکھوں روپئے خرچ کرنے والے امیر گھرانوں کے لڑکے جو ڈاکٹری، انجینئرنگ یا کمپیوٹر وغیرہ میں ماہر ہوں گے وہ تو کبھی آکر نہ مسجدوں کی صفائی کریں گے نہ اذانوں یا تلاوتوں سے مسجدوں اور گھروں کو آباد کریں گے۔</p>
<p>ایک اہم شخصیت ڈاکٹر مہناز وارثی سے ملاقات ہوئی۔ افلاس ، کثرتِ اولاد اور گندگی سے معمور پسماندہ بستیوں میں جہاں غربت کی بیماری کئی ایک اخلاقی اور جسمانی بیماریوں کو جنم دیتی ہے ایسی بستیوں میں غریب ولاوارث بچوں اور عورتوں کیلئے اس خاتون نے جو مردانہ وار ہمت و حوصلے سے خدمت کا کام کیا ہے وہ ہر مرد کیلئے ایک عبرت ہے۔ بلکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی ہے۔ ان کا "پریمے آشا " فاونڈیشن  مالدار اور خوشحال افراد کی توجہ کا طالب ہے۔ سینکڑوں لڑکیاں ہیں جن کو مزدور پیشہ باپ تعلیم نہیں دلا سکتے اور نہ اسکے قائل ہیں۔ کیونکہ ان کی طالبانی سوچ یہ ہیکہ اگر لڑکی پڑھنا اور لکھنا سیکھ جائیگی تو لڑکوں کو چٹّھی لکھنا سیکھنا شروع کر دے گی۔ یہ لوگ لڑکیوں کی شادی کیلئے جہیز اور دلہا کیلئے نقد رقم کا انتظام نہیں کر سکتے اسلئے لڑکیاں بڑی ہو کر بڑے لوگوں کے گھر کام کرنا اور روزی کمانا شروع کرتی ہیں۔ رفتہ رفتہ امیر گھرانوں کے نوجوانوں کے شوق کا شکار ہونے لگتی ہیں۔ انہیں ٹِپ میں کافی پیسے ملنے لگتے ہیں جسے دیکھ کر بستی کی دوسری لڑکیاں بھی ان کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں۔ ابارشن [Abortion] عام ہے۔ کئی عورتیں نومولود بچوں کو "پریمے آشا" کی دہلیز پر چھوڑ جاتی ہیں۔ مسلمان ماں باپ عام طور پر ایسی بیٹیوں کو در بدر کر ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بے گھر ہو جاتی ہیں۔ ایسی درماندہ لڑکیوں کیلئے کہیں کوئی آسرا نہیں ہوتا۔ یا تو وہ کسی چرچ یا پھر آشرم یا پھر قحبہ خانوں کے حوالے ہو جاتی ہیں۔ ایسی عورتوں کیلئے محترمہ نے ایک امان گھر بنانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ جو کسی مسلمان کی جانب سے ہندوستان میں اپنی نوعیت کا پہلا امان گھر ہوگا۔</p>
<p>مسلم انسٹیٹیوٹ کلکتہ میں برسہابرس سے تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہاں سے نکلنے والے بے شمار طلبا آئی ٹی، انجینئرنگ اور میڈیسن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ساری دنیا میں پھیل چکے ہیں۔ یہاں پر خطاب سے ہماری مہم کا آغاز ہوا ۔ پروفیسر تاریخ جناب محمد سلیمان خورشید، جنرل سکریٹری مسلم انسٹیٹیوٹ نے صدارت فرمائی۔اور جوائنٹ سکریٹری جناب ڈاکٹر عقیل احمد عقیل نے نظامت کی۔ شہر کی کئی اہم شخصیات  جیسے محمد قمرالدین ملک، ایوب کولیا، پروفیسر عبدالرحیم سابق پرنسپل بنگا باشی کالج کے علاوہ کئی ادبا، شعرا، دانشور، صحافی اور علما و مفتیانِ کرام موجود تھے۔ ڈاکٹر عقیل احمد ایک ذہین اور متحرک انسان ہیں۔ اردو سے ان کی محبت اور اسکا مطالعہ اس نسل کے نوجوانوں میں بہت کم پایا جاتا ہے۔ ایک اور اہم شخیتل جو کہ کلکتہ کے نامور زمیندار و تاجر ہیں جناب عرفان شیر صاحب جو اپنا بیشتر مال اور وقت ملّی کاموں پر صرف کرتے ہیں۔ جہیز روکو مہم کیلئے ان کی دلچسپی اور خلوص کی بنا ہم اور عمر خانصاحب کلکتہ کے دور دراز کے علاقوں تک پہنچ سکے۔ راستے ایسے ناہموار اور پر خطر بھی تھے کہ نازک پگڈنڈیاں تھیں جن پر بمشکل ایک کار گزرنے کی گنجائش ہوتی اور سڑک کے دونوں جانب دریا۔ ذرا سی غلطی موت کا سبب بن سکتی تھی لیکن جس مہارت کے ساتھ عرفان شیر صاحب گاڑی ایسے خطرناک موڑ سے بھی نکال لیتے تھے کئی جگہ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔</p>
<p>اس مہم میں علما کرام نے زبردست ہمت افزائی فرمائی۔ زیادہ تر جلسوں کا انتظام و انصرام اسی موقر طبقہ نے فرمایا اور انہی کی صدارت، نظامت اور ہماری تقاریر کے بنگالی میں ترجموں کی وجہ سے عوام میں جوش و خروش پیدا ہوا۔ کوئی اجتماع ایسا نہیں تھا جہاں سامعین کی ایک بڑی تعداد نے ہاتھ اٹھا کر جہیز اور دعوت کے بائیکاٹ کا اجتماعی عہد نہ کیا ہو۔ عام جلسوں کی نوعیت یہ ہوتی تھی کہ اسٹیج تو سڑک کے کنارے ایک چھوٹے سے پلیٹ فارم پر ہوتا اور کچھ بچے اور نوجوان اسٹیج کے سامنے جمع ہوتے لیکن دور دور تک گلیوں میں اور سڑکوں پر لاوڈ اسپیکر لگا دیئے جاتے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں ہر لاوڈاسپیکر کے اطراف لوگ جمع ہو جاتے اور ایک میلے یا عرس کا سماں ہو جاتا۔ وہ علما جنہوں نے ہماری رہنمائی فرمائی اور اپنے مدرسوں میں خصوصی خطاب کا اہتمام کیا ان میں کانکی نارا مسجدِ اسحاق سردار کے مولانا نثار قاسمی صاحب، مالنچک مدرسہ الباقیات کے مولانا محی الدین اور مولانا نثار احمد قاسمی جو انگریزی، بنگالی اور اردو کے بہترین مقرّر اور مترجم بھی ہیں۔ مدرسہ خواجہ غریب نواز امین پورہ کے ڈاکٹر مولانا عمر فاروق صاحب، دارلعلوم مہیش گدّی کے مولانا امین الاسلام صاحب ہیں۔<br />
یونیورسٹیوں میں سالانہ کانوکیشن کے موقع پر خصوصی لکچر تو ہوتے ہیں لیکن کسی دینی درسگاہ کے سالانہ تقسیم اسناد کے موقع پر جہیز کے موضوع پر خصوصی لکچر رکھوانا یہ ایک نیا کارنامہ تھا جو مدرسہ مہیش گدی کے مولانا امین الاسلام صاحب نے کیا۔ کانکی نارا میں نوجوانانِ "تحریکِ اصلاحِ معاشرہ" شاہد جلال اور جاوید نہال حشمی ، دونوں برادران تحریکی جذبے سے معمور ہیں۔ ان ہی کی (ایما) پر کانکی نارا کے عوام میں جہیز کے خلاف بیداری جاگی۔ اسکے علاوہ گارڈن بیچ مٹیا برج کی جامعہ مسجد میں جہاں مولانا امین الاسلام قاسمی صاحب کا خطبہ جمعہ ہوتا ہے انہوں نے انتہائی اعلیٰ ظرفی اور حکمت برتتے ہوئے خطبہ کا موقع ہمیں عنایت فرمایا۔ یہ ایک اچھی اور انوکھی مثال ہے۔ورنہ پورے ہندوستان میں برسہابرس ایک ہی خطیب صاحب ممبر پر قابض ہوتے ہیں۔ چاہے کوئی ان کی تقریروں سے لاکھ بور ہو وہ کسی کو ممبر چڑھنے نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہیکہ ہر مسجد میں اگرچہ کہ خطبے سے قبل اردو یا دوسری مقامی زبانوں میں بیان کا انتظام ہے لیکن کوئی نوجوان ان کا بیان ختم ہونے سے پہلے مسجد میں داخل نہیں ہوتا۔ اس سسٹم کو بدلنا چاہئے۔ جمعہ کے خطبوں کو ایک ہی خطیب کے بجائے مختلف علما دانشوروں، تعلیم یافتہ دین کا درد رکھنے والے اور سوچنے اور غور کرنے والے افراد میں باری باری تقسیم ہونا چاہئے۔ بہرحال مولانا امین الاسلام صاحب کی مہربانی کے باعث ہمیں مٹیابرج کی مسجد میں جمعہ کا خطبہ اردو میں دینے کا اتفاق ہوا اور کئی نمازیوں نے مسجد میں عہد کان کہ وہ جہیزجیسے حرام سے بچیں گے اور لڑکیوں کے والدین پر ڈالے جانے والی کھانے کی دعوتوں سے پرہیز کرینگے۔</p>
<p>ٓآخری اجتماع جناب عرفان شیر صاحب نے اپنے ہال میں منعقد کیا اور اپنے خاندان و احباب کی ساری خواتین کو جمع کیا۔ اس قسم کے سامعین کا یہ ایک شاندار اجتماع تھا اسلئے کہ جہیز کی لعنت کو بڑھاوا دینے والی اصل میں خواتین ہی ہیں جنکی تربیت کی ضرورت ہے۔ عورت کی اصل دشمن عورت ہی ہے۔ ایک عورت جو جانتی ہے کہ بیٹی کی شادی کیلئے اسے شوہر اور بیٹوں کو کن کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہ یہ بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ خود اسکی شادی کیلئے اسکے مانباپ اور بھائیوں کو کتنی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔ اسکے باوجود جب وہ اپنے بیٹے یا بھائی کیلئے دلہن کی تلاش میں نکلتی ہے تو بے حِس اور بے غیرت ہوجاتی ہے۔ آنے والی لڑکی کے والدین اور بھائیوں کو بھی انہی مشکلات میں ڈالتی ہے اور اپنا بدلہ لیتی ہے۔ اس پروگرام کی صدارت جناب عبدالعزیز صاحب امیر شہر کلکتہ جماعتِ اسلامی نے کی۔ اور اپنی مختصر اور پر اثر تقریر میں جہیز کی لعنتوں پر روشنی ڈالی۔<br />
ایک اور اہم شخصیت جناب رحمن سرکار سے ملاقات ہوئی یہ ایک انقلابی نوجوان ہیں۔ بنگالی ہفتہ وار "کی خبر" اور ٹی وی چینل کے مالک ہیں۔ جہیز کی مہم کو انہوں نے اپنے اخبار اور ٹی وی پر بہت پراثر انداز میں بنگالی ترجمے کے ساتھ پیش کیا۔</p>
<p>آئیندہ  پروگرام:<br />
سوشیو ریفارمز سوسائٹی کا کتابچہ "مرد بھی بکتے ہیں ۔۔جہیز کیلئے" جو کہ اردو میں تھا ہر جگہ تقسیم ہوا اور بے حد سراہا گیا ۔ لیکن کلکتہ کے باہر کے علاقوں میں اسکے بنگالی ترجمے کی شدید مانگ تھی اسلئے جناب عمر خاں صاحب نے اسکے ترجمے اور اشاعت کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ ان شاءاللہ یہ کتابچہ دو تا تین مہینوں میں شائع ہو جائے گا۔ اسکی رسمِ اجرا کے بہانے پھر مغربی بنگال کے دوسرے علاقوں میں یہ مہم چلائی جائیگی۔ اور انٹر کالج تقریری مقابلوں کے ذریعے کئی لڑکوں اور لڑکیوں کو تیار کیا جائیگا جو مقرّرین کے طور پر ہماری مہم کا حصہ بنیں گے ان شاءاللہ۔ اس عظیم مشن سے دلچسپی رکھنے والے حضرات سے درخواست ہیکہ ہماری رہنمائی فرمائیں۔ اور ہم سے رابطہ رکھیں۔</p>
<p>نوٹ:<br />
جہیز ، قرآن و حدیث و ائمہ کرام کی نظر میں کیونکر حرام ہے؟ شادی کے دن کا کھانا جو لڑکی والوں سے لیا جاتا ہے شریعت کی روشنی میں کیونکر ناجائز ہے؟<br />
اسکی تفاصیل کیلئے ملاحظہ فرمایئے :   www.socioreforms.com</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/saw-bengal-drowning-in-dowry/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>&quot;المعروف&quot; کی بنیاد پر لیے ہوئے جہیز کا لوٹانا واجب ہے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی</title>
		<link>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/the-dowry-taken-by-demand-or-by-default-must-be-returned-%e2%80%93-maulana-khalid-saifullah-rahmani/</link>
		<comments>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/the-dowry-taken-by-demand-or-by-default-must-be-returned-%e2%80%93-maulana-khalid-saifullah-rahmani/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Aug 2011 18:38:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>مبصر</dc:creator>
				<category><![CDATA[خبر نامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://socioreforms.com/ur/?p=187</guid>
		<description><![CDATA["المعروف" کی بنیاد پر لیے ہوئے جہیز کا لوٹانا واجب ہے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
 جدہ میں ایک اور کامیاب سیمینار۔ مولانا جعفر پاشاحسامی، مولانا محمد بانعیم اور علیم خان فلکی نے خطاب کیا۔

سوشیو ریفارم سوسائٹی۔جدہ کی جانب سے ایک اور اہم سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا جس میں ہندوستان کے معروف [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h2 style="text-align: center;"><span style="color: #ff0000;">"المعروف" کی بنیاد پر لیے ہوئے جہیز کا لوٹانا واجب ہے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی</span></h2>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;"> جدہ میں ایک اور کامیاب سیمینار۔ مولانا جعفر پاشاحسامی، مولانا محمد بانعیم اور علیم خان فلکی نے خطاب کیا۔</span></h3>
<div class="aligncenter"><img title="Scholars at Jeddah Seminar _ 13th Aug 2011" src="http://socioreforms.com/en/wp-content/uploads/2011/08/seminar02_jeddah.jpg" alt="Scholars at Jeddah Seminar _ 13th Aug 2011" /></div>
<p>سوشیو ریفارم سوسائٹی۔جدہ کی جانب سے ایک اور اہم سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا جس میں ہندوستان کے معروف عالمِ دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے خالصتاً شرعی بنیادوں پر جہیز اور وداعی کے دن کا کھانا جو لڑکی والوں سے لیا جاتا ہے ان امور پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ایشین ڈیلائٹ ریسٹورنٹ میںبتاریخ 13 اگست 2011ء کو منعقدہ اس اجتماع میں ہندوپاک  کے مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔سعدسید اقبال احمد کی خوبصورت قرات کلام پاک کے بعد جناب امین انصاری صاحب نے مولانا حمیدالدین عاقل مرحوم کی ایک نعت مبارک پیش کی ۔ علیم خان فلکی نے سیمینار کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور علماء کرام نے مخاطب فرمایا۔</p>
<div style="clear:both;"></div>
<div style="clear:both;"></div>
<p>اہم نکات: <span style="color: #0000ff;"><strong>مولانا خالد سیف اللہ رحمانی</strong></span><br />
٭  جہیز یا کھانا شرعاً حرام نہیں کہا جاسکتا لیکن ان سے حرام کے ارتکاب کے راستے کھلتے ہیں جیسے رشوت، اسراف اور دل آزاری وغیرہ۔ اسلئے یہ کسی طرح بھی جائز نہیں۔<br />
٭ مسواک جیسی معمولی چیزوں کا ذکر شریعت میں ہے لیکن جہیز اور بارات کا کوئی لفظ شریعت میں مذکور نہیں یہ مکمل غیراسلامی ایجادیں ہیں۔<br />
٭ حدیث "النکاح من سنتی و فمن رغب عن سنتی فلیس منّی" میں اسلامی نکاح کا فلسفہ اور طریقہ موجود ہے۔ جسطرح رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے طریقے پر اگر نماز یا روزہ نہ ہوتو وہ قبول نہیں اسیطرح نکاح بھی اگر رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے طریقے پر نہ ہوتو وہ خارج از اسلام ہے۔<br />
٭جہیز یا دعوتِ طعام صراحتاً مانگے جائیں یا بالواسطہ، جائز نہیں کیونکہ رسم و رواج کی بنیاد "المعروف کالمشروط" ہے۔ حتی کہ زبان سے نہ مانگنا لیکن دل میں آس رکھنا بھی رشوت کے دروازے کھولنا ہے اوررشوت حرام ہے۔<br />
٭ ولیمہ نہ واجب ہے نہ فرض، یہ مسنون ہے۔ اسکو شرائط کا پاپند نہیں کیاجاسکتا۔ عرب معاشرہ کا طریقہ قابلِ ستائش بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی یعنی وداعی کے دن مرد کا اپنی طرف سے کھانا کھلانا اور دلہن کو اپنے گھر لے جانا۔<br />
٭ بین مذہبی شادیوں یعنی مسلمان لڑکیوں کی  غیر مسلم لڑکوں سے شادیوں کے محرّکات میں جہیز سرِ فہرست ہے۔<br />
٭لوگ کھانے اور جہیز کے معاملے میں رخصت اور جواز کے فتوے ڈھونڈھتے ہیںلیکن شریعت کے مزاج اور تقاضے کو سمجھنا نہیں چاہتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) خود تو طویل نمازیں پڑھتے تھے لیکن جب جماعت میں ہوتے تو مختصر کردیتے اس سے شریعت کا منشا یہ ہے کہ لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرو ، مشکلات نہ پیدا کرو۔ ایک بار معاذ بن جبلؓ نے طویل نماز پڑھادی تو آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے انہیں تنبیہہ فرمائی کہ "افتنّ انت یا معاذ؟"یعنی کیا تم فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہو یا معاذؓ؟ اسیطرح ایک صحابی ؓ نے پکّا مکان بنایا تو آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے ناراضگی کا اظہار فرمایا کیونکہ جس بستی میں سارے کچے مکان ہوں ایسی بستی میں پکا مکان بنواکر دوسروں کے دلوں میں حسرت اور آرزو پیدا کرنا دل آزاری کے مترادف ہے۔ بالکل اسیطرح چند ایک خوشحال لوگ اپنی خوشی کی خاطر "خوشی سے" دینے کے نام پر پورے معاشرے میں حسرتیں اور آرزوئیں پیدا کرتے ہیں۔ یہ شریعت میں سخت ناپسند کیا گیا ہے۔<br />
٭ تازہ ترین مردم شماری کے مطابق عورتوں کی آبادی کا تناسب مردوں کے مقابلے میں گرتاجارہاہے کیونکہ لوگ لڑکیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کرڈالتے ہیں۔ انسانیت پر اس ظلم کی اصل وجہ جہیز ہے۔ لوگ لڑکیوں کو بوجھ سمجھنے پر مجبور ہیں۔<br />
٭ نکاح مسجد میں کیاجائے اور جمعہ بعد عصر  نکاح کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔<br />
٭ ایسی شادیوں میں شرکت سے اجتناب اسطرح کیا جائے کہ مبارکباد پیش کرکے رخصت ہوجائیں۔ ان میں کھانا کھانا ناجائز رسومات کی ہمت افزائی کرنا ہے۔ تعلقات کی خاطر اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ناپسندیدہ امور کو جائز کرنا ،ان میں شرکت کرناکسی طرح بھی درست نہیں۔<br />
٭ جہیز کی وجہ سے چونکہ مانباپ کی کمائی کا ایک بڑا حصّہ لڑکیوں پر صرف ہوچکا ہوتا ہے اسلئے لڑکے اپنی بہنوں کو وراثت سے محروم کرڈالتے ہیں۔ جو کہ اللہ کے حدود توڑنے کے حکم میں ہے۔<br />
٭ضرورت اس بات کی ہے کہ لڑکی والوں سے پہلے لڑکے والوں پر محنت کی جائے اور انہیں سنت کی خلاف ورزی سے روکا جائے کیونکہ اگر لڑکے والے چاہیں تو آج یہ ساری رسمیں ختم ہوسکتی ہیں۔</p>
<div style="clear:both;"></div>
<p>اہم نکات: <span style="color: #0000ff;"><strong>مولانا جعفر پاشا حسامی صاحب</strong></span><br />
٭ جوڑے کی رقم لینے والے کا ولیمہ کھانا بھی جائز نہیں۔ کیونکہ جوڑے کی رقم لینا ناجائز ہے ۔<br />
٭ اکثر لڑکے والدین کی وجہ سے لین دین اور کھانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ناجائز میں مانباپ کی اطاعت واجب نہیں۔<br />
٭ اسلامی شادی  یہ ہیکہ ش کے تینوں نقطے نکال دیئے جائیں یعنی "سادی"۔<br />
٭ حضرت عمر ؓ  کے عہد میں ایک شخص نے ناداری کی بنا مالی مدد کی درخواست کی۔ آپ ؓ نے فرمایا کہ "میں تجھے بیس ہزار درہم دوں گا اپنے دونوں ہاتھ دے دو"۔ وہ گھبراگیا اور اس نے فطری بات ہے کہ انکار کردیا۔ آپؓ نے فرمایا کہ چالیس ہزار درہم لے لو اور اپنی آنکھیں دے دو"۔ اس نے انکار کیا ۔ پھر آپ ؓ نے ساٹھ ہزار درہم کی پیش کش کی اور کہا کہ اپنے پاوں دے دو۔ جب وہ تیار نہ ہوا تو آپ ؓ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تجھے پہلے ہی سے اتنی قیمتی چیزیں عطا فرمائی ہیں تو مانگتا کیوں ہے؟ یہ واقعہ آج تمام جہیز اور جوڑے یا تلک کی رقمیں لینے والوں کیلئے ایک درسِ عبرت ہے۔<br />
٭ جب تک علما اور مشائخین اسراف سے معمور دعوتوں کا مقاطعہ نہیں کرینگے کوئی تبدیلی آنا مشکل ہے۔</p>
<div style="clear:both;"></div>
<p>اہم نکات : <span style="color: #0000ff;"><strong>مولانا محمد بانعیم صاحب</strong></span><br />
٭ "الرجال"  (مرد) کی تعریف جو قرآن نے بیان کی جہیز یا رقم کا لین دین اور کھانے کی فرمائش اس تعریف کے مغائر ہے۔<br />
٭ ایسی دعوتوں کے بائیکاٹ کا جواز یہ ہیکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جب تم برائی کو دیکھو تو ہاتھ سے روکو، یا زبان سے یا کم سے دل سے نفرت کرو ۔<br />
٭عالیشان دعوتوں کا جب لوگوں کو چسکا لگ جاتا ہے تو وہ سادہ اور سنت پر مبنی دعوت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اسلئے معاشرہ میں برابری کرنے یا عزت کا پاس رکھنے کیلئے مجبوراً استطاعت نہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کرنے کا چلن شروع ہوجاتا ہے اور کئی طرح کی منکرات خود بخود شامل ہوجاتی ہیں۔<br />
٭ لوگ سانچق مایوں اور ویڈیو پر تو ناجائز ہونے کی بحث کرتے ہیں لیکن جوڑے اور جہیز جیسے صریح حرام کو "عورتوں کا معاملہ" کہہ کر حیلہ بازی سے کام لیتے ہیں جو مردانگی کے خلاف ہے۔</p>
<div style="clear:both;"></div>
<p>اہم نکات : <span style="color: #0000ff;"><strong>علیم خان فلکی صاحب</strong></span><br />
٭ آج مسلمان معاشرے میں جتنی اخلاقی برائیاں پیدا ہوچکی ہیں ان کی جڑ "جوڑا جہیزاور دعوتیں " ہیں۔کیونکہ ان اخراجات کی پابجائی کیلئے لوگ حلال و حرام کی پروا کئے بغیر کمائی پر مجبور ہیں۔<br />
٭ خوشی سے خرچ کرنے والوں اور جواز ڈھونڈھنے والوں کا معاشرے میں تناسب صرف پانچ فیصد ہے۔ ان کی وجہ سے پچانوے فیصد معاشرے کو ناجائز طور پر کماکر ، مانگ کر یا پھر جائز کمائی کو ناجائز رسومات پر خرچ کرنے پر مجبور ہونا پڑرہاہے۔<br />
٭ اگر ہم نے فوری اس پر توجہ نہ کی تو یہ قوم بہت جلد ہریجنوں سے بدتر اخلاقی اور مالی حالت پر پہنچنے والی ہے۔<br />
٭ بائیکاٹ کا تعلق حلال و حرام یا جائز ناجائز سے چاہے نہ ہو لیکن اسکا تعلق ہماری خودداری، حمیت، عزیمت اور ایک تبدیلی اور انقلاب کی آرزو سے ہے۔ لوگ کیسے گوارا کرتے ہیں جن ناجائز ہندووانہ رسم و رواج کی وجہ سے لاکھوں لڑکیاں فواحش، بین مذہب شادی اور غیر قوموں کے پاس نوکریوں پر مجبور ہورہی ہیں۔ ہر تیسرا گھر سود ادا کرنے پر مجبور ہے، پوری قوم کی اکثریت انتہائی پست پیشے اختیار کرنے پر مجبور ہورہی ہے یہ سب دیکھتے ہوئے بھی لوگ رشتہ داریوں اور تعلقات کی خاطر کیسے شریعت کے اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال سکتے ہیں؟<br />
٭ اگر آج امام ابو حنیفہؒ زندہ ہوتے تو اپنے شاگردوں کو گلی گلی بھیجتے اور تحقیق کرواتے کہ کیونکر لڑکیاں شادی کے بغیر عمروں سے تجاوز کررہی ہیں، کیوں بے حیائی اور غلط کاریوں پر مجبور ہورہی ہیں، کیوں قوم ساری کی ساری ہریجنوں سے بدتر پیشوں کو اپنانے پر مجبور ہے۔ جب پتہ چلتا کہ ان سب کے پیچھے جہیز کی کارفرمائی ہے تو فقہ کی نئی تدوین ہوتی ۔ لیکن آج ہمارے علما نے اجتہاد کے دروازے بند کردیئے اور صدیوں پہلے جو فقہ مرتب ہوچکی اسی کو قطعی دین قرار دے کر موجودہ مسائل اور ان پر قرآن و حدیث کے انطباق سے گریز کررہے ہیں۔ صاحبِ اختیار وقت اور حالات کے مطابق جو فیصلے کرتے ہیں ان کی مثالیں موجود ہیں۔ زکوۃ نہ دینے والے کے خلاف کسی تعزیری سزا کا قرآن یا حدیث میں کوئی تذکرہ نہیں اسکے باوجود ابو بکر صدیق ؓ نے زکوۃ دینے سے انکار کرنے والوں کے خلاف تلوار اٹھانے کا فیصلہ دیا، قرآن اور حدیث میں چور کی سزا قطع ید ہونے کے باوجود قحط کے زمانے میں اس سزا کو منسوخ کیا۔ آج علماء میں یہ ہمت اور حکمت پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ جہیز کے بدترین نقصانات کا جائز ہ لیں اوراسکے خلاف موثّر اقدام اٹھائیں۔<br />
٭ جہیز کے جہاں بے شمار نقصانات ہیں ان میں سب سے بدترین یہ ہیکہ مسلمان نوجوان مانباپ کی وراثت سے محروم ہوجاتے ہیں اور انتہائی معمولی نوکریوں پر مجبور ہیں کیونکہ ماں باپ اپنی اصل کمائی  شادیوں میں  بیٹی اور دامادوں پر صرف کرنے پر مجبور ہیں۔ اسطرح پوری قوم ایک دوسرے کو غلامانہ پیشوں پر ہی رہنے پر مجبور کررہی ہے۔</p>
<div style="clear:both;"></div>
<div style="clear:both;"></div>
<p>سامعین کی ایک بڑی تعداد بشمول خواتین  نے بہ دستخط یہ عہد کیا کہ وہ جہیز اور لڑکی والوں کی طرف سے دی جانے والی دعوتوں کا بائیکاٹ کرینگے۔ آخر میں ڈاکٹر ہارون سعید نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بائیکاٹ کی مہم آج وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے بلکہ یہ پہلا قدم ہے۔ اگر لوگ ہمت کے ساتھ اس مہم کا ساتھ دینگے تو مستقبل میں طلاقوں کی روک تھام ، کونسلنگ، مسلم عدالتوں کا قیام جیسے اہم امور پر کام کرینگے۔ جدہ میں بغیر جوڑے جہیز کی شادیوں میں مدد اور میاں بیوی کے درمیان کشیدہ تعلقات کو ہموار کرنے کیلئے میریج بیورو کا تعارف بھی پیش کیا۔</p>
<div class="aligncenter"><img title="Audience at the Jeddah Seminar _ 13th Aug 2011" src="http://socioreforms.com/en/wp-content/uploads/2011/08/seminar02_jeddah_audience.jpg" alt="Audience at the Jeddah Seminar _ 13th Aug 2011" /></div>
<p>رپورٹ: <em>سلیم فاروقی</em>۔ جدہ</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/the-dowry-taken-by-demand-or-by-default-must-be-returned-%e2%80%93-maulana-khalid-saifullah-rahmani/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>قراردادِ جدہ بسلسلہ انسداد جہیز</title>
		<link>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/scholars-raise-voice-against-dowry/</link>
		<comments>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/scholars-raise-voice-against-dowry/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 23 Jul 2011 20:59:24 +0000</pubDate>
		<dc:creator>مبصر</dc:creator>
				<category><![CDATA[خبر نامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://socioreforms.com/ur/?p=184</guid>
		<description><![CDATA[قراردادِ جدہ بسلسلہ انسداد جہیز
رپورٹ : سلیم فاروقی ۔ جدہ
پہلی بارجدہ میں مختلف علماء اہلِ سنت و الجماعت اور اہلِ تشیع کا ایک اسٹیج سے خطاب
ایسی شادیوں میں جہاں لڑکی والوں کی طرف سے جہیز اور وداعی کے دن کا کھانا دیاجائے ان شادیوں میں شرکت کا  بائیکاٹ کیا جائیگا ۔
علماء نے دستخطی تائید [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h2 style="text-align: center;"><span style="color: #ff0000;">قراردادِ جدہ بسلسلہ انسداد جہیز</span></h2>
<p style="text-align: center;">رپورٹ : <span style="color: #0000ff;">سلیم فاروقی ۔ جدہ</span></p>
<h3 style="text-align: center;">پہلی بارجدہ میں مختلف علماء اہلِ سنت و الجماعت اور اہلِ تشیع کا ایک اسٹیج سے خطاب<br />
ایسی شادیوں میں جہاں لڑکی والوں کی طرف سے جہیز اور وداعی کے دن کا کھانا دیاجائے ان شادیوں میں شرکت کا  بائیکاٹ کیا جائیگا ۔<br />
علماء نے دستخطی تائید کی اور عوام نے نہ صرف ہاتھ بلند کیا بلکہ دستخط بھی کئے۔</h3>
<div class="aligncenter"><img class="aligncenter" title="Scholars at Jeddah Seminar _ 20th July 2011" src="http://socioreforms.com/en/wp-content/uploads/2011/07/jeddah_seminar_scholars.jpg" alt="Scholars at Jeddah Seminar _ 20th July 2011" width="300" height="225" /></div>
<p>20 جولائی  2011ء کو منعقدہ ایشین ڈیلائٹ ریسٹورنٹ، جدہ میں ایک تاریخی اجتماع میں مختلف مسالک و مذاہب سے وابستہ علما کرام نے جہیز اور وداعی کے دن کے کھانے کے موضوع پر مکمل ہم آہنگی دکھائی اور یہ واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی مسلک میں کوئی اختلاف نہیں کہ جوڑے جہیز اور دیگر رسومات جو ہندو دھرم سے لئے گئے ہیں وہ شریعت اسلامی کی مکمل خلاف ورزی ہیں ا یسی شادیوں میں شرکت کا بائیکاٹ کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔جناب احمدالدین اویسی صاحب نے صدارت کی۔<br />
اس اجتماع کے تاریخی ہونے کی ایک اور وجہ یہ بھی رہی کہ پروگرام کے آغاز میں بجلی چلی گئی اور ایرکنڈیشنڈ بند ہوگئے۔ لوگ پسینے میں شرابور ہونے لگے لیکن سامعین کی اس موضوع سے دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ تمام مرد  و خواتین اپنی نشستوں پر جمے رہے ۔ ہندوستان اور پاکستان میں ایسا کئی بار ہوا کہ سامعین موسلادھار بارش میں یا سخت گرمی میں پورے صبر و تحمل کے ساتھ آخر تک تقاریر سنتے رہے لیکن جدہ کی تاریخ میں شائد یہ پہلی بار ہوا کہ لوگوں نے پسینے میں نہاتے ہوئے تمام مقررین کو پوری دلچسپی کے ساتھ سنا۔<br />
مولانا محمد بانعیم صاحب خطیب مسجد عبدالرحمان، جدہ جن کا تعلق جمیعت العلماء ہند سے ہے، جو ہندوستان اور جدہ میں کئی مدارس کے قیام میں سرگرم رہے ہیں انہوں نے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والی تقریر میں فرما یا کہ جہیز اور وداعی کے دن کا کھانا ایک ایسا ناسور ہے جس کا علاج محض نصیحتوں سے نہیں صرف آپریشن سے ہونا لازمی ہے۔ جہیز اور دعوتیں تفاخر یعنی ایک دوسرے پر سبقت ، ریاکاری اور نام و نمود کیلئے ہوتے ہیں اسلئے یہ اسراف کی تعریف میں داخل ہیں اور اسراف اسلام میں حرام قرار دیاگیاہے۔ مولانا بانعیم صاحب نے حدیث "نکاح کو اتنا آسان کرو کہ زنا مشکل ہوجائے" کے حوالے سے فرمایا کہ آج حریص لڑکے والوں نے اور اسراف پسند لڑکی والوں نے مل کر جوڑے جہیز کے ذریعے معاشرے میں زنا کو آسان کردیاہے۔ سنّت کے مطابق اگر کوئی سادگی سے ولیمہ دے تو اسکی دعوت کا مذاق اڑایاجاتاہے۔ قرارداد کی تائید کرتے ہوئے مولانا بانعیم صاحب نے فرمایا کہ ایسی تمام دعوتیں جو سنتوں کا مذاق اڑانے کا باعث بن رہی ہیںان کا بائیکاٹ کیا جانا چاہئے۔<br />
دوسرے معروف عالمِ دین مولانا فضل الرحمٰن صاحب تھے جنکا تعلق جمعیت اہلِ حدیث پاکستان سے ہے، پچھلے تیس سال سے جدہ میں دعوت و تبلیغ کی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔آپ نے حدیث "النکاح من سنتی" کے حوالے سے فرمایا کہ جو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت پر نکاح کو انجام نہیں دیتا وہ سب سے بڑا باغی ہے۔ ایک اور حدیث کہ ـ"اگر تم لڑکا یا لڑکی کے انتخاب میں دینداری کو نہ دیکھوگے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم فتنہ و فساد میں مبتلا ہوجاوگے"کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آج پوری قوم فتنے میں مبتلا ہوچکی ہے۔ خوشی سے لین دین کے نام پر دکھاوا اور اسراف سب سے بڑا فتنہ ہے۔ "لا تبذروا تبذیرا۔۔" یعنی حکم قرآنی کہ "اسراف نہ کرو" سے بغاوت ہے۔ کوئی حکومت جب بغاوت کو برداشت نہیں کرسکتی تو اللہ پاک اس بغاوت کو کیسے برداشت کرسکتاہے۔ جہیز کی رسم کی وجہ سے ہر شخص حلال و حرام کی پروا کیئے بغیر کمائی پر مجبور ہوجاتاہے اور پورا معاشرہ اخلاقی طور پر تباہ ہوجاتاہے۔ قرارداد کی تائید میں یہ فرمایا کہ جب جہیز ایک مکمل غیر اسلامی رسم ٹھہری اور وداعی کے دن کا کھانا ایسا عمل جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا نہ کسی صحابی نے تو پھر کسی شخص کا ررسم و رواج یا برادری کے طور طریق کے نام پر کرنا اور لوگوں کا ایسے موقعوں پر شرکت کرنا فتنہ و فساد کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے ان کا بائیکاٹ کرنا لازمی ہے۔<br />
شیعہ برادری کے معروف عالم جناب شیخ ہدایت شیخ حامد نے اپنی شعلہ بیان تقریری جوہر کے ذریعے جہیزِ فاطمی کو حیلے بنانے والوںکے خلاف خوب دلائل پیش کئے اور فرمایا کہ ہندوستان اور پاکستان میں مروّجہ جہیز کا نظام فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے جہیز کی مکمل ضد ہے۔ اسلئے اسے حرام کہنے میں کوئی شبہ نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جس چیز کو جہیز کہا اور جو جہیز کے طور پر حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا)  کو دیا وہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ)  کی طرف سے دی گئی مہر کی رقم میں سے تھا۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جہیز اس چیز کو کہتے ہیں جو مرد اپنے مال میں سے دے نہ کہ لڑکی کے مال سے۔ شیخ ہدایت صاحب نے کہا کہ  ایک لمحہ عمل کرنا صدیوں تک تقریر کرنے سے بہتر ہوتاہے۔آج وہ مرد نہیں پائے جاتے جو اپنے گھر سے عمل شروع کرنے کی ہمت رکھتے ہوں ہر شخص چاہتا تو ہے کہ جہیز کا خاتمہ ہو لیکن اپنے گھر سے نہیں بلکہ پڑوس کے گھر سے۔ اگر آج ایک بھی شخص عہد کرلے کہ وہ جہیز کے بغیر شادی کرے گا تو یہ اجتماع کامیاب ہے۔ قرارداد کی مکمل تائید کرتے ہوئے انہوں نے تمام سامعین کو عہد کرنے کی تلقین کی۔<br />
جامعہ نظامیہ دکن جسے جنوبی ہندوستان کی ایک اسلامی یونیورسٹی کا مقام حاصل ہے اسکے فارغ عالم دین جناب محمد عبدالقدیر طاہر قادری صاحب نے فرمایا کہ جہیز ایک ہدیہ تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہدیہ دینے کی تلقین فرمائی تھی لیکن آج اس ہدیہ کو الٹ کر لوگوں نے بھیک میں تبدیل کردیا۔ اور بھیک اسلام میں جائز نہیں۔ حدیث کہ "دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے" کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ چاہے وہ خوشی سے دیا جائے یا فرمائش پر یا مطالبے پر، بہرحال لیا جاتا ہے اور لینے والے کا ہاتھ نیچے والے کا ہاتھ ہوتا ہے یعنی مانگنے والے کا۔لوگوں میں غیرت اور خود داری کا شعور پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ جہیز اس دور کی سب سے بڑی لعنت ہے اسکے تدارک کیلئے حکمت و موعظت کے طریقوں کو اپناتے ہوئے اس لعنت کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔<br />
مدینہ یونیورسٹی سے فراغت حاصل کرنے والے عالم دین جناب ارشد بشیر مدنی جو ای ٹی وی اردو  کے ذریعے معروف ہیںجدید تعلیم سے لیس ہیں انگلینڈ سے ایم بی اے بھی حاصل کرچکے ہیں اپنے مختصرخطاب میں انہوں نے سرکاری اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ جہیز کی لعنت نے کسطرح عورت ذات پر زندگی حرام کردی ہیکہ لڑکیوں کا قتل جسے اسلام نے حرام قرار دیا آج جہیز کی مجبوری کی وجہ سے جائز ہوچکاہے۔ لوگ بطنِ مادر میں ہی یا پیدا ہوتے ہی ہزاروں بچیوں کا قتل کرڈالنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے لفظ جہیز کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لفظ مردوں کے جہاد میں استعمال کرنے والے ہتیار اور دوسرے جنگی سازو سامان کے  لئے بولا گیا لیکن افسوس کہ آج مردوں نے اس لفظ کا اطلاق عورت سے مفت میں حاصل ہونے والے مال پر کردیاہے۔ اگرچہ کہ سرکار خو د بھی اس رسم کو مٹانے کی قانونی کوششیں کررہی ہے لیکن جب لوگ  خود اپنے رسولﷺ کی پروا نہیں کرتے وہ لوگ سرکار کے قانون کی کیا پروا کرینگے۔ مدنی صاحب نے جہیز کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ ایک غیر قوم کی رسم ہے اسی بنا پر حرام ہے اور ایسی شادیوں میں جہاں جہیز وداعی کے دن کے کھانوں اور دیگررسموں کے لئے دعوت دی جائے ان میں شرکت بھی ناجائز ہے۔<br />
علیم خان فلکی جنہوں نے اس سیمینار کا انعقاد کیا اس موضوع پر کئی تحقیقی مقالے اور کتابوں کے مصنف بھی ہیں ہندوستان کے کئی مقامات پر اس مہم کے حوالے سے جانے جاتے ہیں کہا کہ ہم جہیز کو حرام کہتے ہیں نہ وداعی کے دن کے کھانے کو۔ اور نہ کوئی انہیں حرام قرار دینے کی جرات کرسکتاہے۔ اسلام میں جہیز کی بھی روایت ہے اور وداعی کے دن کے کھانے کی بھی۔ فرق یہ ہیکہ پوری اسلامی تاریخ  اور فقہ میں جس جہیز اور وداعی کے دن کے کھانے کی اجازت ہے وہ مرد کے خرچ پر ہے نہ کہ عورت کی طرف سے۔ اسلئے علما نے اسے حرام قرار دیا ہے کیونکہ اسمیں قرآن کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔اسکے حرام ہونے کی وجوہات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فی زمانہ وہ تمام علتیں جو کسی شئے کو حرام قرار دیئے جانے کیلئے لازمی طور پر دیکھی جاتی ہیں وہ تمام جہیز میں پائی جاتی ہیں۔جیسے یہ ایک رشوت ہے جسکو ہدیہ یا تحفہ کہہ کر حلال کرلیا گیا۔ یہ ایک اسراف ہے جو حرام ہے۔اسمیں دکھاوا، دنیاداری، عزت، تفاخر، ریاکاری اور سوسائٹی کی برابری کی وجہ سے لوگوں نے یہ رویہ اختیار کرلیا ہے کہ کھلے شریعت کی توہین کررہے ہیں۔ اپنے رویہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر رسول اللہﷺ نے اپنی بیٹی کے نکاح پر کھانا نہیں کھلایا تو یہ ان کا کلچر نہیں ہوگا لیکن ہم لوگ زیادہ کلچرڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن نے "الرجال" یعنی مرد اسکو قرار دیا ہے جو اپنا مال عورت پر خرچ کرے۔ لیکن جو مرد عورت سے پیسہ ، پلنگ بستر اور دوسری چیزیں حاصل کرے وہ قرآن کی رو سے مرد کہلانے کا مستحق نہیں یہی وجہ ہے آج پوری سوسائٹی پر عورت کا زور ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی ساسوں اور نندوں کا منہ بند کرکے دکھائے۔ کوئی لڑکی کی ماں سے وہ خوف نکال کر بتائے جو اسے جہیز دینے پر مجبور کرتاہے کوئی بغیر جہیز لئے شادی کیلئے اپنی ماں اور بہن کو راضی کرکے بتاے۔ انہوں نے کہا کہ جہیز اور وداعی کے دن کے کھانوں کے اخراجات نے جن فتنوں میں مبتلا کر رکھا ہے ان میں سب سے بدترین فتنہ یہ ہیکہ وراثت کی تقسیم میں ناانصافی برتنے پر لوگ مجبور ہوگئے ہیں۔ ایک طرف لڑکیوں کو وراثت سے محروم کیا جارہاہے اس بنا پر کہ انہیں جہیز خوب دیا جاچکاہے۔ دوسری  طرف جہیز کی خاطر مانباپ  اپنی پوری پونجی بیٹی داماد پر خرچ کرڈالتے ہیں اور بیٹوں کو غلامی کی نوکریوں یا معمولی پیشوں کے کام پر مجبور کرڈالتے ہیں۔لوگ  جہیز اور وداعی کے دن کے شاندار دعوتوں کے ذریعے دوسروں کے دلوں میں حسرت اور آرزوئیں پیدا کررہے ہیں اور انہیں  بہنوں اور بیٹیوں کی شادی کیلئے ہر ناجائز ذریعہ آمدنی کا بہانہ فراہم کررہے ہیں۔اسی لئے آج مسلمان اخلاقی طور پر گراوٹ میں مبتلا ہیں۔<br />
صدر محفل  جناب احمدالدین اولیسی  صاحب  نے مبارکباد پیش کی کہ جہیز کے موضوع پر تمام مکاتبِ فکر کے علما نے ایک اسٹیج سے مخاطب کیا اور ایک ہی رائے دے کر یہ ثابت کردیا کہ ہمارے درمیان فروعی اختلافات چاہے جتنے ہوں اصل دین میں ہم ایک ہیں۔ہندوستان میں جہیز کی صورتِ حال کے جائزہ لیتے ہوئے فرمایا کہ اس مہم کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے بیرسٹر اسدالدین اویسی نے جہیز کے خلاف جنگی پیمانے پر کام شروع کردیاہے۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ ہمیشہ سوشیوریفارم کے حامی رہے ہیں اور آئندہ بھی ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ پچھلے چند دہوںقبل تک بھی یہ رسم نہیں تھی۔ نہ ایسا جہیز تھا نہ آج کی طرح کے وداعی کھانے تھے۔لیکن دولت کی رول پیل نے لوگوں کو اندھا کردیا ہے اور اندھادھند لوگ نہ آخرت کا خوف رکھتے ہیں اور نہ اس سے سماج میں پھیلنے والی برائیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔جسکی وجہ سے شادی آج ایک مشکل ترین ہوتی جارہی ہے اور لڑکیاں والے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ قراردادجیسی کوششوں کے ذریعے سوشیل ریفارم سوسائٹی جو کام کررہی ہے ایسے کام میں ہر شخص کو آگے بڑھ کر ساتھ دینا چاہئے۔اور ہر شخص کو اس جنگ کا آغاز اپنے گھر سے کرنا چاہئے۔<br />
آخر میں علیم خان فلکی نے کہا کہ یہ جلسہ قرارداد جناب احمدالدین اویسی صاحب ہی کی تجویز کے نتیجے میں منعقد کیاگیا جنہوں نے کہا تھا کہ جہیز اور وداعی کے دن کا کھانے کا مسئلہ کہ یہ کہاں تک جائز یا حرام ہے یہ علما کے ہاتھوں طئے ہونا چاہئے کیونکہ وہی اس مسئلے پر کہنے کے مکلّف یا حقدار ہیں۔ہم انہی کے تابع ہیں۔ اسی لئے تمام مکاتبِ فکر کے علما کوجمع کیاگیا۔اور تمام نے من و عن وہی بات کی جو دین میں ہے۔اورکہا کہ لوگ سادگی کی شادی کا غلط مطلب سمجھتے ہیں۔ سادگی ہر شخص کے اپنے معیار کے مطابق الگ ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک لوگ سادگی سے مراد یہ عہدنہیں لیں گے کہ نکاح کے معاملات و تقاریب میں ہم وہی کرینگے جو رسول اللہ ﷺ نے کیا اور وہ ہرگز نہیں کرینگے جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ہماری شادیاں اور جہیز رام سیتا ، لکشمن اور دروپدی وغیرہ کے طرز پر ہوں اور ہماری دعا یہ ہو کہ ہماری اولاد حسن ؓ اور حسینؓ  جیسی نکلے؟<br />
انہوں نے کہا کہ اگر لوگ اس کام کا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو جہیز کو پہلے حرام جانیں، ایسی شادیوں میں شرکت کا بائیکاٹ کریں۔ جو لوگ لے چکے ہیں وہ واپس کریں۔<br />
اختتام پرسلیم فاروقی صاحب نے اپیل کی کہ عوام علما اور قائدین ایسی شادیوں میں جاکر لوگوں کی نہ ہمت افزائی کریں اور نہ ایسی جگہ جاکر تصویریں لیں۔ اور کہا کہ اخبارات کے مالکان اور ذمہ داران کا بھی یہ فرض ہیکہ وہ ایسی خبروں اور اشتہارات کا بائیکاٹ کریں جس میں جہیز، اسراف اور دکھاوا ہے۔<br />
ڈاکٹر ہارون سعید  جنہوں نے اس کامیاب جلسے کے انتظامات کیئے، سامعین کا شکریہ ادا کیا۔<br />
جناب شیخ ہدایت صاحب نے جہیز کے خلاف جہاد کرنے والے جہاںجہاں ہیں ان کی جانب سے سامعین کو یہ شعر نذر کیا کہ</p>
<p>مری کوشش کو سراہو مرے ہمراہ چلو<br />
میں نے اک شمع جلائی ہے ہواوں کے خلاف</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/scholars-raise-voice-against-dowry/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دمام میں انسداد جہیز مہم کا انعقاد</title>
		<link>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/eradicate-dowry-compaign-in-dammam/</link>
		<comments>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/eradicate-dowry-compaign-in-dammam/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 12 Jul 2011 13:47:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>مبصر</dc:creator>
				<category><![CDATA[خبر نامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://socioreforms.com/ur/?p=176</guid>
		<description><![CDATA[سعودی عرب کے اسلامی کلچر سنٹر دمام ، وامی (wamy) الخبر اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں سہ روزہ (6 ، 7 اور 8 جولائی 2011ء) "انسدادِ جہیز مہم" کا انعقاد کامیابی کے ساتھ عمل میں آیا۔
جہیز اور وداعی کے دن کے کھانے (جو لڑکی کے والدین پر مسلط کیا جاتا ہے) کو عام طور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>سعودی عرب کے اسلامی کلچر سنٹر دمام ، وامی (wamy) الخبر اور <a href="www.kfupm.edu.sa">کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی</a> میں <a href="http://www.siasat.com/english/news/dowry-and-wedding-dinner-unlawful-islamic-culture">سہ روزہ (6 ، 7 اور 8 جولائی 2011ء) "انسدادِ جہیز مہم"</a> کا انعقاد کامیابی کے ساتھ عمل میں آیا۔</p>
<p>جہیز اور وداعی کے دن کے کھانے (جو لڑکی کے والدین پر مسلط کیا جاتا ہے) کو عام طور پر لوگ محض ایک سماجی یا تہذیبی مسئلہ سمجھتے ہیں جبکہ یہ مکمل حلال و حرام کا ایک مسئلہ ہے۔ شرعی بنیادوں پر یہ مسئلہ کیونکر حرام ہے ، اس کی وضاحت "انسدادِ جہیز مہم" کے مختلف خطبات میں کی گئی۔<br />
ان خطبات کے منتخب شدہ کچھ اہم نکات ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔</p>
<p>شیخ محمد عالم مدنی نے کہا کہ ۔۔۔</p>
<blockquote><p>ہندوستان و پاکستان میں جہیز کی لعنت کا رواج بڑھتا چلا جا رہا ہے جو مکمل ہندو تہذیب کی تقلید ہونے کے باعث شرعی بنیادوں پر حرام ہے۔</p></blockquote>
<p>شیخ عبدالعلیم فانی نے کہا کہ ۔۔۔</p>
<blockquote><p>جہیز بھیک کی بنیاد پر حرام ہے۔<br />
یہ صرف یہ بلکہ قرآن نے "الرجال" کی جو تعریف پیش کی ہے ، جہیز کے رواج نے اس تعریف کو ہی نہیں بلکہ قرآن کے حکم کو الٹ دیا ہے۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اوپر والے ہاتھ کو نیچے والے ہاتھ سے بہتر کہا ہے۔ یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ لینے والا ہاتھ تو سائل کا ہاتھ ہوتا ہے۔</p></blockquote>
<p>نعیم جاوید نے علامہ اقبال (رحمۃ اللہ علیہ) کے ایک شعر کے حوالے سے کہا کہ ۔۔۔</p>
<blockquote><p>علامہ اقبال رحمۃ اللہ کے اس شعر<br />
الحذر آئینِ پیغمبر سے سو بار الحذر<br />
حافظِ ناموسِ زن ، مرد آزما مرد آفریں<br />
کی مختصر شرح یہ ہے کہ امت آج خوشی اور غم کے اصلی اسلامی تصور سے ناواقف ہے۔</p></blockquote>
<p>کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی کے سید منصور شاہ نے کہا کہ ۔۔۔</p>
<blockquote><p>جو لوگ جہیز لے چکے وہ اگر لاعلمی میں لئے ہیں تو یہ ایک امانت ہے اور جان بوجھ کر لئے ہیں تو یہ ایک رشوت ہے اور ہر دو صورتوں میں اس کا لوٹانا واجب ہے۔</p></blockquote>
<p>ادارہ ادب اسلامی دمام کے صدر جناب محمد عبدالعظیم نے کہا کہ ۔۔۔</p>
<blockquote><p>اس مہم کو ہندوستان اور پاکستان کے کونے کونے میں لے جانے کی ضرورت ہے۔ اس لعنت کی وجہ سے آج ہزاروں لڑکیاں بےراہ روی پر مجبور ہیں اور لاکھوں غربت و افلاس کی وجہ سے یا تو غیرشادی شدہ ہیں یا پھر غیرمسلموں سے شادی کرنے پر مجبور ہیں۔</p></blockquote>
<p>ادارہ ادب اسلامی دمام کے سیکرٹری جناب محمد مجیب نے کہا کہ ۔۔۔</p>
<blockquote><p>جب تک خواتین بھی جہیز کے خلاف نہیں اٹھیں گی اس وقت تک جہیز کا خاتمہ ناممکن ہے۔</p></blockquote>
<p><a href="http://www.facebook.com/aleemfalki">علیم خان فلکی</a> نے اپنی ایک موثر تقریر میں بیان کیا کہ ۔۔۔</p>
<blockquote><p>تمام سنی و شیعہ علمائے کرام نے (چاہے جس مسلک سے ان کا تعلق ہو) ، جہیز کو حرام قرار دیا ہے۔ جن بنیادوں پر جہیز حرام قرار پاتا ہے وہ رشوت ، بھیک ، وراثت کے احکامات کی خلاف ورزی اور غیر قوم کی تقلید ہیں۔<br />
مولانا مجاہد الاسلام قاسمی (رحمۃ اللہ علیہ) نے کہا تھا کہ : آج معاشرے کی بربادی کے اصل ذمہ دار وہ خوشحال لوگ ہیں جو خوشی سے خرچ کرتے ہیں اور سارے غریب اور متوسط لوگوں کے لیے ایک ماڈل بنا دیتے ہیں جس کی وجہ سے پورا معاشرہ مالی مصیبتوں سے جکڑ رہا ہے۔<br />
اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی (رحمۃ اللہ علیہ) ، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی (رحمۃ اللہ علیہ) ، مولانا حمید الدین عاقل (رحمۃ اللہ علیہ) ، مولانا ابوالحسن علی ندوی (رحمۃ اللہ علیہ) ، مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ نظامیہ ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور برہان الدین سنبھلی (رحمۃ اللہ علیہ) جیسے جید علماء نے جہیز کے حرام ہونے کی وجوہات پر کھل کر روشنی ڈالی ہے۔</p></blockquote>
<p>انسدادِ جہیز کی اس مہم کے دوران ایک اچھی بات یہ دیکھنے میں آئی کہ کئی نوجوانوں نے جہیز نہ لینے کا عہد کیا اور جنہوں نے جہیز لیا تھا ، اسے واپس لوٹانے کا وعدہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/eradicate-dowry-compaign-in-dammam/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کمانے سے کہیں زیادہ مشکل کمائی کو بچانا ہے</title>
		<link>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/its-hard-to-save-money/</link>
		<comments>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/its-hard-to-save-money/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 16 Jan 2011 13:13:56 +0000</pubDate>
		<dc:creator>مبصر</dc:creator>
				<category><![CDATA[خبر نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[life insurance]]></category>
		<category><![CDATA[mutual funds]]></category>
		<category><![CDATA[لائف انشورنس]]></category>
		<category><![CDATA[میوچیول فنڈ]]></category>
		<category><![CDATA[میڈیکل انشورنس]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://socioreforms.com/ur/?p=170</guid>
		<description><![CDATA[مسلم سوشیو ریفارمز سوسائیٹی کی جانب سے گذشتہ ہفتہ "لائف انشورنس - افادیت اور طریقہ کار" کے موضوع پر جدہ (سعودی عرب) کے شاداب ریسٹورنٹ میں ایک سمینار منعقد کیا گیا۔

اے جی ایجنسیز کے چیف ایگزیکیٹیو جناب غلام دستگیر نے سعودی عرب میں مقیم ہندوستانیوں سے خطاب کیا اور لائف انشورنس ، میڈیکل انشورنس اور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://socioreforms.com/">مسلم سوشیو ریفارمز سوسائیٹی</a> کی جانب سے گذشتہ ہفتہ "<span style="color: #ff0000;">لائف انشورنس - افادیت اور طریقہ کار</span>" کے موضوع پر جدہ (سعودی عرب) کے شاداب ریسٹورنٹ میں ایک سمینار منعقد کیا گیا۔<br />
<img class="alignright size-full wp-image-171" title="Ghulam Dastageer &amp; Aleem Khan Falaki" src="http://socioreforms.com/ur/wp-content/uploads/2011/01/aleem+gdastagir.jpg" alt="Ghulam Dastageer &amp; Aleem Khan Falaki" width="250" height="200" /><br />
اے جی ایجنسیز کے چیف ایگزیکیٹیو جناب غلام دستگیر نے سعودی عرب میں مقیم ہندوستانیوں سے خطاب کیا اور لائف انشورنس ، میڈیکل انشورنس اور میوچیول فنڈ کے متعلق تفصیلی جانکاری فراہم کی۔<br />
عبدالقادر میمن نے بھی ہندوستان کے موجودہ ترقی پذیر میوچیول فنڈ trends پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>سمینار کے میزبان اور چیف ایگزیکیٹیو "<span style="text-decoration: underline;">مسلم سوشیو ریفارمز سوسائیٹی</span>" جناب <a href="http://aleemkhanfalaki.com/">علیم خان فلکی</a> نے اپنی تقریر میں کہا :</p>
<blockquote><p>زمانہ آج اگرچہ کہ کہیں زیادہ آگے بڑھ چکا ہے لیکن ہماری قوم کی عورتوں کے پاس بچت کے وہی ہزاروں سال پرانے طریقے ہیں۔ ہندوستان آٹھ (8) ٹن سونا سالانہ امپورٹ کرتا ہے جس کا بیشتر حصہ زیور بنا کر عورتیں لاکروں (lockers) میں بند کر دیتی ہیں۔ اس طرح مردوں کی محنت کی کمائی برسوں لاکروں میں بند رہتی ہے اور مرد حضرات ملک میں یا ملک کے باہر نوکری کی غلامی میں زندگی ضائع کر دیتے ہیں۔ یہی سونا مردوں کے کام آئے تو آج قوم میں بےشمار صنعتکار اور تاجر پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>لائف انشورنس کے متعلق غلط فہمیاں اور مطالعے کے فقدان کی وجہ سے بےشمار افراد برے حالات میں بھیک ، چندے ، قرض ۔ رہن یا پھر ناجائز آمدنی کے حصول میں لگ چکے ہیں۔<br />
حیرت ہے لوگ "جہیز" جیسی برائی کے مرتکب ہوتے ہیں ، اس کے لئے کوئی سوال نہیں اٹھاتے لیکن لائف انشورنس اور میچیول فنڈ پر سوالات اٹھا کر سب کو گمراہ کرتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ہر کمپنی جائز کام ہی تک محدود نہیں ہے لیکن یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ ہر کمپنی ناجائز منافع ہی پیدا کرتی ہے۔</p></blockquote>
<p>یہ خبرنامہ روزنامہ "سیاست" اتوار سپلیمنٹ (16-جنوری-2011ء) میں شائع ہوا ہے۔<br />
مکمل مضمون کے مطالعہ کیلئے یہ ربط ملاحظہ فرمائیں :<br />
<a href="http://socioreforms.com/ur/wp-content/uploads/2011/01/16_01_2011_102_019.jpg">کمانے سے کہیں زیادہ مشکل کمائی کو بچانا ہے :: جدہ میں غلام دستگیر صاحب کا خطاب</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/its-hard-to-save-money/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جہیز ۔۔۔ اسلام اور ہیومن رائٹس چارٹر کی نظر میں</title>
		<link>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/dowry-is-against-islam-and-human-rights/</link>
		<comments>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/dowry-is-against-islam-and-human-rights/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 11 Dec 2010 09:07:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>مبصر</dc:creator>
				<category><![CDATA[خبر نامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://socioreforms.com/ur/?p=168</guid>
		<description><![CDATA[مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبۂ خواتین کی جانب سے "طلباء و طالبات میں سماجی بیداری" کے مقصد سے ایک سمینار کا انعقاد 2-ڈسمبر-2010ء کو عمل میں آیا۔
اسی یونیورسٹی سے ایم-فل کی تکمیل کرنے والے علیم خان فلکی کی تقریر کی حاضرین نے کافی ستائش کرتے ہوئے بنیادی نکات سے اتفاق بھی کیا۔

تقریر کا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبۂ خواتین کی جانب سے "طلباء و طالبات میں سماجی بیداری" کے مقصد سے ایک سمینار کا انعقاد 2-ڈسمبر-2010ء کو عمل میں آیا۔<br />
اسی یونیورسٹی سے ایم-فل کی تکمیل کرنے والے علیم خان فلکی کی تقریر کی حاضرین نے کافی ستائش کرتے ہوئے بنیادی نکات سے اتفاق بھی کیا۔</p>
<p><img class="aligncenter size-full wp-image-167" title="Aleem Khan Falaki at MANUU" src="http://socioreforms.com/ur/wp-content/uploads/2010/12/akf_at_manu.jpg" alt="Aleem Khan Falaki at MANUU" width="400" height="170" /></p>
<p>تقریر کا مختصر متن درج ذیل ہے :</p>
<blockquote><p>سبھی جانتے ہیں کہ جہیز حرام ہے جیسے کہ شراب ، سود اور چوری وغیرہ حرام ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ آج مسلمانوں نے ان چیزوں کو ثانوی حیثیت دے دی ہے جنہیں حرام قرار دیا گیا ہے۔ اور جو چیزیں فروعی تھیں ان کو اولین حیثیت دے دی ہے۔</p>
<p>جس دَور میں فقہ کی تدوین ہوئی ، پھر تصوف نے ساری دنیا میں اسلام پھیلایا۔ 1857ء کے بعد مدرسوں کا دَور آیا ، پھر پچھلی صدی کے اوائل میں جماعتوں کی تشکیل ہوئی۔ یہ تمام تحریکیں یعنی فقہ ، تصوف ، مدارس اور جماعتیں جن حالات میں تشکیل دئے گئے ، وہ حالات اس وقت کے "اہم ترین مسائل" کو سامنے رکھ کر تشکیل دئے گئے۔ آج حالات اور مسائل بالکل بدل چکے ہیں لیکن لوگوں نے انہیں حالات اور انہی مسائل کو اصل اسلام سمجھ لیا ہے جن حالات میں فقہ ، تصوف ، مدارس اور جماعتوں نے جنم لیا ہے۔</p>
<p>آج کے مسائل یہ ہیں کہ جوڑے جہیز نے مسلمانوں کی اخلاقی ، دینی اور معاشی حالات کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ بنک اور لائف انشورنس سبجکٹ نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان نہ تو قومی دھارے میں شامل ہیں نہ عالمی طور پر کسی گنتی میں ہیں۔ کونسلنگ جیسا اہم ترین موضوع جو سیرتِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اہم حصہ ہے ، اس سے ناواقفیت کی وجہ سے طلاقوں اور رشتوں میں کشیدگیوں کی شرح بدترین سطح کو چھو رہی ہے۔ دینی اور عصری تعلیم کے درمیان خلیج نے مسلمانوں کو دلتوں سے بدتر سماجی اور تعلیمی سطح پر پہنچا دیا ہے۔</p>
<p>آج کے شادی خانے جہاں کئی لاکھ کا اسراف دیکھنے میں آتا ہے، یہ شادیانے نہیں بلکہ مسلمانوں کے مستقبل کے تازیانے ہیں۔ استطاعت رکھنے والے افراد وہ مجرم ہیں جو عام مسلمانوں میں ترغیب پیدا کر رہے ہیں۔ خوشی سے دینے والے اور لاکھوں کا صرفہ کر کے شادی خانے سجانے والے ہی مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی فحاشی ، مذہب تبدیلی ، بھیک مانگنے اور بیٹیوں کی شادیوں کے لئے ہر جرم کا ارتکاب کرنے کے رحجان کے ذمہ دار ہیں۔</p>
<p>ضرورت ہے کہ جہیز کے لین دین پر مبنی شادیوں کا بائیکاٹ کیا جائے ، وداعی کے دن کے کھانے پر روک لگائی جائے ، مہر کے نقد ادا کرنے کے احکامات اور جہیز کے حرام ہونے کے اسباب کی زیادہ سے زیادہ تبلیغ کی جائے۔</p>
</blockquote>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/dowry-is-against-islam-and-human-rights/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جذبات کی بند آنکھوں کے بجائے حوصلہ مندانہ نگاہوں سے پڑھی جانے والی کتاب</title>
		<link>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/hajj-o-umrah-book-review/</link>
		<comments>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/hajj-o-umrah-book-review/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 22 Nov 2010 17:50:49 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعیم جاوید</dc:creator>
				<category><![CDATA[خبر نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[جہیز]]></category>
		<category><![CDATA[حج]]></category>
		<category><![CDATA[حج و عمرہ]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا ابوالحسن علی ندوی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://socioreforms.com/ur/?p=160</guid>
		<description><![CDATA[نماز روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے
 (اقبال)
خداترسی سے پیدا قومی ترقی کی آرزو جب قلم کے ساتھ ہوجاتی ہے تو ایسی روشن تحریریں وجود میں آتی ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے   نہ صر ف لب ہلتے ہیں بلکہ دل بھی دھڑکنے لگتے ہیں۔
جناب علیم خان فلکی نے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #800000;">نماز روزہ و قربانی و حج<br />
یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے</span><br />
<span style="color: #800080;"> (اقبال)</span></p>
<p>خداترسی سے پیدا قومی ترقی کی آرزو جب قلم کے ساتھ ہوجاتی ہے تو ایسی روشن تحریریں وجود میں آتی ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے   نہ صر ف لب ہلتے ہیں بلکہ دل بھی دھڑکنے لگتے ہیں۔<br />
جناب علیم خان فلکی نے اپنے ایک فکر انگیزمضمون کو کتابچہ کی صورت دیکر دیدہ زیب اشاعتی معیار پر بڑے اہتمام سے شائع کیا اور کسی مالی لالچ کے بغیر بلا قیمت اس کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔<br />
عنوان ہے  :<br />
<span style="color: #ff0000;">"خدارا حج اور عمرہ کوایک مذہبی پِکنک   نہ  بنائیے ۔۔۔ ایک سے زیادہ  بار حج اور عمرہ پر آنے والوں کے نا م ایک  کُھلا خط "۔</span></p>
<p>اب۔ ذرا اس کتابچہ کے سرِنامہ سے آگے چل کر اس کی چمکتی پیشانی پر یہ درد بھری سرخیاں دیکھیئے<br />
<span style="color: #0000ff;"> "سعودی عرب میں مقیم رفیقو جو بار  بار حج کرکے نہ صرف قانون شکنی کرتے ہو بلکہ دوسروں کیلئے زحمت بن جاتے ہو"۔</span><br />
ان سرخیوں کے علاوہ دیگر سرخیوں میں ۔۔۔<br />
<span style="color: #0000ff;"> "میرے عزیز سادہ لوح تاجرو جو بار بار پورے خاندان کے ساتھ فائیو اسٹار حج یا عمرہ کر نے کو عبادتِ عظیم سمجھتے ہو" ۔<br />
"میرے قابلِ احترام عالمو، فاضلو ، مرشدو جو نفل کو بھی فرض کا درجہ دے کر بار بار  چلے آتے ہو"۔<br />
"  قوم کے چالاک امیرو  جو   زمینات پر جائز و ناجائز قبضوں سے یا دوسری ناجائز آمدنیوں سے عمرے پر عمرے کئے جاتے ہو" ۔<br />
"  میرے پیارے ابّا جانو اور  امی جانو جو اولاد کی محنت کی کمائی پرعبادتِ عظمیٰ کا لطف اُٹھاتے ہو"۔<br />
"  میری قوم کے سیاسی لیڈرو جوبار بارسیاسی عمرے اور حج  کر کے  اپنے ووٹروں کو اپنی خدا خوفی کا ثبوت دیتے ہو "۔</span></p>
<p>شعلوں سے کھیلتے ہوئے اس موضوع پر اپنے مخاطب کے گوش و ہوش کو گرفت میں لینے کے بعد مولانا ابوالحسن علی ندوی کا روایت کردہ تاریخ کا ایک روشن کردار حضرت بشیر بن عبد الحارث اور ان کے پرجوش مرید کا مکالمہ نقل کرتے ہیں۔ جو امتِ مسلمہ کے  ہزاروں مسائل کو ایڑیاں رگڑتا ہوا چھوڑ کراپنے پندار اور بے دانش جوشِ عبادت کی آرزو میں ایک بڑا سرمایۂ  کھپا کر حج پر چل پڑنے کی ضد کرتا ہے۔ حضرتِ بشیر   پوری دینی ذمہ دارانہ بصیرت اور درد مندی سے اُسے سمجھاتے ہیں کہ اللہ کی رضا کو یقینی بنانا چاہتے ہوتواپنے مال کا رخ محتاج و مجبورکی طرف کردو مقبول حج کی سعادت تمہارے نام ہوگی۔<br />
جناب علیم خان فلکی نے محتصر شماریاتی گوشہ بھی دیا ہے جہاں صرف بر صغیر کے ہوائی سفر کے مکرر حج کرنے والوں کا خرچ ڈھائی کروڑ روپیے سے متجاوز کرتا ہے۔ یہی سالانہ سرمایۂ اگر کسی فلاحی تنظیم کو دیا جائے تو تھوڑی ہی عرصہ میں قوم کے غیرت مند    بیٹوں اور بیٹیوں کے نصیب بدل جائینگے۔ ٹوٹتے بکھرتے گھرانوں کو آسرا مل جائیگا ۔ اللہ کے رسول  کی امت پر ٹوٹنے والے   مالی وبال کے دائمی حل نکل آئینگے۔ جن میں ہند کے فسادات کا حل و پیش بندی، پاکستان میں تعلیمی جہل کے بڑھتے ہوئے گراف  پر قابو پانا ، بے سہارا بچوں کے یتیم خانوں کی تاسیس ، صحافتی رخ کی ایسی تبدیلی جس میں اپنی قومی و مذہبی آرزوں کی اشاعت وشمولیت، غربت سے جڑے صحت کے مسائل، تحقیق و طب کی مشکلوں پر قابو پانا، دینی و دنیاوی علوم کی تقسیم جو دراصل غیراسلامی  رویہ ہے اس ترک کرتے ہوئے حساب ، کامرس اور سائنس اور ایسے دیگرمضامین میں مہارت پیدا کر کے دنیا میں کوئی فیصلہ کن کردار نبھانے کے لئے قوم کو تیار کرنا ، ہند کے علاقائی زبانوں میں اسلام کی اشاعت کے محاذ کے ساتھ مالی فلاحی اداروں کا استحکام اور توسیع شامل ہوسکتے ہیں۔<br />
بار بار حج و عمرہ کرنے والوں میں وہ سفاک دیندار بھی ہیں جنھوں نے اپنے  مشرکانہ رسم و روج کی گمراہیوں کا بوجھ مجبور و باعصمت گھرانوں بلکہ بیٹیوں پر ڈالا ہے جو جہیز اور گھوڑے جوڑے کی صورت میں لڑکی والوں سے مال نوچ کر وسائل چھین کر نکاح جیسے مکرم تہذیبی وتمدنی معاہدے کو یہودی تاجروں کی طرح بدن کا گوشت تراش رہے ہیں۔اور بے بس سرپرست اپنے جگر کے ٹکروں کو سب کچھ لٹا کر وداع کر رہے ہیں۔<br />
علیم خان نے بڑے اہم سماجی تجربے و تجزیے سے یہ ثابت کیا کہ متوسط گھرانوں میں بیٹیوں کا باپ تو مقروض جیتا اور مرجاتا ہے  جبکہ لڑکوں کے اولیاء حج پر جج کر کے زہد کی ڈینگ سے سماجی تفاخر اینٹھ رہے ہیں۔</p>
<p>خان صاحب نے یہ خوب لکھا کہ حضرتِ ابرھیم  کاحج اپنے بڑوں کی مشرکانہ روایات وصنم پرستی کے خلاف اقدام سے شروع ہوکر ہجرت وطن کی منزلوں سے ہوتا ہوا اپنی گرہستی  کے ایثار جس میں اولاد اوراپنی ہردل عزیز بیوی کو اللہ کی رضا پر تعمیر کعبہ پر معمور کرتے ہوئے آخر میں زمانے کی آگ میں اپنے  ایمان کا ثبوت مہیا کرتے ہوئے تمام ہوتا ہے۔<br />
جبکہ آج کل "ائرپورٹ سے ائرپورٹ تک کے سفر کوحج سمجھاجا رہا ہے "<br />
جناب علیم خان فلکی حج کے اثرات کو سماج کی لوح جبیں پر رنگ و نور کی طرح روشن دیکھنا چاہتے ہیں۔مثال اس طرح دی ہے کہ جیسے عرفات میں پوری انسانیت کاعظیم اجتماع اپنے الگ الگ قافلوں میں آتا ہے لیکن ایک ہی روحانی مقصد کے لئے جڑ جاتا ہے ۔اسی طرح چھوٹے چھوٹے فلاحی سرگرمیاں عالمی سطح پر اپنا اپنا کردار نبھائینگے تو قوت و شوکت کا اجتماعی ظہور ممکن ہوگا۔</p>
<p>16 صفحوں کا یہ مختصر کتابچہ اپنے  "قلیل و دلیل" ہونے کے ادبی معیار پر کھرا اترتا ہے۔ جس میں آیاتِ قرآنی و احادیث کریمہ کے حوالے  سماجی تجزیاتی اسلوب نگارش، عوامی نفسات اوراس مسئلے سے جڑے مسائل ، محرکات اور حل کے امکانات کا احاطہ کیا ہے۔ دینی خیرخواہی میں رچی بسی یہ تحریر بڑی غمخواری کی غماز ہے۔ اس کے پڑھنے والوں کو اس بات کا اختلاف تو ہو سکتا ہے کہ اس قدر روحانی موضوع کو سماجی نقطہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کچھ عجیب سی لگے گی۔ لیکن اسلام جو دعویدار ہے کسی بھی بے نتیجہ روحانی سرگرمیوں کی روک تھام کا۔ اس دین میں یہ امکان کس طرح باقی ہے اُمت کی سربلندی کے خواب ظاہری و نمائشی عبادت کے ہتھے چڑھ جائے۔ ہنگامی صورتحال میں ہم لوگ ترجیحات کی نئی تنظیم کا امکان نہ تلاش کرسکیں ۔ ذرا سا اس مسئلہ کاحل ہزاروں مسائل کے حل کی بشارت ساتھ رکھتا ہے۔</p>
<p>ہمیں یقین ہے کہ یہ کتاب جذبات کی بند آنکھوں کے بجائے حوصلہ مندانہ نگاہوں سے پڑھی جائیگی۔</p>
<p>==========<br />
کتاب : <span style="color: #ff0000;">خدارا حج اور عمرہ کوایک مذہبی پِکنک  نہ  بنائیے</span> <a href="http://www.picnic.socioreforms.com/">[کتاب کا آن لائن مطالعہ یہاں کیجئے]</a><br />
مصنف : <span style="color: #800080;">علیم خان فلکی (جدہ)</span><br />
تبصرہ : <span style="color: #ff0000;">نعیم جاوید (دمام)</span><br />
بحوالہ :<span style="color: #0000ff;"> اردو بک ریویو۔ دہلی</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/hajj-o-umrah-book-review/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہو گئی قربانی !</title>
		<link>http://socioreforms.com/ur/curr-act-posts/ho-gayi-qurbani/</link>
		<comments>http://socioreforms.com/ur/curr-act-posts/ho-gayi-qurbani/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 18 Nov 2010 19:49:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[حالیہ سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[بی بی ہاجرہ]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت ابراہیم]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت اسماعیل]]></category>
		<category><![CDATA[سنت ابراہیمی]]></category>
		<category><![CDATA[قربانی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://socioreforms.com/ur/?p=150</guid>
		<description><![CDATA[یہ مضمون ‫pdf فائل کی شکل میں ڈاؤن لوڈ کریں
***
الحمد للہ قربانی ہوگئی۔
بکرے کٹے بھی اور تقسیم بھی ہوگئے۔ گھر گھر سے کلیجی اور بٹ کے پکوان کی خوشبو نے اعلان کیا کہ امّتِ ابراہیمی کے ہر فرزند نے مزے لے لے کر سنّتِ ابراہیمی کا لطف اٹھایا۔ حضرت ابراہیم کو تو بیٹھی جگہ فرشتوں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #800080; font-size:14px;">یہ مضمون ‫pdf فائل کی شکل میں <a href="http://socioreforms.com/books/Ho_gayi_Qurbani.pdf">ڈاؤن لوڈ</a> کریں</span><br />
***<br />
الحمد للہ قربانی ہوگئی۔<br />
بکرے کٹے بھی اور تقسیم بھی ہوگئے۔ گھر گھر سے کلیجی اور بٹ کے پکوان کی خوشبو نے اعلان کیا کہ امّتِ ابراہیمی کے ہر فرزند نے مزے لے لے کر سنّتِ ابراہیمی کا لطف اٹھایا۔ حضرت ابراہیم کو تو بیٹھی جگہ فرشتوں نے دُنبہ پیش کر دیا اور بغیر کسی مشقّت کے انہوں نے ایک اکیلے بکرے کو ذبح کر دیا۔ لیکن فرزندانِ امتِ ابراہیمی کو دو دو اور چار چار بکرے ڈھونڈھنے، قصّاب کو لانے، اور پھرصاف صفائی میں جتنی محنت اور مشقّت سے دوچار ہونا پڑا یہ تو حضرتِ ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی نہیں کرنا پڑا۔ اور نہ انہیں علماء سے پوچھنا پڑا کہ بکرے کی عمر کیا ہو، اسکا رنگ کیسا ہو، اسکی ٹانگ اور کان کیسے ہوں، اور نہ بی بی ہاجرہ کو گوشت صاف کرنے، اچھا والا گوشت سمدھاوے میں بھیجنے ، درمیانی گوشت رشتہ داروں میں اور کم درجے کا گوشت غریبوں کو دینے کیلئے پیاکٹس بنانے کی زحمت اٹھانی پڑی۔ اور نہ انہیں مسلمان بستیوں میں سے گزرتے ہوئے ناک پررومال رکھنے کی نوبت آئی جہاںقربانی کرکے اوجڑی ، خون اور غلاظت گلی میں پھینک دینامسلمانوں کیلئے ثواب میں شامل ہے۔ سلام ہو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر کہ جنہوں نے بیٹے کی قربانی پیش کردی اور ہمارے لئے اتنی آسان سنت چھوڑ گئے کہ ثواب کا ثواب بھی اور لذیذ گوشت کے مزے بھی۔<br />
غیر مسلم بھی دیکھتے ہونگے تو حیرت میں پڑجاتے ہونگے کہ جس قربانی کو اللہ تعالیٰ</p>
<div class="quranarb">إن هذا لهو البلاء المبين</div>
<p>بے شک یہ سب سے بڑی آزمائش ہے<br />
کہتا ہے۔ جس قربانی پر اللہ تعالیٰ</p>
<div class="quranarb">سلام على إبراهيم</div>
<p>یعنی ابراہیم پر سلام ہو<br />
کہہ کر انکی قربانی کو سلام کرتا ہے۔ اور اسکو "ذبحِ عظیم" یعنی عظیم ذبیحہ قرار دیتاہے کیا وہ قربانی یہی ہیکہ اس کی یاد میں ہر سال لاکھوں جانوروں کا خون بہادیاجائے؟ ایک دو وقت کا مزے لے کردستر خوان سجایاجائے؟ جس قربانی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ</p>
<div class="quranarb">إني جاعلك للناس إماما</div>
<p>یعنی ہم آپ کو تمام انسانوں کی امامت اور قیادت یعنی لیڈرشپ بخشیں گے۔<br />
اگر لاکھوں جانوروں کو ذبح کرنے سے دنیا کی قیادت مل سکتی تھی تو آج مسلمان چاہے وہ مسلم ملکوں کے تاجدار ہوں کہ دوسرے ملکوں کے خستہ حال، سارے کے سارے امریکیوں، یہودیوں یا ہندوؤں کے رحم و کرم پر نہ ہوتے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس گوشت کی تقسیم پر سلام بھیجنے والا ہوتا تو نہ آج ہندوستانی مسلمان اخلاقی اور معاشی طور پر ہریجنوں سے بد تر ہوتے اور نہ پاکستانیوں پر دہشت گردی اور کرپٹ ہونے کے الزام ہوتے۔</p>
<p>اس کا سبب صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ ہم جو ذبیحہ کررہے ہیں وہ تو الحمدللہ فقہی اعتبار سے مکمل سنتِ ابراہیمی پر مبنی ہے لیکن اس کی نیّت نیّتِ ابراہیمی و نیّتِ اسماعیلی نہیں۔ آپ کہیں گے یہ کون سی نئی نیّت ہے؟</p>
<p>جی نہیں۔ یہ کوئی نئی نیّت نہیں ہے۔ یہ قربانی کی اصل روح ہے۔ جو کچھ آپ کررہے ہیں وہ تو صرف ایک جسم ہے۔ جب تک اس میں روح نہ ہووہ جسم بے جان ہے۔ یہاں بخاری (رحمۃ اللہ علیہ) کی حکمت سمجھ میں آتی ہے جنہوں نے<br />
"تمام اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے "<br />
والی حدیث کو سرِکتاب رکھا۔ جس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چُھری پھیرنے لگے تھے اُس وقت اُن کے ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اور بی بی ہاجرہ (علیہا السلام) کے ذہن میں جو عزم اور ارادہ چل رہا تھاوہ دراصل نیّت ہے جو قربانی کرنے سے پہلے آپ کے ذہن میں سچے دل سے چلنا چاہئے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ہاں پہنچتی ہے۔ گوشت دنیا والوں کیلئے ہے اور نیّت اللہ تعالیٰ کیلئے ہے۔ اگر نیّت ہی نہ پہنچے تو زمین پر ایک جانور کا گلا کاٹ کر آپ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے آپ کی زندگی میں کوئی انقلاب آئیگا۔</p>
<div class="quranarb">لن ينال الله لحومها ولا دماؤها ولكن يناله التقوى منكم كذلك سخرها لكم لتكبروا الله على ما هداكم وبشر المحسنين</div>
<p>سورہ  الحج (22) ، آيت:37<br />
یعنی "ا للہ تعالیٰ کے ہاں قربانی کا نہ گوشت پہنچتا ہے نہ اسکا خون بلکہ اسکے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے"۔</p>
<p>یہ تقویٰ ہی دراصل وہ نیت ہے جو چھری پھیرنے سے پہلے سچے دل سے نکلتی ہے۔ پتہ یہ چلا کہ جانور کو ذبح کرنا اصل سنّت نہیں بلکہ وہ نیت یا ارادہ اصل سنت ِ ابراہیمی یا سنّتِ اسماعیلی ہے جسکے بغیر ہم نے اگر دس دس بکرے بھی کاٹ ڈالے تو یہ اللہ کے ہاں پہنچنے والے نہیں۔ چونکہ یہ نیت فقہ کی کتابوں میں لکھی نہیں ہوتی اور نہ ہمارے مفتی سمجھاتے ہیں اسلئے یہ بات عجیب سی لگ رہی ہے۔ اصل سنت ایک مستحب بن گئی ہے۔<br />
آیئے آئندہ سال کیلئے اس نیّت کو ابھی سے اپنے دل میں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ جب یہ یقین ہوجائے کہ واقعی اس نیّت پر عمل کرنے کی ہمت ہے تو پھر قربانی کریں۔ قربانی صرف جانور کو ذبح کرنے کا نام نہیں۔ یہ تو اصل قربانی کے عمل کی آخری قسط یا Episode ہے ۔ قربانی کا بکرا لانے کیلئے بکرا مارکٹ جانے سے پہلے کچھ ہوم ورک بہت ضروری ہے ورنہ آپ کا حال اس طالبِ علم کا ہوگا جو اسٹیٹ کا Topper بننے کا ارمان تو رکھتا ہے لیکن بغیر اسٹڈی کیئے امتحان ہال میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ اسکا لباس، قلم، ہال ٹکٹ، وقت کی پابندی سب کچھ طریقے کے مطابق ہے، پرچہ بھی اسکا صاف ستھرا ہے۔ لہذا اسکو پورے نمبر ملنے چاہئے۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">بکرا خریدنے کا پہلا مرحلہ:</span><br />
اگر آپ نے قربانی دینے کا تہیّہ کرلیا ہے تو گھر سے نکلنے سے پہلے ذرا گھر کے اندر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح مانباپ کے عقیدے اور آمدنی پر نظر ڈالنی ہوگی۔اگر گھر میں ناجائز کاروبار کی آمدنی آرہی ہو، رشوت، زمینوں پہ قبضے، جھوٹ اور فریب سے کمائی میں اضافہ ہورہاہو، جہیز کا مال جو کہ لڑکی کے باپ سے سسٹم کے نام پر وصول کیاگیاہو، اللہ اور اسکے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کھلی نافرمانی ہوتی ہو تو بکرا خریدنے سے پہلے گھر والوں کو سمجھانافرض ہے۔جب کوئی نہ مانے تو گھر چھوڑدینا سنّتِ ابراہیمی ہے۔ یہ ہے بکرا مارکٹ چلنے کا پہلا مرحلہ۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">دوسرا مرحلہ :</span><br />
پھر محلے اور شہر والوں کو دینِ حنیف یعنی ایک اللہ کی بندگی کی دعوت دینا۔ اور اس بات کیلئے تیار رہنا کہ آپ کو سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے۔ آپ کو قدم قدم پر قانون کا خوف، گھر اور شہر سے نکال دیئے جانے کا خوف، بچوں کے مستقبل کا خوف راستہ روکیں گے۔ لیکن اگر آپ جانور کی قربانی دینے پر بضد ہیں تو یہ سب آپ کونہ صرف برداشت کرنا ہے بلکہ اسکا مقابلہ کرنا ہے۔ ضرورت پڑے تو گھر، محلہ، شہر اور ملک بھی چھوڑنا ہے۔ یہ ہے بکرا مارکٹ کے راستے کا دوسرا مرحلہ۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">تیسرا مرحلہ:</span><br />
اب اولاد رکاوٹ بنے گی۔ یہ سب سے اہم مرحلہ ہے۔ انسان اولاد کی محبت میں، مانباپ کی محبت میں سب کچھ کر سکتا ہے۔ اگر ہم سوتے ہوئے اپنے اپنے اعمال کا احتساب کریں تو پتہ چلے گا کہ ہمارے %90 بداعمالیاں صرف اس اولاد کے اچھے مستقبل کی خاطرسرزد ہوی ہیںجسکی خاطر ہم اللہ اور اسکے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کوئی بھی حکم ٹال سکتے ہیں۔ انکار تو نہیں کرتے لیکن جانتے بوجھتے وہ حکم ٹال کر دل میں یہ نیت کرلیتے ہیں کہ اللہ معاف کرنے والا ہے۔ بعد میں کوئی وظیفہ یا درود و سلام پڑھ کر، خیرات زکوٰة دے کر، نفل عمرے و حج کرکے یا کسی بزرگ کی درگاہ پر حاضری دے کر یا میلادالنبی خوب دھوم دھام سے مناکر اللہ اور اسکے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو منالیں گے۔انہیں ایسے مولوی بھی آسانی سے مل جاتے ہیں جو شفاعت اور مغفرت کے ایسے ایسے Shortcut وسیلے فراہم کرتے ہیں کہ علماءبھی دنگ رہ جاتے ہیں۔ شریعت منہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔ ان کا ایمان اس بات پر پختہ کردیاجاتاہےکہ گنپتی یا کاشی کی پوجا کرنے والوں کی طرح جانتے بوجھتے اللہ کی نافرمانی کرو،مصلحت یا مجبوری کے بہانے جھوٹ بولو، جوڑا جہیز وصول کرو، رشوت کھاو اور کھلاو، اپنی اور اپنے خاندان کی عزت، کیلئے جیسا چاہو ذریعہ آمدنی اختیار کرو، پڑوسی، عزیز و اقارب کو اگر تکلیف ہوتی ہے تو ہونے دو۔جھوٹے سچے مقدمات جاکر بجائے علماءسے فیصلے کروانے کے، غیروں کی عدالتوں میں لڑو، سیاسی مقام پیدا کرنے کیلئے جائز ناجائزکے فرق کو فراموش کرو، پھرفلاں فلاں عمل کرلو اللہ تعالیٰ معاف فرمادیںگے۔حالانکہ قرآن و حدیث یہ خوشخبری د یتے ہیں کہ اگر بندہ سچے دل سے توبہ کرلے اور حقوق العباد کا حق ادا کردے تو اسکے بڑے سے بڑے گناہ معاف کردیئے جائینگے اور اسکو جنّت عطا کردی جائیگی۔ لیکن سچی توبہ سے فرار کے بھی کئی فلسفے لوگوں کے پاس موجود ہیں۔</p>
<p>بکرا خریدنے کا یہ تیسرا مرحلہ بہت سخت ہے۔ اولاد کو اللہ کے حکم کے آگے ذبح کرنا تو درکنارانسان اولاد کو ایک کانٹا بھی چبھے یہ برداشت نہیں کرسکتا۔ اور اگر کوئی عزم کربھی لے تو شیطان آکروہی کہتا ہے جو ابراہیم (علیہ السلام)، اسماعیل (علیہ السلام) اور بی بی ہاجرہ (علیہا السلام) سے کہتا تھا جسے سن کر انہوں نے کنکریاں دے ماریں ۔ آج بھی وہ ایک سچے مسلمان باپ سے کہتاہے " دوسرے سارے احکام تو پورے کرہی رہے ہیں۔ داڑھی رکھی ہے، بیوی پردہ بھی کرہی لیتی ہے۔ نماز ، روزہ، زکوٰة سب کچھ تو ادا کرتے ہی ہیںبعض معاملات میں اگر اولاد کی خاطر سمجھوتہ بھی کرنا پڑے تو برائی کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے"۔ اُدھر جاکر اولاد کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتاہےکہ "تمہارا باپ اپنی مرضی چلانا چاہتاہے چاہے اولاد کا مستقبل تباہ ہوجائے"۔ اور اُدھر بیوی کو جاکر یہ بھڑکاتاہے اور کہتا ہے "تمہارے شوہر کو بس دین معلوم ہے، دنیا کیا معلوم۔ اولاد کیلئے لوگ کیا نہیں کرتے لیکن ایک یہ آدمی ہیکہ غیر ذمہ دار اور لاپروا ہے۔ تم اسکی ایک بات بھی نہ سننا۔ وہی کرنا جو اولاد کیلئے بہتر ہو۔ اگر شوہر ناراض بھی ہوگا تو تھوڑی دیر غصّہ کرے گا اور پھر چپ ہوجائیگا"۔<br />
شیطان کی اس طاقتورچال سے بچ کر نکلنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اگر آپ اس سے نکل سکتے ہیں تو چلئے اب بکرا خریدیئے۔ اور چُھری چلاتے ہوئے یہ دل میں ٹھوس نیّت کیجئے۔</p>
<p>ایک باپ کی نیّت یوں ہوگی: اے اللہ تیرے حکم کے آگے گھر، مانباپ، شہر اور ملک ہی نہیں اگر اولاد کو بھی چھوڑنا پڑے تو چھوڑ دونگا، تیر ی مرضی کے آگے اگراولاد کو اس بکرے کی طرح قربان بھی کرنا پڑے تو کردونگا بسم اللہ اللہ اکبر۔۔۔۔</p>
<p>ایک بیٹے یا بیٹی کی نیّت یہ ہوگی: اے اللہ، تیری رضا کیلئے اپنی جان بھی لٹادینگے ۔ اگر تیرا حکم ہےکہ والد کی فرمانبرداری میں اپنا گلا بھی ذبح کرنے کیلئے پیش کردوتو اسماعیل (علیہ السلام) کی طرح پیش کردینگے ۔ بسم اللہ اللہ اکبر۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>ایک بیوی کی نیّت: اے اللہ تیری رضا کی خاطر شوہر کی خواہش یا حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کردونگی۔ تیرے حکم پر اگر وہ اولاد کو بھی قربان کردینے کا ارادہ کرلے تو میں شیطان کا نہیں اسکا ساتھ دونگی۔ بسم اللہ اللہ اکبر۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>جب یہ قربانی کا گوشت گھر گھر پہنچ جائیگا تو یہ اعلان ہوجائیگا کہ اس آدمی نے عہد کرلیا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے آگے اولاد کو بھی قربان کرسکتاہے۔ جب اولاد کی بھی وہ پروا نہیں کرے گا تو دوسرے کس شمار میں۔ اسلئے اب اس آدمی پر اعتبار کیا جاسکتاہےکہ وہ انصاف کرے گا، کبھی جھوٹ دھوکہ فریب رشوت اور ناجائز کمائی کا سہارا نہیں لے گا۔اگر ہر باپ کا یہ اعلان گھر گھر پہنچے گا تو کیسے ممکن ہے کہ معاشرہ میں برائیاں پنپیں، لوگ اولاد کی خاطر اللہ کی نافرمانی کریں؟</p>
<p>جب یہ گوشت گھر گھر پہنچے گا تو لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ اس شخص نے اپنے والد کی فرمانبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔ جسطرح اسکے والد پر اعتبار کیا جاسکتاہے اس پر بھی اعتبار کیاجاسکتاہے۔ جب یہ اعلان گھر گھر ہو توپھر کیسے ممکن ہے کہ اولاد آوارہ نکلے، والدین کا دل دکھائے۔ والدین کے دین اور تہذیب کو چھوڑ کر کسی اور راستے پر نکل پڑے؟لوگ جوڑا جہیز کو جائز سمجھیں، بہویں اپنے شوہروں کو لے کر ساس سسر سے علہٰدہ ہوجائیں اور ان بوڑھوں کی عزتِ نفس کو تکلیف پہنچے؟</p>
<p>جب یہ گوشت دوسری عورتوں تک پہنچے گا تو یہ اعلان ہوجائیگا کہ یہ عورت اپنے شوہر کو خدا کے بعد کا درجہ دینے والی ہے۔ اسکے ہر حکم پر اپنی جان اور اپنی اولاد کو بھی قربان کرڈالنے والی ہے۔ اگر بیوی ابرا ہیم کی اہلیہ حضرت بی بی ہاجرہ (علیہا السلام) کے نقشِ قدم پر ہوکہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں مکہ میں جبکہ مکہ تعمیر بھی نہیں ہوا تھا ایسی جگہ تنہا چھوڑا اور واپس پلٹے تو وہ ایک بیوی کے صبر اور اللہ کی اطاعت کا عظیم ترین امتحان تھا۔<br />
اس عظیم بیوی نے یہ بحث نہ کی کہ کس کے بھروسے چھوڑ کر جارہے ہو، اناج، پانی اور گھر کا انتظام کئے بغیر کسطرح جاسکتے ہو۔ صرف اتنا پوچھا کہ "کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟"۔ جواب ہاں میں سننے کے بعد انہوں نے فوری سر جھکا دیا۔</p>
<p>ہر وہ عورت جس کے نام کی قربانی آج ہوتی ہے اگر وہ بھی بی بی ہاجرہ (علیہا السلام) کی نیت کرے اور شوہر اور اسکے خدا پر ایسا ہی اعتماد و یقین پیدا کرلے تو پھر کیسے ممکن ہے کوئی بیوی شوہر سے بحث یا حجّت کرے، اسکی مرضی جانتے ہوئے بھی اسکے خلاف کرکے بچوں کو یہ سبق دے کہ گھر میں صرف ماں کی چلتی ہے باپ کی نہیںباپ تھوڑی دیر پکارے گا اور پھر چپ ہوجائگا۔ لہٰذا باپ کی خواہش کو نظر انداز بھی کیاجا سکتا ہے ۔ جس گھر میں بیوی شوہر سے بحث کرنے والی ہو ، شوہر سے اونچی آواز میں غصہ دکھانے والی ہو، ہر بات میں شکایت اور طنز کرنے والی ہو اس گھر میں کبھی برکت نہیں ہوتی، اولاد نافرمان نکلتی ہے۔ اور پھر ان کی اولادیں بھی ان کی نافرمان نکلتی ہیں۔<br />
شائد اسی لئے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مکہ تشریف لائے اور بہو سے ملے، خیر خیریت پوچھی تو بہو نے بجائے صبر و شکر و قناعت کا جواب دینے کے، شوہر اور حالات کی ناشکری بیان کی۔ طنز و شکایت بیان کرنے لگی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کو مشورہ دیا کہ چوکھٹ بدل دیں۔ یعنی اس بیوی کو چھوڑ دیں۔ اسماعیل (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا۔ جب اگلی بار ابراہیم (علیہ السلام) مکہ تشریف لائے اور دوسری بہو سے خیر خیریت پوچھی تو انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ہر حال میں قناعت اور شوہر کی فرمانبرداری کا اظہار کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں دعا دی۔ اور آپ جانتے ہیں کہ بی بی ہاجرہ (علیہا السلام) اور ان کی فرمانبردار بہو کی کوکھ سے پیغمبروں کی نسل چلی۔ یہی اللہ تعالیٰ کا انعام ہوتا ہیکہ جب بیویاں ہر معروف میں اپنے شوہر کی بلا چوں و چرا اطاعت کرتی ہیں وہ جن حالات میں رکھیں خوش رہ کر شوہر کو بھی خوش رکھتی ہیں اللہ تعالیٰ ان کے گھروں میں نہ صرف برکتیں نازل فرماتا ہے بلکہ ان کی گودوں سے صالحین پیدا ہوتے ہیں۔</p>
<p>مختصر یہ ہیکہ بکرے کی قربانی تو محض ایک علامت یا Symbol ہے اس قربانی کے جذبے کا جسکے نتیجے میں پورا گھر، معاشرہ اور ملک بدل جاتاہے۔ ایک انقلاب آجاتاہے۔ دنیا خود آگے بڑھ کر ایسے باپ، ایسی اولاد اور ایسی بیوی کو قیادت پیش کرتی ہے۔یہی لوگ سیاست، سماج، معیشت اور تہذیب کے اصلی قائد کہلانے کے لائق ہوتے ہیں۔ اور اگر اس نیتِ ابراہیمی اور نیتِ اسماعیل (علیہ السلام) اور نیتِ ہاجرہ کے بغیر ذبیحے ہوتے رہے تو انقلاب تو کوئی نہیں آئیگا۔ البتہ اس قوم کا سیاسی ، سماجی، معاشی اور تہذیبی وجود آج جتنا بدتر ہے اسکی بدتری میں اور اضافہ ہوتاجائیگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ آیئے ہم عہد کریں کہ آئندہ سال کے بکرے کی خریدی کی تیاری ہم آج ہی سے شروع کرتے ہیں۔ انشاءاللہ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://socioreforms.com/ur/curr-act-posts/ho-gayi-qurbani/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>12</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نکاح آسان تر بنا یا گیا تھا مگر !</title>
		<link>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/nikaah-aasaan-tar-magar/</link>
		<comments>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/nikaah-aasaan-tar-magar/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 14 Nov 2010 14:52:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>مبصر</dc:creator>
				<category><![CDATA[خبر نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[نکاح]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://socioreforms.com/ur/?p=145</guid>
		<description><![CDATA[ممبئی سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ "اردو ٹائمز" کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نکاح آسان تر بنا یا گیا تھا مگر !
بشکریہ : اردو ٹائمز ، ممبئی - 11-نومبر-2010ء
دین حنیف نے زندگی کے کسی پہلو ،کسی گوشے کو نظر انداز نہیں کیا ہے۔
بلکہ ہمارے اکابر واسلاف نے ان کی جزئیات تک کی شرح بیان [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ممبئی سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ <a href="http://www.urdutimes.in/">"اردو ٹائمز"</a> کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<blockquote>
<h2>نکاح آسان تر بنا یا گیا تھا مگر !</h2>
<p>بشکریہ : <a href="http://www.urdutimes.in/story.php?catId=6&amp;ID=38905">اردو ٹائمز ، ممبئی - 11-نومبر-2010ء</a></p>
<p>دین حنیف نے زندگی کے کسی پہلو ،کسی گوشے کو نظر انداز نہیں کیا ہے۔<br />
بلکہ ہمارے اکابر واسلاف نے ان کی جزئیات تک کی شرح بیان کر دی ہیں۔ شرط ہے کہ ہم اپنی زندگی اسلام کے سائے میں گزارنا چاہیں ورنہ تو شیطان ہمارے لئے کھلا ہوا دشمن بتا دِیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پڑھنے والوں کے ذہن میں یہ بات آئے کہ یہ شیطان کہاں سے آ گیا؟ تو بھائیو اور بہنو! شیطان تو ہمارے ہر کام میں دخل کرنے کا منصوبہ بنائے ہمارے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ رسول کریم کے نام پر مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں مگر محسن انسانیت کا یہ مشہور قول :<br />
<span style="color: #0000ff;"> (ترجمہ) میں نے نکاح کو آسان اور زِنا کو مشکل بنا دیا ہے۔</span><br />
ذرا اپنے اِرد گِرد دیکھیں تو آج ہم نے اس قول کو نہ صرف فراموش کر دیا ہے بلکہ نکاح کو جنتا مشکل بنا سکتے ہیں بنا رہے ہیں اور نتیجے میں دوسرا عمل آسان ہو گیا ہے۔ سعودی عرب کے حالیہ دورے میں مجھے حیدر آباد (دکن) کے ایک ایسے بھائی بھی ملے کہ جن کی مساعئِ احسن سے صرفِ نظر کرنا ہم جیسوں کے نزدیک اپنے آپ سے نا انصافی کے مصداق ہے۔ یہ حضرت ہیں "علیم خان فلکی" جو شادی بیاہ میں ہونے والی رسوم ِقبیح کے خلاف ایک جہاد چھیڑے ہوئے ہیں۔<br />
چونکہ علیم خان فلکی کا تعلق حیدرآباد (دکن ) سے ہے جہاں غریب لڑکیوں کی شادی بیاہ کو ایک مشکل تر امر بنا دیا گیا ہے اور حیدر آباد ہی کیا پورے ملک میں یہ وبا کی طرح عام ہے جس کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں نہ جانے کتنے مفاسد پھیلتے جارہے ہیں ۔ جس میں ایک نہایت ہلاکت خیز عمل ارتداد بھی ہے۔(اس پر گفتگو آئندہ ہوگی)<br />
علیم خان فلکی ، ریاض (سعودی عرب) سے وقفے وقفے سے ہندوستان کا دورہ کرتے رہتے ہیں اور شادی بیاہ میں ہونے والی غلط رسوم سے پیدا ہونے والے مسائل سے لوگوں کو واقف کراتے رہتے ہیں اور لوگ انھیں ہر جگہ بڑی توجہ سے سنتے ہیں ۔ اس وقت ہمارے پیش ِنظر اسی موضوع پر ان کی ایک تصنیف "مرد بھی بِکتے ہیں ۔۔۔ جہیز کےلئے" جو جہیز اور شادی بیاہ کی مجہول رسوم کے خلاف لکھی گئی ایک اہم کتاب ہے۔ جس میں انہوں نے جس طرح سے اس سلگتے ہوئے موضوع پر روشنی ڈالی ہے وہ قابلِ قدر تو ہے ہی مگر اس کتاب کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کو اسے پڑھنا چاہئے اور نکاح کی آسانی کو سمجھنے کی ہی نہیں بلکہ اس پر عمل در آمد کےلئے ہر ممکن کوشش بھی کرنا چاہئے۔ کتاب تو علم ہے علم اور علم تب مفید ہو سکتا ہے جب ہم اس پر عمل بھی کریں۔</p>
<p>دراصل ایک بات جو بڑی توجہ چاہتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے برادرانِ وطن سے جو کچھ سیکھا ہے اُن سے جو کچھ اخذ کیا ہے اس میں شرک کے علاوہ وہ کون کون سے اعمال ہیں جو ہماری ہلاکت کا سبب بنے ہوئے ہیں۔؟ دوسری بات یہ بھی ہے کہ ہمارے عام علماء نے عبادات کے مسائل پر تو بہت توجہ سے کام کیا ہے مگر زندگی کے معاملات کے حوالے سے اسلام نے کیا کیا حدود قائم کئے ہیں اور کہاں کہاں سے مفسدات کے خدشات بر آمد ہو سکتے ہیں۔ اس پر جس طرح سے کام کرنا چاہئے شاید نہیں کیا گیا۔ اسی کا نتیجہ ہے جو شادی بیاہ میں ہمارے ہاں مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں اچھے خاصے مذہبی قسم کے لوگ بھی شادی بیاہ میں شعائرِاسلام کے خلاف عمل کرتے ہیں اور عام لوگ انہی کی تقلید کرنے میں بہت آگے تک چلے جاتے ہیں۔ ضرورت تو یہ ہے کہ علیم خان فلکی جیسے ایک نہیں درجنوں اشخاص ان مفسدات ملت کے خلاف کام کریں اور ایسا نہیں کہ ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں نہیں ہیں، بہتیرے لوگ ہیں بس اُن کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ اور یہ عمل کسی بھی معروف نیکی سے کسی سطح پر کم نہیں ۔ کیا ہم سے نہیں کہا گیا ہے کہ نیکی میں سبقت لے جاؤ؟<br />
علیم خان فلکی ایک شخص ہیں مگر ان کا کام متقاضی ہے کہ ملت کا ہر درد مند شخص ان کے ساتھ شامل ہو کر ایک کارواں بنا دے کہ شادی بیاہ کی بیجا رسوم ہمارے معاشرے میں مہلک مرض کی طرح پھیل چکی ہیں اُنکے خلاف ایک جنگی پیمانے کی مہم کی ضرورت ہے۔ ہم ذیل میں علیم خان فلکی سے رابطے کےلئے ان کا انٹر نیٹ آئی ڈی اور فون نمبر(00966504627452) درج کر رہے ہیں: aleemfalki@yahoo.com<br />
موصوف کی ویب سائٹ www.aleemkhanfalaki.com بھی ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔</p></blockquote>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://socioreforms.com/ur/news-ltr-posts/nikaah-aasaan-tar-magar/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

