سعودی عرب کے اسلامی کلچر سنٹر دمام ، وامی (wamy) الخبر اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں سہ روزہ (6 ، 7 اور 8 جولائی 2011ء) "انسدادِ جہیز مہم" کا انعقاد کامیابی کے ساتھ عمل میں آیا۔
جہیز اور وداعی کے دن کے کھانے (جو لڑکی کے والدین پر مسلط کیا جاتا ہے) کو عام طور پر لوگ محض ایک سماجی یا تہذیبی مسئلہ سمجھتے ہیں جبکہ یہ مکمل حلال و حرام کا ایک مسئلہ ہے۔ شرعی بنیادوں پر یہ مسئلہ کیونکر حرام ہے ، اس کی وضاحت "انسدادِ جہیز مہم" کے مختلف خطبات میں کی گئی۔
ان خطبات کے منتخب شدہ کچھ اہم نکات ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
شیخ محمد عالم مدنی نے کہا کہ ۔۔۔
ہندوستان و پاکستان میں جہیز کی لعنت کا رواج بڑھتا چلا جا رہا ہے جو مکمل ہندو تہذیب کی تقلید ہونے کے باعث شرعی بنیادوں پر حرام ہے۔
شیخ عبدالعلیم فانی نے کہا کہ ۔۔۔
جہیز بھیک کی بنیاد پر حرام ہے۔
یہ صرف یہ بلکہ قرآن نے "الرجال" کی جو تعریف پیش کی ہے ، جہیز کے رواج نے اس تعریف کو ہی نہیں بلکہ قرآن کے حکم کو الٹ دیا ہے۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اوپر والے ہاتھ کو نیچے والے ہاتھ سے بہتر کہا ہے۔ یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ لینے والا ہاتھ تو سائل کا ہاتھ ہوتا ہے۔
نعیم جاوید نے علامہ اقبال (رحمۃ اللہ علیہ) کے ایک شعر کے حوالے سے کہا کہ ۔۔۔
علامہ اقبال رحمۃ اللہ کے اس شعر
الحذر آئینِ پیغمبر سے سو بار الحذر
حافظِ ناموسِ زن ، مرد آزما مرد آفریں
کی مختصر شرح یہ ہے کہ امت آج خوشی اور غم کے اصلی اسلامی تصور سے ناواقف ہے۔
کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی کے سید منصور شاہ نے کہا کہ ۔۔۔
جو لوگ جہیز لے چکے وہ اگر لاعلمی میں لئے ہیں تو یہ ایک امانت ہے اور جان بوجھ کر لئے ہیں تو یہ ایک رشوت ہے اور ہر دو صورتوں میں اس کا لوٹانا واجب ہے۔
ادارہ ادب اسلامی دمام کے صدر جناب محمد عبدالعظیم نے کہا کہ ۔۔۔
اس مہم کو ہندوستان اور پاکستان کے کونے کونے میں لے جانے کی ضرورت ہے۔ اس لعنت کی وجہ سے آج ہزاروں لڑکیاں بےراہ روی پر مجبور ہیں اور لاکھوں غربت و افلاس کی وجہ سے یا تو غیرشادی شدہ ہیں یا پھر غیرمسلموں سے شادی کرنے پر مجبور ہیں۔
ادارہ ادب اسلامی دمام کے سیکرٹری جناب محمد مجیب نے کہا کہ ۔۔۔
جب تک خواتین بھی جہیز کے خلاف نہیں اٹھیں گی اس وقت تک جہیز کا خاتمہ ناممکن ہے۔
علیم خان فلکی نے اپنی ایک موثر تقریر میں بیان کیا کہ ۔۔۔
تمام سنی و شیعہ علمائے کرام نے (چاہے جس مسلک سے ان کا تعلق ہو) ، جہیز کو حرام قرار دیا ہے۔ جن بنیادوں پر جہیز حرام قرار پاتا ہے وہ رشوت ، بھیک ، وراثت کے احکامات کی خلاف ورزی اور غیر قوم کی تقلید ہیں۔
مولانا مجاہد الاسلام قاسمی (رحمۃ اللہ علیہ) نے کہا تھا کہ : آج معاشرے کی بربادی کے اصل ذمہ دار وہ خوشحال لوگ ہیں جو خوشی سے خرچ کرتے ہیں اور سارے غریب اور متوسط لوگوں کے لیے ایک ماڈل بنا دیتے ہیں جس کی وجہ سے پورا معاشرہ مالی مصیبتوں سے جکڑ رہا ہے۔
اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی (رحمۃ اللہ علیہ) ، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی (رحمۃ اللہ علیہ) ، مولانا حمید الدین عاقل (رحمۃ اللہ علیہ) ، مولانا ابوالحسن علی ندوی (رحمۃ اللہ علیہ) ، مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ نظامیہ ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور برہان الدین سنبھلی (رحمۃ اللہ علیہ) جیسے جید علماء نے جہیز کے حرام ہونے کی وجوہات پر کھل کر روشنی ڈالی ہے۔
انسدادِ جہیز کی اس مہم کے دوران ایک اچھی بات یہ دیکھنے میں آئی کہ کئی نوجوانوں نے جہیز نہ لینے کا عہد کیا اور جنہوں نے جہیز لیا تھا ، اسے واپس لوٹانے کا وعدہ کیا۔


Alhamdulillah bahot hi umadah tehreek hai, Allah hamsabko is par pukhta amal karney ki toufeeq ata farmye aur hamri society ko is lanat se paak farmaye. Aameen.
ماشاءاللہ بہت اچھی کوشش ہے ۔۔االلہ ہمارے معاشرے کو اس لعنت سے پاک فرمادے۔۔ٓامین۔۔