4 / ڈسمبر / 2011 | خبر نامہ | (No comments) || از طرف: علیم خان فلکی

سيروا في الأرض فانظروا ... المجرمين {1}

کلکتہ میں "جہیز روکو" مہم ـ 16/ تا 21/ نومبر 2011ء

بنگال کے قحط کے بارے میں ہم نے صرف تاریخ میں پڑھا تھا لیکن اب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ لیکن اس بار یہ زمینی قحط نہیں تھا جو انسانوں کو دانے دانے کا محتاج کر دیتا ہے۔ یہ اخلاقی اقدار کا قحط تھا جو دین و قرآن سے غفلت کی بنا پر دلوں اور دماغوں کو سوکھا کر جاتا ہے۔ مرد جہیز کی بھیک مانگنے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور غریب لڑکیوں کے والدین لڑکی کے ہاتھ پیلے کرنے کیلئے حلال و حرام کی پروا کئے بغیر ہر قسم کی کمائی کے ذریعے اپنے ہاتھ گناہ آلود کر لیتے ہیں۔ خوشحال لوگ اللہ کی دی ہوئی دولت کو اپنی ذات اور اپنے خاندان کی خوشیوں پر جائز یا ناجائز کی پروا کئے بغیر لٹانے کو جائز کر لیتے ہیں اور رسومات کے غلط ماڈل قائم کر کے پورے معاشرے میں حسرتیں ، آرزوئیں اور حرص و لالچ پیدا کرتے ہیں۔ ان کے آگے نہ قرآن کی وارننگ کوئی کام کرتی ہے نہ سنّت کی دہائی۔

مغربی بنگال کے مسلم علاقوں کو دیکھنے کے بعد یہ یقین اور پختہ ہو جاتا ہے کہ اگر ہمارے خوشحال طبقے اور علماء و مفتیانِ کرام نے جہیز کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو آئندہ دو تین دہوں میں یہ قوم معاشی طور پر ہریجنوں سے بھی بدتر حالت کو پہنچنے والی ہے۔ اور یہ بھی یقین پختہ ہو جاتا ہیکہ مسلمان چاہے تعلیمی، معاشی یا سیاسی طور پر لاکھ ترقی کرلیں اگر جہیز کی لعنت کو نہ ختم کیا گیا تو اخلاقی طور پر غیر قوموں سے بھی بدتر ہو جائیں گے ۔
یہاں مرد شادی کیلئے لڑکی والوں سے کم از کم پچاس ہزار روپیئے، موٹر سائیکل، فرنیچر اور تمام باراتیوں کو کھانا کھلانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ سونا اور دیگر اشیاء الگ سے ہوتی ہیں جو بغیرمانگے بھی لازمی ہوتی ہیں۔ اس طرح ہندوستان کی دوسری ریاستوں کی طرح مغربی بنگال میں بھی مردوں میں بے غیرتی اور جہیز کی بھیک لینے کی وبا عام ہے۔ حیدرآباد اور دوسری ریاستوں کے بے شمار شریف اور خودداروں کی طرح یہاں بھی ایسی ہی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جو کبھی یہ نہیں کہتی کہ ہم نے جہیز یا دعوت مانگ کر لی ہے۔ ہر شخص یہی کہتا ہے کہ ہم نے کوئی شرط نہیں رکھی، لڑکی والوں نے اپنی خوشی سے دیا ہے۔جب کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دینے والا بھی انہی کی طرح کی حیثیت والا ہے۔ لیکن لڑکی پیدا کرنے اور اسے بڑا کرنے کے جرم میں بھیک ، چندہ یا قرض مانگ کر یا حلال و حرام کی پروا کئے بغیر کما کر یا پھر اپنے بیٹوں کا حق مار کر یا اپنے بڑھاپے کی مددگار آمدنی کو تج کر وہ جہیز اور دعوت کا انتظام کر رہا ہے۔

اہلیانِ مغربی بنگال سے خصوصی درخواست:
کلکتہ والوں کو یاد رہے کہ شیر شاہ سوری اور دیگر مسلم فرمانرواوں کی بنائی ہوئی سڑکیں، مدرسے اور عمارتیں جو اگرچہ کہ آج ہمارے کردار کی طرح بوسیدہ ہو چکی ہیں لیکن یہ یاد دلاتی ہیں کہ مسلمانوں نے اس ملک کو ایک تہذیب اور تاریخ دی ہے۔
بنگال کی سرزمین وہ سرزمین ہے جہاں سے سراج الدولہ نے سب سے پہلے اس ملک کی حفاظت کیلئے انگریزوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا۔ وندے ماترم جیسی ناپاک، مسلم دشمن تحریکوں نے انگریزوں سے ہاتھ ملا کر نہ صرف دشمن کے ہاتھ مضبوط کئے بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی اتنی کردار کشی کی کہ آج بھی ایک مسلمان تاریخ کے آئینے میں اپنا مسخ کیا گیا چہرہ دیکھ کر گھبراتا ہے۔ ہمارے علما نے انگریزوں کا مقابلہ اسطرح کیا کہ ان کی لائی ہوئی ہر شئے کو حرام قرار دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ انگریزی تعلیم، تعلیمِ نسواں، فیملی پلاننگ، بنک ، انشورنس، سرکاری نوکریاں، انگریزی لباس وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان انگریزوں کا ساتھ دینے والی قوم کے طریقوں کو حرام نہیں کیا۔ جسکی وجہ سے آج جہیز جیسی لیںت مسلمان معاشرے کو دیمک کی طرح ختم کر چکی ہیں۔ ا
ٓج وقت آگیا ہے کہ جس قوم نے ان کی تاریخ ، تہذیب اور دین کو مسخ کیا ہے اس سے بدلہ لیا جائے۔ یہ ہر مسلمان پر ایک قرض ہے۔ لیکن یہ بدلہ ان فرقہ پرست پارٹیوں کی طرح نہیں لیا جا سکتا جو نہتے انسانوں پر وار کرتی ہیں اور بستیوں کی بستیاں جلا ڈالتی ہیں۔ اسکا طریقہ مکّی زندگی کے اس اسوہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی روشنی میں سیکھا جا سکتا ہے جس میں ظلم کا مقابلہ صرف صبر اور دعوت اور تعمیرِ کردار کے ذریعے ممکن ہے۔ جہیز کو مٹا کر آج ہر مسلمان پوری مشرک ہم وطن قوم کو اتنا بڑا پیغام دے سکتا ہے کہ بغیر جنگ کے وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ جہیز کا مسئلہ پورے ہندوستان کا ہے۔ اسمیں ہر مذہب کے افراد بری طرح پس رہے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر ہم عورتوں کو انصاف مہیا کر سکیں تو ہزاروں بچیاں جو بطنِ مادر میں ہی مار ڈالی جاتی ہیں، ہزاروں دلہنیں جو جلا دی جاتی ہیں، ہزاروں عورتیں جو خودکشی پر مجبور ہوجاتی ہیں، لاکھوں باپ اور بھائی جو قرضوں، سود، یا پھر چوریوں اور دھوکے پر مجبور ہوتے ہیں ۔۔۔ ہم ان تمام کیلئے ایک مسیحا بن کر اٹھ سکتے ہیں اور کروڑہا افراد کیلئے ایک ایسی دعوت کا ذریعہ بن سکتے ہیں جس کے ذریعے انہیں چلتا پھرتا اسلام نظر آئیگا اور وہ اسلام کے قدموں میں ہونگے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہر مسلمان اٹھے اور اپنی شادیوں کو مکمل آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طریقے پر کرے اور معاشرے میں زنا کو مشکل کر ڈالے۔ ہمارے امیر اور خوشحال لوگ دولت کے دکھاوے کی کم ظرفی سے باز آئیں اور اپنی اولادوں کی شادیاں علی(رضی اللہ عنہ) و فاطمہ(رضی اللہ عنہا) کے طریقے پر کریں۔ مرد اپنا مال خرچ کرے اور لڑکی والوں کی جانب سے چاہے خوشی سے دیا جائے یا سسٹم کے نام پر یا مطالبے و فرمائش کے ذریعے، ہر ایسے مال چاہے وہ بستر ہو کہ نقد رقم، موٹر ہو کہ سائیکل اسکو حرام جانیں۔ اگر مسلمان یہ خودداری پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو ان شاءاللہ ان کی نشاۃ ثانیہ کاآغاز ہوگا۔

محمد عمر خان صاحب جنرل سکرٹری "رحمہ فاونڈیشن" و "بنگال ایجوکیشن ٹرسٹ"کلکتہ کی ایک اہم، انتہائی متحرک اور انٹلکچول شخصیت کے مالک ہیں۔ قوم کی فکر سے صبح کرتے ہیں اور خدمت خلق میں پورا دن اپنے آپ کو تھکا کر یہی فکر ذہن پر لے کر سوتے ہیں۔ہر حلقہ فکر میں ان کی خوب رسائی ہے۔ انہی کی سرپرستی میں ہر جلسے یا اجتماع میں بے شمار افراد کا جمع ہو جانا اور بعض اوقات دو ، دو گھنٹے تک کھڑے ہوکر پورے انہماک سے سننا اور جہیز روکو مہم کی ہاتھ اٹھا اٹھا کر تائید کرنا اس بات کا ثبوت ہیکہ اس وقت جہیز کے خلاف ہر دل میں نفرت اور ہر ذہن میں احتجاج ابل رہا ہے۔ وہ ہر ایسی اجتماعی کوشش کا ساتھ دینے بے چین ہیں جو ان متاثرین کی مسیحائی کرے اور جہیز کے دلدل سے انہیں باہر نکالے۔ اگرچہ کہ ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں ریاستِ بنگال میں سب سے زیادہ مسلمان آباد ہیں لیکن ان کی معاشی، اخلاقی ، تعلیمی اور سیاسی حیثیت دوسری ریاستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پست ہے۔ یا سازشاً کر دی گئی ہے۔
جسٹس ساچر نے غالباً یہیں سے اپنا سروے شروع کیا جسکی بنا انہیں یہ کہنا پڑا کہ پچاسی فیصد مسلمان سطحِ غربت سے بھی نیچے ہیں۔ اسی لئے شائد ان میں حیدرآباد کے مسلمانوں کی طرح اپنی ایک طاقتور مسلم پارٹی بنا کر "کنگ میکر" کا رول ادا کرنے کا شعور نہیں ہے۔ اور نہ اسکی ہمت ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بغیر ہریجنوں کے مدد کے وہ آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ دینی و اخلاقی پسماندگی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اگرچیکہ عام مسلمانوں میں اسلام سے محبت پائی جاتی ہے لیکن علم و عمل سے کورے ہیں۔ جو کچھ جذبہ دینی پایا جاتا ہے وہ محض ان مدرسوں کے جال سے ہے جو پورے بنگال میں پھیلا ہوا ہے۔ لیکن ان مدارس میں وہی نصابِ تعلیم رائج ہے جو دیڑھ دو سو سال قبل اُس وقت کی ضروریات کے پیشِ نظر مرتّب کیا گیا تھا لیکن اب آوٹ آف ڈیٹ ہو چکا ہے۔ اسلئے یہاں سے جو لوگ فراغت حاصل کر کے نکل رہے ہیں سوائے ایک دو فیصد کے باقی سارے فقط امامت، مؤذّنی یا تدریس کے کچھ اور قابلیت نہیں رکھتے۔حُفّاظ کی ایک فوج ہے جو قرآن کے معنی و مطالب سے بے بہرہ ہے۔ علما و مفتیوں کی ایک عظیم تعداد ہے جن کی پوری سوچ اور تگ و دو محض فقہی مسائل، علمی موشگافیوں یا صوفیانہ فلسفہ کے اطراف گھومتی ہے۔ ایسے علما و و خطباء کے زیرِ سایہ جو قوم آگے بڑھ رہی ہے اسکے نزدیک حقیقی اسلام کا شعور بیدار کرنے اور اسے نافذ کرنے اور اسکی دعوت کا ذریعہ بننے کے شعور کا فقدان ہے۔
مثال کے طور پر جہیز ہی کو لے لیجئے۔ کون نہیں جانتا کہ یہ قرآن و حدیث کی روشنی میں نہ صرف حرام ہے بلکہ یہ دورِ حاضر کا ایک ایسا فتنہ ہے جو بے شمار بدترین برائیوں کی جڑ ہے جیسے غربت و افلاس کی وجہ سے ۔۔۔ اخلاقی اقدار سے فرار، قرآن و سنّتوں کی کھلی خلاف ورزی، مردانہ و زنانہ جسم فروشی، عورتوں میں بے راہ روی، خوشحال لوگوں میں دین بیزاری، لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادیاں، لڑکیوں کی شادی کے اخراجات کی پابجائی کیلئے لوگوں کا جھوٹ، چوری، دھوکہ، رشوت وغیرہ کو جائز کر لینا ۔۔۔ ایک طرف یہ بے دینی اور جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں تو دوسری طرف ہماری مذہبی اسٹابلشمنٹ کے پاس وہی گِھسے پِٹے مسائل ہیں جو فروعی ہیں۔ اصل اسلام جن سے معاشرے میں عدل و انصاف قائم ہو، جن سے دوسری قوموں میں دین کو سمجھنے کا داعیہ پیدا ہو، امانت داری، پاکی و صفائی، حلال کاروبار، جائز خرچ وغیرہ کا چلن پیداکرنے والا نصاب نہ مدرسوں میں ہے شامل ہے اور نہ اقامتِ دین کا مضمون ۔ اگر ہیں بھی تو تھیوری کی حد تک، پراکٹیکل نہیں۔ جماعتیں بھی اپنے مخصوص ایجنڈے لے کر چلتی ہیں۔ اصلاحِ معاشرہ ان کا اصل ہدف نہیں ہوتا بلکہ اصلاحِ معاشرہ پر تقریریں کروانا اور جلسے جلوسوں کے ذریعے اپنے کارکنوں کو تازہ دم رکھنا اور انہیں ہوم ورک میں مصروف رکھنا ان کا اہم مسئلہ ہوتا ہے۔ اسلئے بے شمار اصلاحِ معاشرہ کے جلسے ، سیمینار، رسائل و مدارس ہونے کے باوجود مسلمانوں کا دینی واخلاقی گراف مسلسل زوال پذیر ہے۔

اس سلسلے میں "رحمہ فاونڈیشن " نے بہت اچھا قدم اٹھایا ہے۔ وہ یہ کہ مدارس کے اخراجات کی ذمہ داری وہ اپنے سر لے کر علما و اساتذہ کو چندے کرنے کی ذمہ داری سے آزاد کر دیتے ہیں۔ البتہ نصاب اور انتظامیہ پر اپنی مانیٹرنگ باقی رکھتے ہیں۔ ورنہ علما و اساتذہ کیلئے چندے وصول کرنا نہ صرف ایک تکلیف دہ کام ہے بلکہ اس سے اکثر مدارس میں بدعنوانیاں اور رسوائیاں پیدا ہوئی ہیں۔ چونکہ اماموں اور اساتذہ کی تنخواہیں ایک ہزار تا دو ہزار روپئے ہی ہوتی ہیں۔جو کہ ہمارے پیٹ بھرے طبقے کے بچے ایک ہی مرتبہ کے کھانے کیلئے برگر یا آئس کریم میں اڑا ڈالتے ہیں۔ان اماموں یا اساتذہ کی تنخواہ کا تعین اس کسوٹی پر بھی ہے کہ وہ کتنی اعانتیں وصول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رحمہ فاوندیشن کے تحت ابھی تو پندرہ سولہ مدارس ہی ہیں لیکن چونکہ اسمیں شہر کے نامور تاجر، رہنما، اور علما و دانشور بشمول محمد قمرالدین ملک، ایوب کولیا، پروفیسر عبدالرحیم وغیرہ جیسی معزّز ہستیاں شامل ہیں، اسلئے ان کے ذریعے اعانتوں کا حصول علما یا اساتذہ کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ ان شاءاللہ رحمہ فاوندیشن کے تحت مدارس کی تعداد بڑھے گی، نصاب میں تبدیلی آئیگی۔ کم سے کم ایک دو ایسے مضامین ضرور شامل کئے جائینگے جن کے ذریعے طلبا میں روزگار کے حصول میں آسانی ہوگی۔ اور اسطرح دیوبند، ندوہ اور بریلی جیسے عظیم دینی مراکز کی طرح کلکتہ میں بھی ایک دینی مرکز وجود میں آجائیگا۔

زکوٰۃ خیرات و چندوں کے پروردہ ان مدرسوں میں جہاں یتیم، مسکین اور محتاج گھرانوں کے بچے محض تین وقت کی روٹی اور تن پر کپڑے کی خاطر ہی پڑھتے ہیں ، ان میں لاکھ برائیاں سہی، ان کے نصاب میں لاکھ کمزوریاں سہی لیکن ان کا ایک کارنامہ ہم فراموش نہیں کر سکتے کہ کل یہی بچے ہوں گے جن کی وجہ سے ہندوستان کی ہر گلی میں اذان کی آوازیں گونجیں گی اور جنکی تدریسی خدمات کی بنا ہی گھروں اور مسجدوں میں قرآن کی تلاوت بلند ہوگی۔ ورنہ لاکھوں روپئے خرچ کرنے والے امیر گھرانوں کے لڑکے جو ڈاکٹری، انجینئرنگ یا کمپیوٹر وغیرہ میں ماہر ہوں گے وہ تو کبھی آکر نہ مسجدوں کی صفائی کریں گے نہ اذانوں یا تلاوتوں سے مسجدوں اور گھروں کو آباد کریں گے۔

ایک اہم شخصیت ڈاکٹر مہناز وارثی سے ملاقات ہوئی۔ افلاس ، کثرتِ اولاد اور گندگی سے معمور پسماندہ بستیوں میں جہاں غربت کی بیماری کئی ایک اخلاقی اور جسمانی بیماریوں کو جنم دیتی ہے ایسی بستیوں میں غریب ولاوارث بچوں اور عورتوں کیلئے اس خاتون نے جو مردانہ وار ہمت و حوصلے سے خدمت کا کام کیا ہے وہ ہر مرد کیلئے ایک عبرت ہے۔ بلکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی ہے۔ ان کا "پریمے آشا " فاونڈیشن مالدار اور خوشحال افراد کی توجہ کا طالب ہے۔ سینکڑوں لڑکیاں ہیں جن کو مزدور پیشہ باپ تعلیم نہیں دلا سکتے اور نہ اسکے قائل ہیں۔ کیونکہ ان کی طالبانی سوچ یہ ہیکہ اگر لڑکی پڑھنا اور لکھنا سیکھ جائیگی تو لڑکوں کو چٹّھی لکھنا سیکھنا شروع کر دے گی۔ یہ لوگ لڑکیوں کی شادی کیلئے جہیز اور دلہا کیلئے نقد رقم کا انتظام نہیں کر سکتے اسلئے لڑکیاں بڑی ہو کر بڑے لوگوں کے گھر کام کرنا اور روزی کمانا شروع کرتی ہیں۔ رفتہ رفتہ امیر گھرانوں کے نوجوانوں کے شوق کا شکار ہونے لگتی ہیں۔ انہیں ٹِپ میں کافی پیسے ملنے لگتے ہیں جسے دیکھ کر بستی کی دوسری لڑکیاں بھی ان کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں۔ ابارشن [Abortion] عام ہے۔ کئی عورتیں نومولود بچوں کو "پریمے آشا" کی دہلیز پر چھوڑ جاتی ہیں۔ مسلمان ماں باپ عام طور پر ایسی بیٹیوں کو در بدر کر ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بے گھر ہو جاتی ہیں۔ ایسی درماندہ لڑکیوں کیلئے کہیں کوئی آسرا نہیں ہوتا۔ یا تو وہ کسی چرچ یا پھر آشرم یا پھر قحبہ خانوں کے حوالے ہو جاتی ہیں۔ ایسی عورتوں کیلئے محترمہ نے ایک امان گھر بنانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ جو کسی مسلمان کی جانب سے ہندوستان میں اپنی نوعیت کا پہلا امان گھر ہوگا۔

مسلم انسٹیٹیوٹ کلکتہ میں برسہابرس سے تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہاں سے نکلنے والے بے شمار طلبا آئی ٹی، انجینئرنگ اور میڈیسن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ساری دنیا میں پھیل چکے ہیں۔ یہاں پر خطاب سے ہماری مہم کا آغاز ہوا ۔ پروفیسر تاریخ جناب محمد سلیمان خورشید، جنرل سکریٹری مسلم انسٹیٹیوٹ نے صدارت فرمائی۔اور جوائنٹ سکریٹری جناب ڈاکٹر عقیل احمد عقیل نے نظامت کی۔ شہر کی کئی اہم شخصیات جیسے محمد قمرالدین ملک، ایوب کولیا، پروفیسر عبدالرحیم سابق پرنسپل بنگا باشی کالج کے علاوہ کئی ادبا، شعرا، دانشور، صحافی اور علما و مفتیانِ کرام موجود تھے۔ ڈاکٹر عقیل احمد ایک ذہین اور متحرک انسان ہیں۔ اردو سے ان کی محبت اور اسکا مطالعہ اس نسل کے نوجوانوں میں بہت کم پایا جاتا ہے۔ ایک اور اہم شخیتل جو کہ کلکتہ کے نامور زمیندار و تاجر ہیں جناب عرفان شیر صاحب جو اپنا بیشتر مال اور وقت ملّی کاموں پر صرف کرتے ہیں۔ جہیز روکو مہم کیلئے ان کی دلچسپی اور خلوص کی بنا ہم اور عمر خانصاحب کلکتہ کے دور دراز کے علاقوں تک پہنچ سکے۔ راستے ایسے ناہموار اور پر خطر بھی تھے کہ نازک پگڈنڈیاں تھیں جن پر بمشکل ایک کار گزرنے کی گنجائش ہوتی اور سڑک کے دونوں جانب دریا۔ ذرا سی غلطی موت کا سبب بن سکتی تھی لیکن جس مہارت کے ساتھ عرفان شیر صاحب گاڑی ایسے خطرناک موڑ سے بھی نکال لیتے تھے کئی جگہ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔

اس مہم میں علما کرام نے زبردست ہمت افزائی فرمائی۔ زیادہ تر جلسوں کا انتظام و انصرام اسی موقر طبقہ نے فرمایا اور انہی کی صدارت، نظامت اور ہماری تقاریر کے بنگالی میں ترجموں کی وجہ سے عوام میں جوش و خروش پیدا ہوا۔ کوئی اجتماع ایسا نہیں تھا جہاں سامعین کی ایک بڑی تعداد نے ہاتھ اٹھا کر جہیز اور دعوت کے بائیکاٹ کا اجتماعی عہد نہ کیا ہو۔ عام جلسوں کی نوعیت یہ ہوتی تھی کہ اسٹیج تو سڑک کے کنارے ایک چھوٹے سے پلیٹ فارم پر ہوتا اور کچھ بچے اور نوجوان اسٹیج کے سامنے جمع ہوتے لیکن دور دور تک گلیوں میں اور سڑکوں پر لاوڈ اسپیکر لگا دیئے جاتے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں ہر لاوڈاسپیکر کے اطراف لوگ جمع ہو جاتے اور ایک میلے یا عرس کا سماں ہو جاتا۔ وہ علما جنہوں نے ہماری رہنمائی فرمائی اور اپنے مدرسوں میں خصوصی خطاب کا اہتمام کیا ان میں کانکی نارا مسجدِ اسحاق سردار کے مولانا نثار قاسمی صاحب، مالنچک مدرسہ الباقیات کے مولانا محی الدین اور مولانا نثار احمد قاسمی جو انگریزی، بنگالی اور اردو کے بہترین مقرّر اور مترجم بھی ہیں۔ مدرسہ خواجہ غریب نواز امین پورہ کے ڈاکٹر مولانا عمر فاروق صاحب، دارلعلوم مہیش گدّی کے مولانا امین الاسلام صاحب ہیں۔
یونیورسٹیوں میں سالانہ کانوکیشن کے موقع پر خصوصی لکچر تو ہوتے ہیں لیکن کسی دینی درسگاہ کے سالانہ تقسیم اسناد کے موقع پر جہیز کے موضوع پر خصوصی لکچر رکھوانا یہ ایک نیا کارنامہ تھا جو مدرسہ مہیش گدی کے مولانا امین الاسلام صاحب نے کیا۔ کانکی نارا میں نوجوانانِ "تحریکِ اصلاحِ معاشرہ" شاہد جلال اور جاوید نہال حشمی ، دونوں برادران تحریکی جذبے سے معمور ہیں۔ ان ہی کی (ایما) پر کانکی نارا کے عوام میں جہیز کے خلاف بیداری جاگی۔ اسکے علاوہ گارڈن بیچ مٹیا برج کی جامعہ مسجد میں جہاں مولانا امین الاسلام قاسمی صاحب کا خطبہ جمعہ ہوتا ہے انہوں نے انتہائی اعلیٰ ظرفی اور حکمت برتتے ہوئے خطبہ کا موقع ہمیں عنایت فرمایا۔ یہ ایک اچھی اور انوکھی مثال ہے۔ورنہ پورے ہندوستان میں برسہابرس ایک ہی خطیب صاحب ممبر پر قابض ہوتے ہیں۔ چاہے کوئی ان کی تقریروں سے لاکھ بور ہو وہ کسی کو ممبر چڑھنے نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہیکہ ہر مسجد میں اگرچہ کہ خطبے سے قبل اردو یا دوسری مقامی زبانوں میں بیان کا انتظام ہے لیکن کوئی نوجوان ان کا بیان ختم ہونے سے پہلے مسجد میں داخل نہیں ہوتا۔ اس سسٹم کو بدلنا چاہئے۔ جمعہ کے خطبوں کو ایک ہی خطیب کے بجائے مختلف علما دانشوروں، تعلیم یافتہ دین کا درد رکھنے والے اور سوچنے اور غور کرنے والے افراد میں باری باری تقسیم ہونا چاہئے۔ بہرحال مولانا امین الاسلام صاحب کی مہربانی کے باعث ہمیں مٹیابرج کی مسجد میں جمعہ کا خطبہ اردو میں دینے کا اتفاق ہوا اور کئی نمازیوں نے مسجد میں عہد کان کہ وہ جہیزجیسے حرام سے بچیں گے اور لڑکیوں کے والدین پر ڈالے جانے والی کھانے کی دعوتوں سے پرہیز کرینگے۔

ٓآخری اجتماع جناب عرفان شیر صاحب نے اپنے ہال میں منعقد کیا اور اپنے خاندان و احباب کی ساری خواتین کو جمع کیا۔ اس قسم کے سامعین کا یہ ایک شاندار اجتماع تھا اسلئے کہ جہیز کی لعنت کو بڑھاوا دینے والی اصل میں خواتین ہی ہیں جنکی تربیت کی ضرورت ہے۔ عورت کی اصل دشمن عورت ہی ہے۔ ایک عورت جو جانتی ہے کہ بیٹی کی شادی کیلئے اسے شوہر اور بیٹوں کو کن کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہ یہ بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ خود اسکی شادی کیلئے اسکے مانباپ اور بھائیوں کو کتنی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔ اسکے باوجود جب وہ اپنے بیٹے یا بھائی کیلئے دلہن کی تلاش میں نکلتی ہے تو بے حِس اور بے غیرت ہوجاتی ہے۔ آنے والی لڑکی کے والدین اور بھائیوں کو بھی انہی مشکلات میں ڈالتی ہے اور اپنا بدلہ لیتی ہے۔ اس پروگرام کی صدارت جناب عبدالعزیز صاحب امیر شہر کلکتہ جماعتِ اسلامی نے کی۔ اور اپنی مختصر اور پر اثر تقریر میں جہیز کی لعنتوں پر روشنی ڈالی۔
ایک اور اہم شخصیت جناب رحمن سرکار سے ملاقات ہوئی یہ ایک انقلابی نوجوان ہیں۔ بنگالی ہفتہ وار "کی خبر" اور ٹی وی چینل کے مالک ہیں۔ جہیز کی مہم کو انہوں نے اپنے اخبار اور ٹی وی پر بہت پراثر انداز میں بنگالی ترجمے کے ساتھ پیش کیا۔

آئیندہ پروگرام:
سوشیو ریفارمز سوسائٹی کا کتابچہ "مرد بھی بکتے ہیں ۔۔جہیز کیلئے" جو کہ اردو میں تھا ہر جگہ تقسیم ہوا اور بے حد سراہا گیا ۔ لیکن کلکتہ کے باہر کے علاقوں میں اسکے بنگالی ترجمے کی شدید مانگ تھی اسلئے جناب عمر خاں صاحب نے اسکے ترجمے اور اشاعت کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ ان شاءاللہ یہ کتابچہ دو تا تین مہینوں میں شائع ہو جائے گا۔ اسکی رسمِ اجرا کے بہانے پھر مغربی بنگال کے دوسرے علاقوں میں یہ مہم چلائی جائیگی۔ اور انٹر کالج تقریری مقابلوں کے ذریعے کئی لڑکوں اور لڑکیوں کو تیار کیا جائیگا جو مقرّرین کے طور پر ہماری مہم کا حصہ بنیں گے ان شاءاللہ۔ اس عظیم مشن سے دلچسپی رکھنے والے حضرات سے درخواست ہیکہ ہماری رہنمائی فرمائیں۔ اور ہم سے رابطہ رکھیں۔

نوٹ:
جہیز ، قرآن و حدیث و ائمہ کرام کی نظر میں کیونکر حرام ہے؟ شادی کے دن کا کھانا جو لڑکی والوں سے لیا جاتا ہے شریعت کی روشنی میں کیونکر ناجائز ہے؟
اسکی تفاصیل کیلئے ملاحظہ فرمایئے : www.socioreforms.com

Tags: ,
از طرف : علیم خان فلکی


Leave a Reply

XHTML: You can use these tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>