23 / جولائی / 2011 | خبر نامہ | 6 comments || از طرف: مبصر

قراردادِ جدہ بسلسلہ انسداد جہیز

رپورٹ : سلیم فاروقی ۔ جدہ

پہلی بارجدہ میں مختلف علماء اہلِ سنت و الجماعت اور اہلِ تشیع کا ایک اسٹیج سے خطاب
ایسی شادیوں میں جہاں لڑکی والوں کی طرف سے جہیز اور وداعی کے دن کا کھانا دیاجائے ان شادیوں میں شرکت کا بائیکاٹ کیا جائیگا ۔
علماء نے دستخطی تائید کی اور عوام نے نہ صرف ہاتھ بلند کیا بلکہ دستخط بھی کئے۔

Scholars at Jeddah Seminar _ 20th July 2011

20 جولائی 2011ء کو منعقدہ ایشین ڈیلائٹ ریسٹورنٹ، جدہ میں ایک تاریخی اجتماع میں مختلف مسالک و مذاہب سے وابستہ علما کرام نے جہیز اور وداعی کے دن کے کھانے کے موضوع پر مکمل ہم آہنگی دکھائی اور یہ واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی مسلک میں کوئی اختلاف نہیں کہ جوڑے جہیز اور دیگر رسومات جو ہندو دھرم سے لئے گئے ہیں وہ شریعت اسلامی کی مکمل خلاف ورزی ہیں ا یسی شادیوں میں شرکت کا بائیکاٹ کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔جناب احمدالدین اویسی صاحب نے صدارت کی۔
اس اجتماع کے تاریخی ہونے کی ایک اور وجہ یہ بھی رہی کہ پروگرام کے آغاز میں بجلی چلی گئی اور ایرکنڈیشنڈ بند ہوگئے۔ لوگ پسینے میں شرابور ہونے لگے لیکن سامعین کی اس موضوع سے دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ تمام مرد و خواتین اپنی نشستوں پر جمے رہے ۔ ہندوستان اور پاکستان میں ایسا کئی بار ہوا کہ سامعین موسلادھار بارش میں یا سخت گرمی میں پورے صبر و تحمل کے ساتھ آخر تک تقاریر سنتے رہے لیکن جدہ کی تاریخ میں شائد یہ پہلی بار ہوا کہ لوگوں نے پسینے میں نہاتے ہوئے تمام مقررین کو پوری دلچسپی کے ساتھ سنا۔
مولانا محمد بانعیم صاحب خطیب مسجد عبدالرحمان، جدہ جن کا تعلق جمیعت العلماء ہند سے ہے، جو ہندوستان اور جدہ میں کئی مدارس کے قیام میں سرگرم رہے ہیں انہوں نے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والی تقریر میں فرما یا کہ جہیز اور وداعی کے دن کا کھانا ایک ایسا ناسور ہے جس کا علاج محض نصیحتوں سے نہیں صرف آپریشن سے ہونا لازمی ہے۔ جہیز اور دعوتیں تفاخر یعنی ایک دوسرے پر سبقت ، ریاکاری اور نام و نمود کیلئے ہوتے ہیں اسلئے یہ اسراف کی تعریف میں داخل ہیں اور اسراف اسلام میں حرام قرار دیاگیاہے۔ مولانا بانعیم صاحب نے حدیث "نکاح کو اتنا آسان کرو کہ زنا مشکل ہوجائے" کے حوالے سے فرمایا کہ آج حریص لڑکے والوں نے اور اسراف پسند لڑکی والوں نے مل کر جوڑے جہیز کے ذریعے معاشرے میں زنا کو آسان کردیاہے۔ سنّت کے مطابق اگر کوئی سادگی سے ولیمہ دے تو اسکی دعوت کا مذاق اڑایاجاتاہے۔ قرارداد کی تائید کرتے ہوئے مولانا بانعیم صاحب نے فرمایا کہ ایسی تمام دعوتیں جو سنتوں کا مذاق اڑانے کا باعث بن رہی ہیںان کا بائیکاٹ کیا جانا چاہئے۔
دوسرے معروف عالمِ دین مولانا فضل الرحمٰن صاحب تھے جنکا تعلق جمعیت اہلِ حدیث پاکستان سے ہے، پچھلے تیس سال سے جدہ میں دعوت و تبلیغ کی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔آپ نے حدیث "النکاح من سنتی" کے حوالے سے فرمایا کہ جو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت پر نکاح کو انجام نہیں دیتا وہ سب سے بڑا باغی ہے۔ ایک اور حدیث کہ ـ"اگر تم لڑکا یا لڑکی کے انتخاب میں دینداری کو نہ دیکھوگے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم فتنہ و فساد میں مبتلا ہوجاوگے"کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آج پوری قوم فتنے میں مبتلا ہوچکی ہے۔ خوشی سے لین دین کے نام پر دکھاوا اور اسراف سب سے بڑا فتنہ ہے۔ "لا تبذروا تبذیرا۔۔" یعنی حکم قرآنی کہ "اسراف نہ کرو" سے بغاوت ہے۔ کوئی حکومت جب بغاوت کو برداشت نہیں کرسکتی تو اللہ پاک اس بغاوت کو کیسے برداشت کرسکتاہے۔ جہیز کی رسم کی وجہ سے ہر شخص حلال و حرام کی پروا کیئے بغیر کمائی پر مجبور ہوجاتاہے اور پورا معاشرہ اخلاقی طور پر تباہ ہوجاتاہے۔ قرارداد کی تائید میں یہ فرمایا کہ جب جہیز ایک مکمل غیر اسلامی رسم ٹھہری اور وداعی کے دن کا کھانا ایسا عمل جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا نہ کسی صحابی نے تو پھر کسی شخص کا ررسم و رواج یا برادری کے طور طریق کے نام پر کرنا اور لوگوں کا ایسے موقعوں پر شرکت کرنا فتنہ و فساد کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے ان کا بائیکاٹ کرنا لازمی ہے۔
شیعہ برادری کے معروف عالم جناب شیخ ہدایت شیخ حامد نے اپنی شعلہ بیان تقریری جوہر کے ذریعے جہیزِ فاطمی کو حیلے بنانے والوںکے خلاف خوب دلائل پیش کئے اور فرمایا کہ ہندوستان اور پاکستان میں مروّجہ جہیز کا نظام فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے جہیز کی مکمل ضد ہے۔ اسلئے اسے حرام کہنے میں کوئی شبہ نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جس چیز کو جہیز کہا اور جو جہیز کے طور پر حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو دیا وہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے دی گئی مہر کی رقم میں سے تھا۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جہیز اس چیز کو کہتے ہیں جو مرد اپنے مال میں سے دے نہ کہ لڑکی کے مال سے۔ شیخ ہدایت صاحب نے کہا کہ ایک لمحہ عمل کرنا صدیوں تک تقریر کرنے سے بہتر ہوتاہے۔آج وہ مرد نہیں پائے جاتے جو اپنے گھر سے عمل شروع کرنے کی ہمت رکھتے ہوں ہر شخص چاہتا تو ہے کہ جہیز کا خاتمہ ہو لیکن اپنے گھر سے نہیں بلکہ پڑوس کے گھر سے۔ اگر آج ایک بھی شخص عہد کرلے کہ وہ جہیز کے بغیر شادی کرے گا تو یہ اجتماع کامیاب ہے۔ قرارداد کی مکمل تائید کرتے ہوئے انہوں نے تمام سامعین کو عہد کرنے کی تلقین کی۔
جامعہ نظامیہ دکن جسے جنوبی ہندوستان کی ایک اسلامی یونیورسٹی کا مقام حاصل ہے اسکے فارغ عالم دین جناب محمد عبدالقدیر طاہر قادری صاحب نے فرمایا کہ جہیز ایک ہدیہ تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہدیہ دینے کی تلقین فرمائی تھی لیکن آج اس ہدیہ کو الٹ کر لوگوں نے بھیک میں تبدیل کردیا۔ اور بھیک اسلام میں جائز نہیں۔ حدیث کہ "دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے" کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ چاہے وہ خوشی سے دیا جائے یا فرمائش پر یا مطالبے پر، بہرحال لیا جاتا ہے اور لینے والے کا ہاتھ نیچے والے کا ہاتھ ہوتا ہے یعنی مانگنے والے کا۔لوگوں میں غیرت اور خود داری کا شعور پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ جہیز اس دور کی سب سے بڑی لعنت ہے اسکے تدارک کیلئے حکمت و موعظت کے طریقوں کو اپناتے ہوئے اس لعنت کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
مدینہ یونیورسٹی سے فراغت حاصل کرنے والے عالم دین جناب ارشد بشیر مدنی جو ای ٹی وی اردو کے ذریعے معروف ہیںجدید تعلیم سے لیس ہیں انگلینڈ سے ایم بی اے بھی حاصل کرچکے ہیں اپنے مختصرخطاب میں انہوں نے سرکاری اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ جہیز کی لعنت نے کسطرح عورت ذات پر زندگی حرام کردی ہیکہ لڑکیوں کا قتل جسے اسلام نے حرام قرار دیا آج جہیز کی مجبوری کی وجہ سے جائز ہوچکاہے۔ لوگ بطنِ مادر میں ہی یا پیدا ہوتے ہی ہزاروں بچیوں کا قتل کرڈالنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے لفظ جہیز کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لفظ مردوں کے جہاد میں استعمال کرنے والے ہتیار اور دوسرے جنگی سازو سامان کے لئے بولا گیا لیکن افسوس کہ آج مردوں نے اس لفظ کا اطلاق عورت سے مفت میں حاصل ہونے والے مال پر کردیاہے۔ اگرچہ کہ سرکار خو د بھی اس رسم کو مٹانے کی قانونی کوششیں کررہی ہے لیکن جب لوگ خود اپنے رسولﷺ کی پروا نہیں کرتے وہ لوگ سرکار کے قانون کی کیا پروا کرینگے۔ مدنی صاحب نے جہیز کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ ایک غیر قوم کی رسم ہے اسی بنا پر حرام ہے اور ایسی شادیوں میں جہاں جہیز وداعی کے دن کے کھانوں اور دیگررسموں کے لئے دعوت دی جائے ان میں شرکت بھی ناجائز ہے۔
علیم خان فلکی جنہوں نے اس سیمینار کا انعقاد کیا اس موضوع پر کئی تحقیقی مقالے اور کتابوں کے مصنف بھی ہیں ہندوستان کے کئی مقامات پر اس مہم کے حوالے سے جانے جاتے ہیں کہا کہ ہم جہیز کو حرام کہتے ہیں نہ وداعی کے دن کے کھانے کو۔ اور نہ کوئی انہیں حرام قرار دینے کی جرات کرسکتاہے۔ اسلام میں جہیز کی بھی روایت ہے اور وداعی کے دن کے کھانے کی بھی۔ فرق یہ ہیکہ پوری اسلامی تاریخ اور فقہ میں جس جہیز اور وداعی کے دن کے کھانے کی اجازت ہے وہ مرد کے خرچ پر ہے نہ کہ عورت کی طرف سے۔ اسلئے علما نے اسے حرام قرار دیا ہے کیونکہ اسمیں قرآن کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔اسکے حرام ہونے کی وجوہات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فی زمانہ وہ تمام علتیں جو کسی شئے کو حرام قرار دیئے جانے کیلئے لازمی طور پر دیکھی جاتی ہیں وہ تمام جہیز میں پائی جاتی ہیں۔جیسے یہ ایک رشوت ہے جسکو ہدیہ یا تحفہ کہہ کر حلال کرلیا گیا۔ یہ ایک اسراف ہے جو حرام ہے۔اسمیں دکھاوا، دنیاداری، عزت، تفاخر، ریاکاری اور سوسائٹی کی برابری کی وجہ سے لوگوں نے یہ رویہ اختیار کرلیا ہے کہ کھلے شریعت کی توہین کررہے ہیں۔ اپنے رویہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر رسول اللہﷺ نے اپنی بیٹی کے نکاح پر کھانا نہیں کھلایا تو یہ ان کا کلچر نہیں ہوگا لیکن ہم لوگ زیادہ کلچرڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن نے "الرجال" یعنی مرد اسکو قرار دیا ہے جو اپنا مال عورت پر خرچ کرے۔ لیکن جو مرد عورت سے پیسہ ، پلنگ بستر اور دوسری چیزیں حاصل کرے وہ قرآن کی رو سے مرد کہلانے کا مستحق نہیں یہی وجہ ہے آج پوری سوسائٹی پر عورت کا زور ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی ساسوں اور نندوں کا منہ بند کرکے دکھائے۔ کوئی لڑکی کی ماں سے وہ خوف نکال کر بتائے جو اسے جہیز دینے پر مجبور کرتاہے کوئی بغیر جہیز لئے شادی کیلئے اپنی ماں اور بہن کو راضی کرکے بتاے۔ انہوں نے کہا کہ جہیز اور وداعی کے دن کے کھانوں کے اخراجات نے جن فتنوں میں مبتلا کر رکھا ہے ان میں سب سے بدترین فتنہ یہ ہیکہ وراثت کی تقسیم میں ناانصافی برتنے پر لوگ مجبور ہوگئے ہیں۔ ایک طرف لڑکیوں کو وراثت سے محروم کیا جارہاہے اس بنا پر کہ انہیں جہیز خوب دیا جاچکاہے۔ دوسری طرف جہیز کی خاطر مانباپ اپنی پوری پونجی بیٹی داماد پر خرچ کرڈالتے ہیں اور بیٹوں کو غلامی کی نوکریوں یا معمولی پیشوں کے کام پر مجبور کرڈالتے ہیں۔لوگ جہیز اور وداعی کے دن کے شاندار دعوتوں کے ذریعے دوسروں کے دلوں میں حسرت اور آرزوئیں پیدا کررہے ہیں اور انہیں بہنوں اور بیٹیوں کی شادی کیلئے ہر ناجائز ذریعہ آمدنی کا بہانہ فراہم کررہے ہیں۔اسی لئے آج مسلمان اخلاقی طور پر گراوٹ میں مبتلا ہیں۔
صدر محفل جناب احمدالدین اولیسی صاحب نے مبارکباد پیش کی کہ جہیز کے موضوع پر تمام مکاتبِ فکر کے علما نے ایک اسٹیج سے مخاطب کیا اور ایک ہی رائے دے کر یہ ثابت کردیا کہ ہمارے درمیان فروعی اختلافات چاہے جتنے ہوں اصل دین میں ہم ایک ہیں۔ہندوستان میں جہیز کی صورتِ حال کے جائزہ لیتے ہوئے فرمایا کہ اس مہم کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے بیرسٹر اسدالدین اویسی نے جہیز کے خلاف جنگی پیمانے پر کام شروع کردیاہے۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ ہمیشہ سوشیوریفارم کے حامی رہے ہیں اور آئندہ بھی ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ پچھلے چند دہوںقبل تک بھی یہ رسم نہیں تھی۔ نہ ایسا جہیز تھا نہ آج کی طرح کے وداعی کھانے تھے۔لیکن دولت کی رول پیل نے لوگوں کو اندھا کردیا ہے اور اندھادھند لوگ نہ آخرت کا خوف رکھتے ہیں اور نہ اس سے سماج میں پھیلنے والی برائیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔جسکی وجہ سے شادی آج ایک مشکل ترین ہوتی جارہی ہے اور لڑکیاں والے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ قراردادجیسی کوششوں کے ذریعے سوشیل ریفارم سوسائٹی جو کام کررہی ہے ایسے کام میں ہر شخص کو آگے بڑھ کر ساتھ دینا چاہئے۔اور ہر شخص کو اس جنگ کا آغاز اپنے گھر سے کرنا چاہئے۔
آخر میں علیم خان فلکی نے کہا کہ یہ جلسہ قرارداد جناب احمدالدین اویسی صاحب ہی کی تجویز کے نتیجے میں منعقد کیاگیا جنہوں نے کہا تھا کہ جہیز اور وداعی کے دن کا کھانے کا مسئلہ کہ یہ کہاں تک جائز یا حرام ہے یہ علما کے ہاتھوں طئے ہونا چاہئے کیونکہ وہی اس مسئلے پر کہنے کے مکلّف یا حقدار ہیں۔ہم انہی کے تابع ہیں۔ اسی لئے تمام مکاتبِ فکر کے علما کوجمع کیاگیا۔اور تمام نے من و عن وہی بات کی جو دین میں ہے۔اورکہا کہ لوگ سادگی کی شادی کا غلط مطلب سمجھتے ہیں۔ سادگی ہر شخص کے اپنے معیار کے مطابق الگ ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک لوگ سادگی سے مراد یہ عہدنہیں لیں گے کہ نکاح کے معاملات و تقاریب میں ہم وہی کرینگے جو رسول اللہ ﷺ نے کیا اور وہ ہرگز نہیں کرینگے جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ہماری شادیاں اور جہیز رام سیتا ، لکشمن اور دروپدی وغیرہ کے طرز پر ہوں اور ہماری دعا یہ ہو کہ ہماری اولاد حسن ؓ اور حسینؓ جیسی نکلے؟
انہوں نے کہا کہ اگر لوگ اس کام کا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو جہیز کو پہلے حرام جانیں، ایسی شادیوں میں شرکت کا بائیکاٹ کریں۔ جو لوگ لے چکے ہیں وہ واپس کریں۔
اختتام پرسلیم فاروقی صاحب نے اپیل کی کہ عوام علما اور قائدین ایسی شادیوں میں جاکر لوگوں کی نہ ہمت افزائی کریں اور نہ ایسی جگہ جاکر تصویریں لیں۔ اور کہا کہ اخبارات کے مالکان اور ذمہ داران کا بھی یہ فرض ہیکہ وہ ایسی خبروں اور اشتہارات کا بائیکاٹ کریں جس میں جہیز، اسراف اور دکھاوا ہے۔
ڈاکٹر ہارون سعید جنہوں نے اس کامیاب جلسے کے انتظامات کیئے، سامعین کا شکریہ ادا کیا۔
جناب شیخ ہدایت صاحب نے جہیز کے خلاف جہاد کرنے والے جہاںجہاں ہیں ان کی جانب سے سامعین کو یہ شعر نذر کیا کہ

مری کوشش کو سراہو مرے ہمراہ چلو
میں نے اک شمع جلائی ہے ہواوں کے خلاف

از طرف : مبصر


6 تبصرے برائے “قراردادِ جدہ بسلسلہ انسداد جہیز”

  1. itsme.saadgi :

    “قراردادِ جدہ بسلسلہ انسداد جہیز” کے تمام ارکان کو دل کی گہراییون سے دعا اور مبارکباد شکریہ

  2. Syed Asif :

    Salam Bradaran,

    Abid Sahab awal tu mein bolna nahi chahta tha but app nei sawal kara hai tu us ka jawab bhi suniay keh challenge kay saath jitni asal history aur haal aehwal un ko pata hai jinhon nei Quran aur Sunnat kay mutabiq Hadees e Saqlain par amal kartay huay Ahlay Bayt e Athaar ko apna leader banaya utni app ko bhi pata nahi hogi aur agar aisa hua tu zaroor agay peechay hogi ...

    Yeh 1 buhat acha step lia gaya hai keh tamam maslaq kay ulma jama huay aur apnay apnay maslaq kay logo tak 1 sahi message pohchaya jo keh ajj kal kay lihaz say wajib bhi hai aur farz bhi kyu keh shadi ko waqai mushkil bana dia aur Zana ko asaan jis mein sirf Jahaiz hi nahi balkeh aur buhat sari sources shamil hai jis mein sab say bara shaitan e buzurg ajj ka MEDIA hai ...

    anyway agar meri baat meray kisi bhai ya behan ko buri lagy tu maafi chahta hon but jo tanziya sawal hua tha us ka jawab dayna aur haqeeqat say agah karna hum nei apnay barho say seekha hai aur us par amal kara ...

  3. ہمیں صرف اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے، اور اس مہم کا انقعاد بہت ھی اچھی کوشش ہے، سب لوگ اس کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں، اللہ تعالی آپ سب کو اس کے لیے جزاۓ خیر عطا فرمائے، اور اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ ہم سب اچھی باتوں پر عمل کریں اور فضول رسومات کو چھوڑ کر بےجا اخراجات سے بچیں، آمین،!!!!

    بہت شکریہ
    عبدالرحمن سید
    جدہ سعودی عربیہ،!!!!

  4. Khalid Mirza :

    Apne iradon se tum hawaon ke rukh morh dow
    jawan dilon ko kum himmati raas nahin aati

  5. Khalid Mirza :

    I am totally agreed with the resolution passed. Inshallah I will also observe thecontents in my childrens' marriages by not taking any dowary (with consent or without) and i will try to avoid to give feast on the day of marriage, and will not attend feast of wedding ceremony.

  6. abdulaziz abid :

    رسول اللہ (ص) نے جہیز نہی دیا۔۔ بلکہ حضرت علی(رض) سے پوچھاتمھارے پاس کیا ہے حضرت علی (رض) نے فرمایا ایک زرہ بکتر ۔۔ اختصار اوس زرہ بکتر کیی قیمت سے مہر ادا کیا گیا اور کچھ ضروری سامان یعنی جسکو جہز کہتے ہین وہ دولہے کی رقم سے خریدا گیا۔۔ یہ تو رہی بات حضرت فاطمہ(رض) کی شادی کی تو بتلاؤ باقی تین حضور (ص) بیٹیوں(رض) کے تعلق سے معلوم بھی ھونا چاھئے کسطرح کی شادی ھوئی تھی

    جب جہز کا ذکر اور شادی کے ضیافت کا ذکر قران اور حدیث مین نہی ہے تو کیا یہ بدا ہے؟

    ھنود پر الزام رکتھے ھو کیا انھوننے اپ کے پاس اکر اسطرح کی تبلیغ کی۔۔ راجپوتوں کی شادی مین تو ساری بارات کو دولہ کے گھر ضیافت کی جاتی ہے۔۔ اسکو بھول گئے

    جامعہ ھدایت یہ ہے کہ نکاح کو اسان بناؤ اور زنا کو مشکل ھوجائے

    نکاح کے لوازمات مہر اور دو گواہ۔۔ انکو کیا معلوم جن کو وضو صیح نہی اتا

    نفسیات دان سے پوچھو شہوت کے اثر سے انسان اپنی نوے فیصد عقل کھو دیتا ہے۔۔ ارتداد کی وجہ ایک یہ بھی ہے

    سماجی طور سے دولہ کے مانباپ حریص ھوتے ہین اور دولہ کی ماں کے پاس ایک قانون ھوتا ہے۔۔ سینہ بسینہ چلتاہے سانچق، مہندی، گیارہ کشتیاں، کالی پوت کا لچھا

    ضیافت مین اتنے اگے بڑھگئے ہین انکا واپس انا مشکل ہے اسوقت جو دولہ ہے والدین ہین وہ پولیس اکشن کے بعد کا دور دیکھے چکے ہین۔۔ اکثر گاوں گنڈی سے ہین وہ غربت کا زمانہ بھول گئے اللہ کو خلیج کا راستہ کھولا ہے اوس کو اپنی جماعت کو بہتر بناو

    کچھ دن پہلے فلکی صاحب کے خلاف دائرہ المعارف کے اہلکار نے بہودے مثال دیکر مندرجہ بالا دو ملت کے کانسر کو واجبی ٹھرایا اور وہ سیاست مین چھپہ کالم ایڈیٹر صیح ھونا چاہے

    عبدالعزیز عابد

Leave a Reply

XHTML: You can use these tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>