16 / جنوری / 2011 | خبر نامہ | 1 comment || از طرف: مبصر

مسلم سوشیو ریفارمز سوسائیٹی کی جانب سے گذشتہ ہفتہ "لائف انشورنس - افادیت اور طریقہ کار" کے موضوع پر جدہ (سعودی عرب) کے شاداب ریسٹورنٹ میں ایک سمینار منعقد کیا گیا۔
Ghulam Dastageer & Aleem Khan Falaki
اے جی ایجنسیز کے چیف ایگزیکیٹیو جناب غلام دستگیر نے سعودی عرب میں مقیم ہندوستانیوں سے خطاب کیا اور لائف انشورنس ، میڈیکل انشورنس اور میوچیول فنڈ کے متعلق تفصیلی جانکاری فراہم کی۔
عبدالقادر میمن نے بھی ہندوستان کے موجودہ ترقی پذیر میوچیول فنڈ trends پر روشنی ڈالی۔

سمینار کے میزبان اور چیف ایگزیکیٹیو "مسلم سوشیو ریفارمز سوسائیٹی" جناب علیم خان فلکی نے اپنی تقریر میں کہا :

زمانہ آج اگرچہ کہ کہیں زیادہ آگے بڑھ چکا ہے لیکن ہماری قوم کی عورتوں کے پاس بچت کے وہی ہزاروں سال پرانے طریقے ہیں۔ ہندوستان آٹھ (8) ٹن سونا سالانہ امپورٹ کرتا ہے جس کا بیشتر حصہ زیور بنا کر عورتیں لاکروں (lockers) میں بند کر دیتی ہیں۔ اس طرح مردوں کی محنت کی کمائی برسوں لاکروں میں بند رہتی ہے اور مرد حضرات ملک میں یا ملک کے باہر نوکری کی غلامی میں زندگی ضائع کر دیتے ہیں۔ یہی سونا مردوں کے کام آئے تو آج قوم میں بےشمار صنعتکار اور تاجر پیدا ہو سکتے ہیں۔

لائف انشورنس کے متعلق غلط فہمیاں اور مطالعے کے فقدان کی وجہ سے بےشمار افراد برے حالات میں بھیک ، چندے ، قرض ۔ رہن یا پھر ناجائز آمدنی کے حصول میں لگ چکے ہیں۔
حیرت ہے لوگ "جہیز" جیسی برائی کے مرتکب ہوتے ہیں ، اس کے لئے کوئی سوال نہیں اٹھاتے لیکن لائف انشورنس اور میچیول فنڈ پر سوالات اٹھا کر سب کو گمراہ کرتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ہر کمپنی جائز کام ہی تک محدود نہیں ہے لیکن یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ ہر کمپنی ناجائز منافع ہی پیدا کرتی ہے۔

یہ خبرنامہ روزنامہ "سیاست" اتوار سپلیمنٹ (16-جنوری-2011ء) میں شائع ہوا ہے۔
مکمل مضمون کے مطالعہ کیلئے یہ ربط ملاحظہ فرمائیں :
کمانے سے کہیں زیادہ مشکل کمائی کو بچانا ہے :: جدہ میں غلام دستگیر صاحب کا خطاب

Tags: , , , ,
از طرف : مبصر


1 تبصرہ برائے “کمانے سے کہیں زیادہ مشکل کمائی کو بچانا ہے”

  1. i need full detail of this book
    regarding alreading sent to mail about this subject,
    thanks

Leave a Reply

XHTML: You can use these tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>